وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کو مذہبی آزادی کے حوالہ سے ”بلیک لسٹ“ میں شامل کرنے کے فیصلہ پر حیرت کا اظہار

اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کو مذہبی آزادی کے حوالہ سے ”بلیک لسٹ“ میں شامل کرنے کے فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کو کم کرنے اور پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کیلئے اسے سیاسی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا …

اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کو مذہبی آزادی کے حوالہ سے ”بلیک لسٹ“ میں شامل کرنے کے فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کو کم کرنے اور پاکستان پر دباﺅ ڈالنے کیلئے اسے سیاسی حکمت عملی کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اس اقدام کی ٹائمنگ اس بات کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ بدھ کو جاری ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی آزادی کے حوالہ سے پاکستان کا ریکارڈ مثالی نہیں لیکن کیاگرجا گھروں پر پابندیوں، مسلمانوں کیلئے بعض لباس پہننے پر بندش اور بعض مبلغین کے داخلہ سے انکار جیسے متعدد اقدامات کے تناظر میں یورپی یونین کا ریکارڈ زیادہ بہتر ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور وہاں حکمران جماعت بی جے پی گائے کے ذبحہ پر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ہوا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے سکھوں کیلئے کرتارپور راہداری کھولنے کے بعد ایسے وقت میں امریکی اقدام سیاسی بلیک میلنگ کے علاوہ اور کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے مسلمانوں کو اجمیر شریف جیسے مذہبی مقامات پر آنے کی اجازت نہیں دیتا جبکہ پاکستان نے ہمیشہ ہندو زائرین کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کا بازو مروڑنے اور بھارت کو اقلیتوں کے مذہبی حقوق سلب کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اگر پاکستان میں مسیحی گرجا گھروں کی موجودگی سے لاعلم ہے تو اسے بتانے کیلئے تیار ہیں، پاکستان میں کیتھولک، میتھو ڈیسٹ، اینگلیکن، لوتھرن، بیپٹسٹ، پریس بائیڈین اور پینٹیکوسٹل نامی گرجا گھروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلموں کو اپنے مذہبی مقامات کی روشنی میں شادی اور طلاق کی مکمل اجازت ہے، پاکستان کے خلاف حالیہ امریکی اقدام حقائق کی بجائے مکمل طور پر سیاسی وجوہات پر مبنی ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو وزیراعظم پاکستان کا عوام سے کیا گیا وعدہ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے قوم سے عہد کیا ہے کہ پاکستان صرف اپنے مفادات پر عمل کرے گا اور کسی بھی بیرونی طاقت کیلئے کرائے کی بندوق نہیں بنے گا۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرے تاکہ اسے سدھار سکے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ امریکہ اگر مذہبی آزادی میں سنجیدہ ہے تو بھارت میں مودی سرکار اور یورپی یونین میں اپنے اتحادیوں کے طرز عمل پر بھی نگاہ ڈالے۔

مزید خبریں