اسلام آباد ۔ 12 دسمبر(اے پی پی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں ارکان قومی اسمبلی مولانا عبدل اکبر چترالی، آفرین خان، زاہد اکرم درانی، محمد انور،اسعد محمود، منیر خان اورکزئی، محمد جمال الدین، عبد الشکور، عبدالواسع، کمال الدین، صلاح الدین ایوبی، عصمت اللہ، سید محمود شاہ، جیمزاقبال، عالیہ کامران اور شاہدہ اختر علی نے شرکت کی۔ اجلاس …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی وفد سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر(اے پی پی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے متحدہ مجلس عمل کے پارلیمانی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں ارکان قومی اسمبلی مولانا عبدل اکبر چترالی، آفرین خان، زاہد اکرم درانی، محمد انور،اسعد محمود، منیر خان اورکزئی، محمد جمال الدین، عبد الشکور، عبدالواسع، کمال الدین، صلاح الدین ایوبی، عصمت اللہ، سید محمود شاہ، جیمزاقبال، عالیہ کامران اور شاہدہ اختر علی نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومتی وزراءوزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان خصوصی طور پر مدعو تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس موقع پر کہا کہ میرے لئے تمام ارکان اسمبلی قابل تعظیم اور قابل قدر ہیں، تمام جماعتوں کے ارکان کو مساوی حقوق دینا میری اولین ترجیح ہے، میری زندگی کا بیشتر حصہ علماءکرام اور دینی حلقوں کی صحبت میں گزرا ہے، ایم ایم اے میں زیادہ تر ارکان علماءکرام پر مشتمل ہیں اور میں ان سے خصوصی رغبت رکھتا ہوں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو قواعد اور ضوابط سے چلانا میرے فرائض منصبی میں شامل ہے، اس وجہ سے بعض اوقات حکومتی اور اپوزیشن کے رہنماءنالاں دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اور حکومت ایوان کے دو جزو ہیں اور ان کی بدولت ہی قانون سازی عمل میں لائی جا سکتی ہے، حکومت اور اپوزیشن کے تجربہ کار ارکان سے اپیل کروں گا کہ وہ ایوان کی کارروائی کو مو¿ثر طریقے سے چلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے رکھنا ہر رکن اور ہر جماعت کا حق ہے مگر ماحول کو ساز گار رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اراکین قائمہ کمیٹیوں کے قیام اور قانون سازی میں پیدا ہونے والے جمود کو توڑنے میں آگے بڑھیں۔ اس موقع پر متحدہ مجلس عمل کے جانب سے سپیکر کو احسن طریقے سے ایوان کی کارروائی چلانے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ایم ایم اے حکومت کے نرم خو اور لچک رکھنے والے اکابرین سے مل کر ماحول کو ساز گار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ ملاقات میں قانون سازی کے عمل کو فوری اور مو¿ثر بنانے کےلئے تجاویز دی گئیں۔








