اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان پاور سیکٹر میں خامیوں پر قابو پا کر اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کر سکتا ہے پاکستان پاور سیکٹر میں خامیوں کے باعث مالی سال 2015ءمیں ملکی معیشت کو 18 ارب ڈالر یا جی ڈی پی کا 6.5 فیصد برداشت کرنا پڑا، اصلاحات کے ذریعے کاروباری نقصانات میں معیشت میں 8.4 ارب …
پاکستان پاور سیکٹر میں خامیوں پر قابو پا کر اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کر سکتا ہے ،عالمی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی) عالمی بینک نے کہا ہے کہ پاکستان پاور سیکٹر میں خامیوں پر قابو پا کر اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کر سکتا ہے پاکستان پاور سیکٹر میں خامیوں کے باعث مالی سال 2015ءمیں ملکی معیشت کو 18 ارب ڈالر یا جی ڈی پی کا 6.5 فیصد برداشت کرنا پڑا، اصلاحات کے ذریعے کاروباری نقصانات میں معیشت میں 8.4 ارب ڈالر بچائے جا سکتے ہیں اور مجموعی گھریلو آمدن 4.5 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ بدھ کو عالمی بینک کی جانب سے جاری نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بجلی تک رسائی اور صلاحیت کو توسیع دینے میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ 1990ءسے 2010ءتک پہلی بار تقریباً 91 ملین نئے لوگوںکو بجلی فراہم کی گئی تاہم اب 50 ملین لوگوں کی گرڈ بجلی تک رسائی نہیں اور لوڈ شیڈنگ سے کاروبار، صحت اور صارفین کے معیار زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پاور سیکٹر میں خامیوں پر قابو پا کر اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کر سکتا ہے۔اس مقصد کے حصول کیلئے بجلی کے ضیاع کی روک تھام، صاف توانائی کے حصول اور نجی سرمایہ کاری میں اضافہ کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناقص انفراسٹرکچر، میٹر ریڈنگ اور چوری کی وجہ سے بجلی کی پیداوار کا تقریباً پانچواں حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات اولین ترجیح ہونی چاہئے جس کے نتیجہ میں اخراجات اور آلودگی میں کمی آئے گی جبکہ اس سے غریبوں کو براہ راست فائدہ ہو گا۔ توانائی اصلاحات سے متعلق چیئر مین ٹاسک فورس ندیم بابر نے کہا ہے کہ حکومت چار پانچ سال کے اندرتمام خامیوں اور پرانے پاور پلانٹس کو فیز آوٹ کرنے کیلئے منصوبہ تیار کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اگلے سال کے آخر تک ملکی ٹرانسمیشن سسٹم میں موجود رکاوٹوں کو ختم کردیگی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم پرانے اور غیر موثر پاور پلانٹس کو چلا نہیں رہے اور ہم بتدریج اس طرح کے پلانٹس بند کرینگے۔ندیم بابر نے کہا کہ حکومت اگلے ماہ کے آخر تک ایک نئی پالیسی وضع کو حتمی شکل دیگی جس کے تحت پاور سیکٹر کو سٹریم لائن کیا جائے گا۔








