اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے 100دنوں کے دوران ملکی معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے کئے گئے سروے رپورٹس سے ظاہرہوتا ہے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں۔ہم نے اپنی معیشت کو دیکھتے ہوئے وہ فیصلے کئے جو ہمیں کرنے چاہئےں تھے،ہم نے آئی ایم ایف کی …
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمرکی بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں بات چیت

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 دسمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پہلے 100دنوں کے دوران ملکی معیشت کی کارکردگی کے حوالے سے کئے گئے سروے رپورٹس سے ظاہرہوتا ہے کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں۔ہم نے اپنی معیشت کو دیکھتے ہوئے وہ فیصلے کئے جو ہمیں کرنے چاہئےں تھے،ہم نے آئی ایم ایف کی کسی شرط کا انتظار نہیں کیا، ملکی کرنسی کی قدر میں کمی، شرح سود اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں اضافے جیسے اقدامات اس لیے کیے ہیں کہ ہمیں یہ ضروری لگ رہے تھے۔بدھ کو بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم اقتصادی اور مانیٹرنگ پالیسی اصلاحات کی صحیح سمت میں جا رہے ہیں جس کی ضرورت ہے ۔تاہم وزیر خزانہ نے تصدیق کی کہ اس وقت اصلاحات کے معاملے پر آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان اختلافات ہیں لیکن بات چیت جاری ہے جس میں اس بات پر اختلاف رائے نہیں کہ کیا کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اقدامات کی رفتار، ترتیب اور وسعت پر اختلاف ہے۔آئی ایم ایف سے حاصل ہونے والے قرضوں سے چین کے قرضوں کی ادائیگی کے بارے میں امریکی حکومت کے خدشات پر ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ’اس کا جواب بڑا سادہ ہے کہ ہمیں چینی قرضے کی فکر ہونی چاہیے لیکن پومپیو (امریکی وزیر خارجہ) کو چینی قرضے کے اپنے مسئلے پر فکرمند ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں امریکہ چین کا سب سے بڑا مقروض ہے جو کہ 13 کھرب ڈالر ہے جبکہ پاکستان پر چینی قرضہ ملک کے مجموعی بیرونی قرضوں کا دس فیصد ہے۔‘انھوں نے اس کے ساتھ سوال کیا کہ ہم گذشتہ 30 برسوں میں آئی ایم ایف سے 12 مختلف پروگراموں میں گئے لیکن یہ سوال پہلے کیوں نہیں پوچھا گیا کہ کس ذرائع اور کس ملک نے پاکستان کو کتنا قرضہ دے رکھا ہے؟‘ وزیر خزانہ اسد عمر نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد مغربی ممالک کی سعودی عرب سے دوری اور اس دوران پاکستان کی جانب سے سعودی عرب سے بیل آوٹ پیکیج لیے جانے کے بارے میں سوال کے جواب میں سعودی امداد کا دفاع کیا۔ صوبہ بلوچستان میں چینی منصوبوں اور وہاں شدت پسندی کے واقعات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ ’یہ بلوچستان کے لوگوں کا غصہ نہیں ، یہ سپانسرڈ دہشت گردوں کی سرگرمیاں ہیں جو پاکستان کے باہر سے مالی وسائل اور تربیت حاصل کرتے ہیں۔بلوچستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور اس کے ذریعے سی پیک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سنجیدہ کوششیں ہیں اور اس پر کوئی اختلاف رائے نہیں ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کی سربراہی انڈیا کر رہا ہے۔ ہم نے انڈیا کا ایک سینیئر آپریٹر کلبھوشن یادیو پکڑا ہے جس نے تفصیل بتائی ہے کہ کس طرح انڈیا بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں مداخلت کر رہا ہے ۔








