اقوام متحدہ ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور فلپائن کی طرف سے بین المذاہب اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کےلئے پیش کردہ قرار داد پربحث کی گئی تاکہ دنیا میں امن وامان کے کلچر کے فروغ کے لئے عدم تشدد پر مبنی تعلیم، برداشت اور باہمی تعاون کے اضافہ کےلئے راہ ہموار کی جاسکے۔ 193 رکنی جنرل اسمبلی کے اجلاس …
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور فلپائن کی طرف سے بین المذاہب اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کےلئے پیش کردہ قرار داد پربحث

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور فلپائن کی طرف سے بین المذاہب اور بین الثقافتی ہم آہنگی کے فروغ کےلئے پیش کردہ قرار داد پربحث کی گئی تاکہ دنیا میں امن وامان کے کلچر کے فروغ کے لئے عدم تشدد پر مبنی تعلیم، برداشت اور باہمی تعاون کے اضافہ کےلئے راہ ہموار کی جاسکے۔ 193 رکنی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر ملیحہ لودھی نے ”اے پی پی“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ رواں سال عالمی سطح پر ثقافتی و مذہبی ڈائیلاگ کے مثبت انعقاد کےلئے 49 سے زائد ممالک کے ریکارڈ سطح پر قرار داد کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یو این کے چارٹر اور انسانی حقوق کی تنظیم کے نظریہ کے پیش نظر رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور بنیادی حقوق کی آزادیوں کی فراہمی یقینی بنانے کےلئے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت کثیر القومی مذاکرات پر دباﺅ ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اسلام کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کے خاتمہ کےلئے مذاکرات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ثقافتوں کے تضادات کی منفی کہانیوں اور نائن الیون حملوں سمیت قرار داد میں مختلف مذاہب کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کی مذمت کی گئی ہے تاکہ عدم تشدد کے فلسفہ کے فروغ کےلئے بین المذاہب و بین الثقافتی مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کیا جاسکے جس سے دنیا بھر میں امن وامان کے فروغ اور ترقی میں مدد ملے گی۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ دنیا کی غیر یقینی صورتحال کے خاتمہ کےلئے یہ قرارداد بڑی اہمیت رکھتی ہے جس سے مذہبی و ثقافتی رابطوں کے فروغ اور دنیا کی ترقی سمیت عالمی برادری کی باہمی اندر سٹینڈنگ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل اسمبلی نے رکن ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ معاشرے کے تمام شعبہ جات میں بردات، تعاون اور ایک دوسرے کے نظریات سے آگاہی کےلئے اقدامات کریں تاکہ عدم برداشت اور عدم تشدد کے فلسفہ کو دنیا بھرمیں اجاگر کیا جاسکے۔








