پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کنول شوزب کی ”اے پی پی“ سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کنول شوزب نے کہا کہ معذور خواتین کو درپیش خاندانی اور معاشرتی استحصال سے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے انھیں با اختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ ”اے پی پی“ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا سماجی المیہ ہے کہ معذوری کا شکار خواتین کو خاندان اور سماجی حلقوں …

اسلام آباد ۔ 13 دسمبر (اے پی پی) پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کنول شوزب نے کہا کہ معذور خواتین کو درپیش خاندانی اور معاشرتی استحصال سے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے انھیں با اختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ ”اے پی پی“ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا سماجی المیہ ہے کہ معذوری کا شکار خواتین کو خاندان اور سماجی حلقوں میں استحال کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہاں تک کہ انھیں صحت، تعلیم جیسی بنیادی سہولیات اور روزگار جیسے مواقعوں سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک عالمگیر مسئلہ ہے اور لوگوں کی سوچ کو تبدیل کرنے اور آگاہی کےلئے نئے قوانین کی تشکیل اور عملدرآمد کی ضرورت ہے تاکہ انھیں تنہائی کا شکار ہونے سے بچا نے کےلئے عوام کی سوچ کوتبدیل کیا جائے اور انھیں بھرپور اعتماد اورعزم کے ساتھ اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے کے قابل بنایا جاسکے۔کنول شوزب نے کہا کہ معذور افراد کی سہولت کےلئے خصوصی تعلیمی ادارے ہونے چاہیئں۔ خصوصی افراد کو معاشرتی دھارے میں لانے کےلئے رسائی کو آسان بنانے کے ساتھ ساتھ انہیںمعاشی طور بااختیار بنانے کےلئے اقدامات اٹھانے چاہیئں۔ انھوں نے کہا کہ خصوصی افراد کو سرکاری عمارتوں، ہسپتالوں، پبلک مقامات، ٹرانسپورٹ اور دیگر اہم پیشہ وارانہ مقامات اور اپنے گھروں میں سہولتوں کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے وزارت انسانی حقوق کی طرف سے اس ضمن میں اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ معذور افراد سے متعلق بل منظور ہو چکا ہے اور اس حوالے سے کئی عالمی معاہدوں پر بھی دستخط کئے گئے ہیں جس سے ایسے افراد کو با اختیار بنایا جاسکے گا۔

مزید خبریں