اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خطے کے امن کو تباہ کرنے کیلئے بھارت مسلسل اشتعال انگیزی اور جنگی اقدامات سے گریز نہیں کر رہا جبکہ پاکستان امن کا پیغام دے کر جنوبی ایشیاءکو جنگ کے مضمرات سے دور رکھنا چاہتا ہے، بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ازبکستان کے سفیر فرقت صدیقوف سے ملاقات کے دوران گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 5 مارچ (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خطے کے امن کو تباہ کرنے کیلئے بھارت مسلسل اشتعال انگیزی اور جنگی اقدامات سے گریز نہیں کر رہا جبکہ پاکستان امن کا پیغام دے کر جنوبی ایشیاءکو جنگ کے مضمرات سے دور رکھنا چاہتا ہے، بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس کے جواب میں پاکستان نے اپنے دفاع کاحق رکھتے ہوئے بھارت کو جواب دیا، پوری دنیا نے پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کو نا صرف سراہا ہے بلکہ اسے خطے کے امن کو قائم رکھنے کے لئے احسن قدم قرار دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سپیکر نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاﺅس میں ازبکستان کے سفیر فرقت صدیقوف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کا داعی ہے اور خطے میں تعاون و ترقی کے لئے کوشاں ہے۔ بھارت کی حالیہ مہم جوئی کے باوجود پاکستان نے ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ امن کی خاطر تمام بنیادی اقدامات اٹھانے کے لئے تیار ہے مگر بھارت کی جانب سے مثبت جواب نہ ملنے پر ہم نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیاہے۔ سپیکر نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارت کی جارحیت کے خلاف متفقہ طور پر قرارداد منظور کی جسے دنیا کے 178پارلیمان کو بذریعہ خط میری جانب سے ارسال کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کے عوام کی مشکلات کو کم کرتے ہوئے انہیں تعلیم ، صحت ، روزگار اور معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں ناکہ اس خطے کو جنگ کی تباہ کاریوں سے دوچار کیا جائے۔ پاک۔ ازبک تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ وسطی ایشیا ئی ریاستوں کے ساتھ صدیوں پر محیط مذہبی، تجارتی، ثقافتی اور نسلی تعلقات پرہمیں ناز ہے۔پاکستان اور ازبکستان کے مابین دوستانہ اور برادرانہ تعلقات موجود ہیں اور پاکستان دوطرفہ تعاون کو فروغ دے کر موجودہ تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ازبکستان کے ساتھ مذہبی اعتبار سے بھی بڑا گہرا تعلق ہے ۔ازبکستان تدوین حدیث کے جید عالم امام بخاری کی سرزمین ہے اور اہل پاکستان کے لیے متبرک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم امہ سے تعلقات کا فروغ پاکستان کی خارجی پالیسی کا بنیادی جزوہے۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پاکستان تجارت ، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں ازبکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے ۔ اس ضمن میں پارلیمانی سفارتکاری پاکستان اور ازبکستان کے مابین تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ اس موقع پر سپیکر نے ازبکستان کے سفیر کو بھارتی رویے کے خلاف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد بھی حوالے کی۔ ازبکستان کے سفیر فرقت صدیقوف نے کہا کہ پاکستا ن خطے کا ایک اہم ملک ہے اور ازبکستان پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے عالمی اور خطے کے امن کے لئے کئے گئے اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں ترقی اور تجارت کے فروغ کے لیے افغانستان میں امن بنیادی شرط ہے۔ازبک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان میں باہمی تجارت اور تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں لیکن افغانستان کے راستے مسدود ہونے کے باعث ہم خطے کی خوشحالی سے محروم ہیں۔اس موقع پر سفیر نے اسپیکر اسد قیصر کو ازبکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔








