صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں کی مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد/مظفر آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کی کشمیری قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہدآزادی اور تحریک حق خود ارادیت کو پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھا جائے گااور اس سلسلے میں بھارت کی کسی سازش اور منفی ہتھکنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ ایوان صدر مظفرآباد میںبدھ کے روز صدر آزاد کشمیر …

اسلام آباد/مظفر آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کی کشمیری قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہدآزادی اور تحریک حق خود ارادیت کو پوری طاقت کے ساتھ جاری رکھا جائے گااور اس سلسلے میں بھارت کی کسی سازش اور منفی ہتھکنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ ایوان صدر مظفرآباد میںبدھ کے روز صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کے ہمراہ کل جماعتی حریت کانفرنس (گیلانی ) کے کنوینئر سید عبداللہ گیلانی ، کل جماعتی حریت کانفرنس (میر واعظ ) کے کنویئنر سید اعجاز رحمانی ، یاسین ملک کے رہنما رفیق ڈار اور حریت کانفرنس کے دونوں گروپوں کے ارکان زاہد اشرف، عبدالمجید ملک ، شیخ عبدالمتین ، عبدالحمید لون اور نذیر احمد کرناہی نے مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف حالیہ جارحیت بھارت کا سب سے بڑا خطرناک ہتھکنڈہ تھا جسے اللہ کے فضل و کرم ، پاکستان کی بہادر افواج اور کشمیریوں نے مل کر ناکام بنا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس جارحیت کا مقصد کشمیریوں کی تحریک آزادی کو پاکستان کی صورت میں سب سے توانا آواز سے محروم کرنا تھا ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ پوری دنیا نے بھارت کی جارحیت اور اس کی جنونی قیادت کے جنگی ذہنیت کی مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ یا تاثر دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ۔ لیکن پاکستان پر ننگی جارحیت مسلط کرنے کے بعد دنیا میں بھارت کا منفی پروپیگنڈہ بے نقاب ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری انصاف اور حق خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اس لیے حق پر مبنی اُن کی تحریک کو بھارت سمیت دنیا کی کوئی طاقت کچل نہیں سکتی ۔ انہوں نے پلوامہ واقعہ اور نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس کے پروپیگنڈے کو ایک سموک سکرین قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکمرانوں نے جو خطرناک چال چلی تھی وہ اللہ تعالیٰ نے اور افواج پاکستان نے پوری جرات اور بہادری کے ساتھ ناکام بنا دی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اب آئین کی دفعہ 35-A کو منسوخ کر کے اور جماعت اسلامی پر پابندی عائد کر کے کشمیریوں کے خلاف نئے طریقے سے انتقام لینا چاہتا ہے لیکن ہم بھارت کو متنبہ کرتے ہیںاگر 35-A کو ختم کیا گیا تو ریاست جموں و کشمیر ایک بار پھر 27 اکتوبر 1947 کی پوزیشن پر چلی جائے گی جس کی صورت میں بھارت کے لیے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا ۔ صدر آزاد کشمیر نے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر پر پابندی عائد کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ایک نظریے کا نام ہے اورمقبوضہ کشمیر کے سماج کا ایک لازمی حصہ ہے اور یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کسی نظریے کو مقید کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سماجی تانے بانے کو جدا کیا جا سکتا ہے ۔ صدر سردار مسعود خان نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنا فرض ادا کرے اوراپنے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر کے جنوبی ایشیاءمیں امن و سلامی کو یقینی بنائے ۔ انہوںنے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں گمنام قبروں کا فرانزک آڈٹ کرائے تاکہ اس بات کا تعین ہو سکے کہ بھارتی فوج نے کتنے بے گناہ کشمیریوںکو دہشتگرد قرار دے کر ماورائے عدالت قتل کیا اور انہیں گمنام قبروں میں دفن کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری کمزور نہیں بلکہ یہ دنیا کی وہ بہادر قوم ہے جس نے نہتے ہونے کے باوجود 71 سال تک بھارت کی سات لاکھ مسلح فوج کے ساتھ مقابلہ کیا اور وہ اب بھی پوری جرات کے ساتھ اس کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت اسلام اور مسلمانوں کو دہشگرد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا اور خود بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہندو انتہا پسندی ہے جس کا سرخیل بھارت کا وزیراعظم نر یندر مودی ہے ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس (گیلانی) کے رہنما سید عبداللہ گیلانی نے کہا کہ اس مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے ہم دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ کشمیری متحد اور منظم ہیں اور وہ اس بات کا عزم رکھتے ہیں کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر سے فوج انخلاءکر کے کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حق خود ارادیت نہیں دیتا کشمیر کی تحریک آزدی ہر حال میں جاری رکھی جائے گی ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کے حق میں اُٹھنے والی آواز پاکستان کو خاموش کرنے کے لیے اس پر جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن بھارت کی یہی تدبیر اُس کے خلاف اُلٹ دی گئی اور دنیا میں مسئلہ کشمیر اُجاگر ہوا ۔ اُنہوںنے کہا کہ کشمیریوںکا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان غیر حل شدہ مسئلہ کشمیر کسی بھی وقت نیوکلیئر فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے ۔ حالیہ کشیدگی نے یہ ثابت کیا کہ یہ مسئلہ اگر فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو خطے کے لیے بڑا تباہی کا سبب بن سکتا ہے ہم بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کر کے مسئلہ کشمیر کو پرامن اور سیاسی ذرائع سے حل کرائے تاکہ خطے میں امن و سلامتی کو لاحق خطرات کو ٹالا جا سکے ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد رفیق ڈار اور سید اعجاز رحمانی نے کہا کہ بھارت کی جارحیت دراصل اُس کی فرسٹریشن کو ظاہر کرتی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں اس کی سات لاکھ فوج کو نہتے کشمیریوں کے ہاتھوں شکست کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے بھارت کے حملے ناکام بنا کر کشمیر کی تحریک آزادی کو ایک عزت بخشی ہے جس کو جموں و کشمیر کے عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

Leave a Reply