وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان متحد ہے، پاکستان کشیدگی میں کمی لانا چاہتا ہے، پاکستان کا پیغام واضح اور غیر مبہم تھا، دنیا نے پاکستان کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تعریف کی ہے، پاکستان نے او آئی سی کے اجلاس کے حوالے سے اپنے اہداف حاصل کئے، پی ٹی …

اسلام آباد ۔ 6 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان متحد ہے، پاکستان کشیدگی میں کمی لانا چاہتا ہے، پاکستان کا پیغام واضح اور غیر مبہم تھا، دنیا نے پاکستان کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تعریف کی ہے، پاکستان نے او آئی سی کے اجلاس کے حوالے سے اپنے اہداف حاصل کئے، پی ٹی آئی کی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرے گی، معیشت سے وابستہ قباحتیں اور بیماریاں مل کر ہی ختم کی جا سکتی ہیں۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ ایسا وقت ہے کہ قوم کو متحد ہونا ہے تاکہ پاکستان سے باہر یہ پیغام جائے کہ پاکستان متحد ہے، میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو دعوت دیتا ہوں کہ خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر ان کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریر میں سکوارڈن لیڈر حسن صدیقی کا ذکر کیا، میں ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ پاک فضائیہ نے بھارت کے دو طیاروں کو مار گرایا تھا، ایک طیارہ سکوارڈن لیڈر حسن صدیقی نے جبکہ دوسرا طیارہ ونگ کمانڈر نعمان علی خان نے مار گرایا تھا، ہم نعمان علی خان کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی پائلٹ کی رہائی کا فیصلہ بحث و مباحثے کے بعد اور ملکی مفاد میں کیا گیا تھا، پاکستان کشیدگی میں کمی لانا چاہتا ہے، پاکستان کا پیغام واضح اور غیر مبہم تھا، دنیا نے پاکستان کی جانب سے کشیدگی میں کمی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تعریف کی ہے، جہاں تک او آئی سی کے اجلاس کا تعلق ہے تو میں ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ اس اجلاس میں شرکت یا عدم شرکت کا فیصلہ بھی اچھی طرح سے جائزہ لینے کے بعد کیا گیا تھا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس معاملے پر بات ہوئی تھی، آصف علی زرداری اور بعض سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماﺅں نے رائے دی کہ پاکستان کو اس میں شرکت کرنی چاہیے جبکہ بعض نے رائے دی کہ پاکستان کو او آئی سی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنا چاہیے، متفقہ قرارداد میں مکمل بائیکاٹ کا لفظ خرم دستگیر کی مشاورت سے شامل ہوا تھا جس کے بعد اس کی اتفاق رائے سے منظوری دی گئی تھی، ہم پارلیمان کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور پارلیمانی رائے کے مطابق او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ او آئی سی کے اس اجلاس میں پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں ہوئی تھی، اس کے برعکس پہلی مرتبہ او آئی سی کی قرارداد میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مورد الزام ٹھہرایا گیا، پاکستان نے او آئی سی کے اجلاس کے حوالے سے اپنے اہداف حاصل کئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کو نوبل پیس پرائز کے لئے نامزد کرنے کی قرارداد کا حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے خود اپنے ٹویٹ میں وضاحت کی کہ وہ نہیں سمجھتے کہ وہ اس انعام کے حقدار ہیں۔ وزیراعظم نے واضح طور پر کہا کہ جو بھی مقبوضہ کشمیر اور مسئلہ کشمیر حل کرے گا، یہ انعام اسے ملنا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بعض لوگ عمران خان کے نظریے اور فلسفے سے عقیدت رکھتے ہیں، لیڈر کے فلسفے اور نظریے سے عقیدت رکھنے والے تمام جماعتوں میں ہوتے ہیں لیکن بڑائی اسی میں ہے جس کا اظہار عمران خان نے خود کیا کہ وہ اپنے آپ کو اس انعام کے حقدار نہیں سمجھتے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پاکستان کے عوام کا اہم فیصلہ تھا، ان 22 نکات پر پوری قوم متحد تھی، بلاول بھٹو زرداری نے سوالات اٹھائے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہو رہا، پی ٹی آئی کی حکومت کو آئے ہوئے تقریباً چھ سات مہینے ہوئے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرے گی، جہاں تک کالعدم تنظیموں کا تعلق ہے، یہ تنظیمیں گزشتہ چند مہینوں میں معرض وجود میں نہیں آئیں، یہ تنظیمیں برسوں سے کام کر رہی تھیں جو لوگ 40 برسوں سے کام کر رہے تھے انہوں نے اس حوالے سے کیا کارروائی کی ہے، پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی حکومتوں میں رہی ہیں، انہوں نے اس ضمن میں کیا اقدامات کئے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کا معاملہ اہم ہے لیکن پاکستان کو ہمارے دور میں نہیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں گرے لسٹ میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے خراب معیشت کی بات کی ہے، سوچنا چاہیے کہ کیا معیشت گزشتہ چھ ماہ میں خراب ہوئی ہے یا ساختہ جاتی و ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کی وجہ سے برسوں سے یہ صورتحال ہے، اسحق ڈار جب پہلا بجٹ پیش کر رہے تھے تو انہوں نے وسط مدتی فریم ورک اور ساختہ جاتی اصلاحات کی بات کی تھی، اس پر کتنا عمل ہوا، قوم کو بتایا جائے کہ انہوں نے اس ضمن میں کیا اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس سال کی قباحتیں اور بیماریاں مل کر ہی ختم کی جا سکتی ہیں، معیشت اور اداروں کی اصلاح کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا اور مل کر نیا پاکستان بنانا ہو گا۔

Leave a Reply