لاہور۔6 مارچ(اے پی پی )قومی معاملات میں میڈیا اور محکمہ اطلاعات کا ایک پیچ پر ہونا ضروری ہے۔میڈیاکی تعمیری تنقید کا خیر مقدم کریں گے۔اپنی حکومت کی اچھی کارکردگی پر میڈیا سے حوصلہ افزائی کی توقع رکھتے ہیں حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی میڈیا نے ایک میچور میڈیا کے طور پر اپنا کردار پوری ذمہ داری سے نبھایا۔اس کے برعکس بھارتی میڈیا اپنے من گھڑت اور خود ساختہ …
صوبائی وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
لاہور۔6 مارچ(اے پی پی )قومی معاملات میں میڈیا اور محکمہ اطلاعات کا ایک پیچ پر ہونا ضروری ہے۔میڈیاکی تعمیری تنقید کا خیر مقدم کریں گے۔اپنی حکومت کی اچھی کارکردگی پر میڈیا سے حوصلہ افزائی کی توقع رکھتے ہیں حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی میڈیا نے ایک میچور میڈیا کے طور پر اپنا کردار پوری ذمہ داری سے نبھایا۔اس کے برعکس بھارتی میڈیا اپنے من گھڑت اور خود ساختہ بیانیے سے پوری دنیا میں ایکسپوز ہو گیا۔ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت سید صمصام حسین بخاری نے ڈی جی پی آر آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلشنز امجد حسین بھٹی بھی موجود تھے۔سید صمصام حسین بخاری نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ قیادت نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں جس طرح اقوام عالم میں مسئلہ کشمیر اجاگر کیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔اس کے ساتھ ساتھ پاک افواج نے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کا کامیابی سے تحفظ کرکے دشمن ملک کو پیغام دیا کہ پاکستان ایک مضبوط اور متحد قوم کی صورت میں نا قابل تسخیر ملک ہے جس پر وہ اپنی افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں موجود اقلیتوں سمیت ہم سب متحد ہیں ۔پاکستانی پرچم میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے یہ ثابت کیا کہ ہمارے ملک میں اقلیتوں کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ میڈیا اورمحکمہ اطلاعات اگر ایک پیچ پر نہ ہو ں تو ملک کا نقصان ہوگا۔انہوںنے کہا کہ حکومتی معاملات میں اگر ہماری کوتاہی ہے تو میڈیا نشاندہی کرے ہم اصلاح کریں گے تا ہم میڈیا حکومت کے اچھے کاموں کو بھی دکھائے ۔انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت پاکستان کیلئے انقلابی اقدامات کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جب حکومت اچھے کام کرتی ہے تو حکومت کا دفاع کرنا آسان ہوتا ہے ۔پارٹی نے مجھ پر اعتماد کیا ہے ، میں اپنی ذمہ داری بطریق احسن نبھاﺅں گا ۔ وزارت اطلاعات حکومت اور میڈیا کے مابین ایک پل کا کام کرتی ہے۔تمام وزراءوزیر اعلیٰ پنجاب کی ٹیم کا حصہ ہیں اس میں ترجمان وزیر اعلیٰ یا وزیر اطلاعات کی کوئی تقسیم نہیںہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت پر تنقید کرنا اپوزیشن کا حق ہے تا ہم اگر وہ تنقید برائے تنقید کریں گے تو ہمیںبھی جواب دینا آتا ہے۔نوازشریف کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ہسپتال جانے یا نہ جانے کا فیصلہ خود نوازشریف نے کرنا ہے۔ پی آئی سی دل کے امراض کے حوالے سے بہترین ادارہ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب میں تمام اداروں کی بہتری کیلئے وزیرا عظم عمران خان ، وزیر اعلیٰ پنجاب اور متعلقہ محکموں کے قوانین کی روشنی میں بہتری کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ محکمہ اطلاعات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لینے کے بعد محکمے کی بہتری اور ترقی کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ وہ میڈیا ہاﺅسز کے دفاتر کے دورے شروع کر رہے ہیںجن کا مقصد صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے۔








