پنجاب کے وزیر اطلاعات صمصام علی بخاری کا راولپنڈی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب

راولپنڈی۔ 25 مئی (اے پی پی) پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت صمصام علی بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جو اتحاد بنانے جا رہی ہے وہ ما سوائے کرپشن کو بچانے کے کوئی قدر اس میں مشترک نہیں،پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا طریقہ کار اور نظریہ الگ الگ ہے، مسلم لیگ (ن )نے سیف الرحمن کے ذریعے جو نیب بنایا تھا اس کا مقصد محض لوگوں …

راولپنڈی۔ 25 مئی (اے پی پی) پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت صمصام علی بخاری نے کہا ہے کہ اپوزیشن جو اتحاد بنانے جا رہی ہے وہ ما سوائے کرپشن کو بچانے کے کوئی قدر اس میں مشترک نہیں،پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کا طریقہ کار اور نظریہ الگ الگ ہے، مسلم لیگ (ن )نے سیف الرحمن کے ذریعے جو نیب بنایا تھا اس کا مقصد محض لوگوں کو تنگ کرنا تھالیکن آج کے نیب کا مقصد جن لوگوں نے کرپشن کی ہے ان کے خلاف کاروائی کرنا ہے۔ حکومت کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ نیب پر کسی کی گرفتاری یا رہائی پر کوئی دباو نہیں، نیب ایک آزاد ادارہ کے طور پر کام کر رہا ہے اور کرتا رہے گا ۔ اربوں روپے کے اکاونٹ عام لوگوںکے نام پر ظاہر ہونے کی تحقیقات نیب کا اپنا کام ہے ، شریف برادران نے کرپشن میں گھر کی خواتین کو بھی شامل کر رکھاہے جن کا کوئی کاروبار نہیں، شہباز شریف صاحب کی بیگم صاحبہ کے اکاونٹ میں بھی اربوں روپے ہیں جبکہ انہوںنے خود کہا ہے کہ میں کوئی کاروبار نہیں کرتی۔ان خیالات کااظہار صمصام علی بخاری نے ہفتہ کے روز راولپنڈی کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ یوم شہادت حضرت علی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ نیب کے خلاف جو پراپیگنڈہ جار ی ہے وہ کرپشن سے توجہ ہٹانے کے لئے ہے، شہباز شریف نے اپنی ٹویٹ میں کہاکہ وہ کسی کی ذاتی زندگی میں کوئی عمل دخل نہیں کرتے مگر آج ان کی پارٹی کے ترجمان نے بڑی شعلہ بیانی کے ساتھ خطاب فرمایا اور اس کے بعد مریم نواز ، مریم اوررنگ زیب کا ٹویٹ آیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے ، اپنے طرز عمل سے وہ اس وقت سخت کنفیوز نظر آرہے ہیں جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ نیب ان کے کرتوتوں کا حساب لے رہا ہے ، انہوں نے کہا کہ پارٹی میں اس وقت حمزہ اور مریم کے درمیان جنگ جاری ہے جسے وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے ، آدھے لوگ مریم نواز اور آدھے مریم نواز کے ساتھ ہیں،یہ لوگوں کو اصل جھگڑے کی خبر نہیں ہونے دیتے ، ان کے ترجمان ملک احمد خان نے بھی کہا کہ انہوں نے پارٹی کی مشاورت سے موقف کا اظہار کیا ہے۔ ان کا اصل چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے، ہم من حیث القوم یہ کرپشن کے خاتمے کا عہد کرتے ہیںاور یہ چاہتے ہیںکہ حذب اقتدار سمیت کرپشن میںچاہیے جس بھی سیاسی جماعت کا جو بھی رکن شامل ہواس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے تاکہ قوم کو یہ یقین ہو جائے کہ جن لوگوں نے ملکی دولت لوٹی ہے وہ واپس لائی جائے گی اور ملک و قوم پر خرچ کی جائے گی۔ نیب کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں صمصام علی بخاری نے کہاکہ نیب کے ترجمان نے چیئرمین نیب پر لگائے گئے تمام تر الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور ہم نے نیب سے بھی کہا ہے کہ اگر حکومت میں سے بھی جس پر بھی کرپشن کا الزام ہو اس کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے ، ڈان لیگ کی طرح یہ بھی مسلم لیگ (ن) کا ڈرامہ اور ملی بھگت ہے جس طرح یہ ڈان لیگ سے انحراف کرتے رہے اوراپنے ٹریک ریکارڈ کی طرح این آراو کے منحرف ہوتے رہے اور بعد میں یہ کہتے رہے کہ دس سال کا این آر او ہو ا ہے ، پانچ سال کا ہوا ہے ، تو ان پر کون اعتبار کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ آواز اور وڈیوز کی ڈبنگ کرکے کچھ بھی کرنا ممکن ہے جس کا مقصد صرف نیب پر دباو ڈالنا ہے۔ آجکل میڈیا کا دور ہے اور کئی ایسی ایپس موجود ہیں۔ جنہیں بہت اعتراض ہے وہ بخوشی عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ چیئرمین نیب کے معاملے میں پی ٹی آئی یا حکومت کسی طرح سے بھی ملوث نہیں ہے ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ مریم نواز سزا یافتہ ہے اور ان کے پاس پارٹی کا عہدہ بھی ہے جبکہ کے جہانگیر ترین زراعت کے شعبہ میں ماہرہیں اور کابینہ کے اجلاس میں کسی بھی ماہر کو خصوصی طور پر بلایا جاسکتاہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے مودی کو سیاسی روایت کے تحت مبارکباد دی ہے وہ ہمارا ہمسایہ ہے اور ہم باوقار طریقے سے امن کی خواہش رکھتے ہیں،بھارت اگر بات کرے گا تو ہم بھی بات کریں گے اور اگر وہ حملہ کرنا چاہیں تو ہم بھی ویسے ہی جواب دیں گے جیسے پہلے دیا تھا۔اس موقع پر امامیہ کونسل کے چئیرمین ڈاکٹر غضنفر مہدی،رقیہ سعید ہاشمی،چیئرمین امام حسین کونسل( لندن )رباب رضوی اور سیاسی راہنما حاجی گلزار اعوان،مذہبی راہنما مجتبیٰ فاروق گل بادشاہ اور دیگر علماءکرام نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضرت محمدﷺ اور انبیاءکرام کی تعلیمات پر عمل پیراہوکر دنیا و آخرت سنواری جا سکتی ہے،اگر ہم نجات کا راستہ چاہتے ہیںتو ہمیں حضرت علی اور ان کے شہزادوںکی غلامی میں اپنی زندگی بسر کریں،انہوں نے کہاہے کہ حضرت علی کی شہادت کا دن تجدید عہد کا دن ہے اور ان کی تعلیمات کو عام کر کے ہم بہترین زندگی گزار سکتے ہیں۔

مزید خبریں

Leave a Reply