لندن اور نیویارک میں کشمیریوں کی طرف سے” کرفیو کلاک “مہم کاآغاز بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹ رہی ہے

لندن۔ 7 ستمبر (اے پی پی)نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد علاقے میں نافذ کئے گئے سخت کرفیوکواجاگرکرنے کے لےے کشمیریوں نے لندن اور نیویارک میں ”کرفیو کلاک“مہم کاآغاز کردیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق گزشتہ رات لندن کے اہم مقامات اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے گاڑیاں نمودار ہوئیں جن پر تصویروں کے ذریعے مقبوضہ علاقے …

لندن۔ 7 ستمبر (اے پی پی)نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد علاقے میں نافذ کئے گئے سخت کرفیوکواجاگرکرنے کے لےے کشمیریوں نے لندن اور نیویارک میں ”کرفیو کلاک“مہم کاآغاز کردیا ہے۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق گزشتہ رات لندن کے اہم مقامات اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی عمارت کے سامنے گاڑیاں نمودار ہوئیں جن پر تصویروں کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں مودی حکومت کے غاصبانہ اقدامات کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران کو اجاگر اور دنیا کو مقبوضہ کشمیر کی حقیقی صورتحال کے بارے میں بتایاگیا۔ گاڑیوں پرفنکاری گھڑیاںلگی ہوئی تھیں جوبی جے پی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں نافذکئے گئے سخت کرفیوکے دن ، گھنٹے اور منٹ ظاہرکر رہی تھیں۔ بھارت کی معروف سماجی کارکن کویتا کرشنن نے کولکتہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوجی آمریت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہو ںنے کہاکہ کشمیر پہلے ہی دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا علاقے ہے لیکن اب مودی حکومت نے علاقے کو فوجی آمریت میں دے کر دنیا کو بتادیا ہے کہ بھارت ایک نام نہاد جمہوریت ہے۔