تہران ۔ 19 اگست (اے پی پی) ایران میں ہمدان کے فضائی اڈے سے اڑان بھرنے والے روسی طیاروں کے حملوں کے حوالے سے واشنگٹن اور ماسکو کے بعد اب تہران کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔اس سلسلے میں ایرانی مجلس شوری (پارلیمنٹ) کے اسپیکر علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ خطے کے معاملات مثلا شام میں روس کے ساتھ بطور حلیف ہمارے تعاون کا یہ مطلب نہیں کہ ہم …
ہمدان میں روس کو فوجی اڈہ نہیں دیا ،ایران

مزید خبریں
تہران ۔ 19 اگست (اے پی پی) ایران میں ہمدان کے فضائی اڈے سے اڑان بھرنے والے روسی طیاروں کے حملوں کے حوالے سے واشنگٹن اور ماسکو کے بعد اب تہران کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔اس سلسلے میں ایرانی مجلس شوری (پارلیمنٹ) کے اسپیکر علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ خطے کے معاملات مثلا شام میں روس کے ساتھ بطور حلیف ہمارے تعاون کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے اسے فوجی اڈہ دے دیا ہے۔ اگر کسی نے مذکورہ معاملے کو اس شکل میں پیش کیا ہے تو اسے یکسر مسترد کیا جاتا ہے۔لاریجانی نے یہ بات پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران کہی۔ ایسا نظر آتا ہے کہ انہوں نے یہ وضاحت قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری علی شمخانی کے جواب میں کہی ہے۔ شمخانی نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی تعاون کے سلسلے میں ماسکو کو فوجی تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے








