وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا پاکستان انوویٹیو فنانس فورم سے خطاب

اسلام آباد ۔ 25 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام آرہا ہے، پاکستانی بانڈز میں سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے،سٹاک مارکیٹ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے،باتیں بہت ہو چکیں اب عمل کا وقت ہے، ہمیں وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطوں کو …

اسلام آباد ۔ 25 نومبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام آرہا ہے، پاکستانی بانڈز میں سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے،سٹاک مارکیٹ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے،باتیں بہت ہو چکیں اب عمل کا وقت ہے، ہمیں وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانا ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں پاکستان انوویٹیو فنانس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ ملکی معیشت میں استحکام آرہا ہے، پاکستانی بانڈز میں سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی، براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری بھی بڑھ رہی ہے، ایسا ماحول پیدا کررہے ہیں کہ کاروبار اور برآمدات بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال کے پہلے چار ماہ میں ریونیو وصولی میں 16فیصد اضافہ ہواہے، حکومت مالی نظم و نسق ، شفافیت اوربہتر طرز حکمرانی کیلئے پرعزم ہے، معاشی ترقی کے لئے درکار پائیدار پلیٹ فارم قائم کردیا ہے، گذشتہ کئی برس سے برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا تھا تاہم اب برآمدات بڑھ رہیں ہیں،انہوں نے کہاکہ مقامی شرح پیداوار میں اضافے سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ حکومت کے لئے ٹیکس وصولی ایک اہم کام ہے، اس سے ہی حکومت فنڈزحاصل کرتی ہے۔ گذشتہ برس کے مقابلے میں محصولات میں 16 سے 17 فیصداضافہ ہوا ہے ، ہمارا ہدف 1.3 ٹریلین روپے کا ہے جو کہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس فورم کے دور رس بتائج ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بنک کا شکرگزار ہوں کہ وہ پاکستان کی امداد کرنے والوں میں سر فہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم کیا کر سکتے ہیں اور کونسے اقدامات اختیار کر سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت کو انتہائی ابتر صورتحال ورثہ میں ملی اور اس صورتحال کو بہتر بنانے میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہم برآمدگنندگان کو سہولیات فراہم کرنے کی ہرممکن کوشیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی برس بعد گذشتہ کئی ماہ سے ہماری سٹاک مارکیٹ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے، فارن ڈائریکٹ انویسٹمٹ میں گذشتہ برس کی نسبت بہتری آئی ہے۔ شرح بڑھوتری میں بہتری آئی ہے، آئی ایم ایف کے حالیہ نظرثانی کے بعد توثیق کی ہے کہ چیزیں ان کے مطابق ہو رہی ہیں اور بہتری آئی ہے۔ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ہمیں مرکز اور صوبوں کے درمیان رابطوں کو بہت بنانے پر کام کرنا ہو گا۔ ہم مائیکرو اسٹیبلٹی کافی حد تک حاصل کر چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں نجی شعبے سے بہترین ٹیکس کلیکٹر متعارف کرائے گئے۔ ریگولیٹری ادارے بنیاد کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے آزادی فراہم کرنا اور ذاتی مفاد کے لیے کام لینے سے بچانا ہو گا۔ ہم کاروباری کارکردگی کو بہتر بنانے کی ہرممکن کوشیش کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے منصوبوں پر کام کی رفتار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ہمیں فنانشل انکلوژن کے حوالے سے بہت کچھ کرنا ہو گا۔ دیکھنا ہو گا کہ اس ضمن میں دیگر ممالک کیسے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باتیں بہت ہو چکیں اب عمل کا وقت ہے۔ پی ایس ڈی پی میں 250 ارب روپے کے منصوبے شامل کئے ہیں۔ 90ء کی دہائی میں بھی پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کی باتیں ہوتی تھیں۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہم اپنے کم وسائل کا بہتر استعمال کیے کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر سابق گورنر اسٹیٹ بنک ڈاکٹر شمشاد اختر کے پاکستان انوویٹو فنانس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں نئے نئے انوویٹو فنانس کے طریقے ڈھونڈنے اور پہلے سے موجود کمزوریوں ہر قابو پانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ گرین بانڈ, ای ایس جی فنڈ اور گرائونڈ فنڈنگ اس کے بہتر متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔ انفراسٹرکچر بانڈ سے ٹیکس ریونیو سائیکل کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی ریگولیٹر ی فریم ورک کا ایک اہم کردار ہے۔ اس سے ہمارے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھانے, خسارے پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔