پائیدار ترقی کےلئے بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری ناگزیرہے، ڈاکٹر شمشاد اختر کا پاکستان انوویٹیو فنانس فورم سے خطاب

اسلام آباد ۔ 25 نومبر (اے پی پی) سابق وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ انفراسٹرکچر بانڈز بھی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے سلسلے میں بہت صلاحیت رکھتے ہیں، مجموعی طلب میں اضافہ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر ہو گا، اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ …

اسلام آباد ۔ 25 نومبر (اے پی پی) سابق وزیر خزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ انفراسٹرکچر بانڈز بھی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے سلسلے میں بہت صلاحیت رکھتے ہیں، مجموعی طلب میں اضافہ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر ہو گا، اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کےلئے ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانا ہو گی، پائیدار ترقی کےلئے بنیادی ڈھانچہ میں سرمایہ کاری ناگزیرہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں پیر کو 2روزہ پاکستان انوویٹیو فنانس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ کراو¿ڈ فنڈنگ جیسی جدید مالیاتی مصنوعات متعارف کرانا ہوں گی، انفراسٹرکچر بانڈز بھی بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے سلسلہ میں بہت صلاحیت رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طلب میں اضافہ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور لوگوں کی زندگی کا معیار بہتر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے لئے ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانی ہو گی، پائیدار ترقی کےلئے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہاکہ بنیادی ڈھانچے کے فقدان معیشت کی پیداوار متاثر ہورہی ہے، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کےلئے جدید مالیاتی مصنوعات کی ضرورت ہے، ایسی فنانسنگ مصنوعات سے بنیادی ڈھانچے کو مالکاری خدمات کی رسائی بہتر ہوگی، پبلک پرائیویٹ شراکت داری کےلئے مراعات دینا ہوں گی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی نجی شعبے کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔