سرینگر ۔ 8 دسمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں منگل کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر یوم سیاہ منایا جائے گا تاکہ عالمی برادری کی توجہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحا ل کی طرف مبذول کرائی جاسکے۔ کشمیرمیڈیا سرو س کے مطابق یوم سیاہ منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کی ہے۔ دنیا کو یہ بات …
مقبوضہ کشمیر میں منگل انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پریوم سیاہ منایا جائے گا

مزید خبریں
سرینگر ۔ 8 دسمبر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں منگل کو انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر یوم سیاہ منایا جائے گا تاکہ عالمی برادری کی توجہ علاقے میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحا ل کی طرف مبذول کرائی جاسکے۔ کشمیرمیڈیا سرو س کے مطابق یوم سیاہ منانے کی اپیل کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کی ہے۔ دنیا کو یہ بات یاد دلانے کے لئے کہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانا اس کی ذمہ داری ہے،اس دن مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتا ل کی جائے گی۔ دریں اثناء وادی کشمیر اورجموں خطے کے مختلف علاقوں میں مسلسل126ویں روز بھی فوجی محاصرہ اوردیگر پابندیاں بدستور جاری رہیں جس کی وجہ سے معمولات زندگی مفلوج رہے۔ انٹرنیٹ ، پری پیڈ موبائل اور ایس ایم ایس سروسز کی مسلسل معطلی کی وجہ سے طلبائ، تاجروں، ڈاکٹروں اور مریضوں سمیت معاشرے کے ہرطبقے کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ امیر محمد شمسی کی قیادت میں جموںکے مسلمان رہنمائوں پر مشتمل وفد جموں خطے کے اہم شہروں کے دورے کے دوران کٹھوعہ پہنچاہے۔ کٹھوعہ پہنچنے پر جموں وکشمیر یونائیٹڈپیس موومنٹ کے رہنما اورسابق کٹھ پتلی وزیر بابو سنگھ نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔ بابو سنگھ نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور بی جے پی حکومت کے حالیہ اقدامات پورے بھارت میں فرقہ وارانہ رجحانات اور بدامنی میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔ظفربنگش کی قیادت میںکینیڈا کے انسانی حقوق کے کارکنوں پرمشتمل ایک تین رکنی وفد نے اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے رہنمائوں سے ملاقات کی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ کے کنوینرسید عبداللہ گیلانی ،شیخ محمد یعقوب، عبدالمجید میر اور امتیاز وانی نے وفد کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا۔ واشنگٹن میںامریکی کانگریس کے ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں بھارت سے جموںوکشمیر میں مواصلاتی ذرائع پر پابندیاں ختم کرنے اورسیاسی نظربندوں کو جلد از جلدرہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ڈیموکریٹک خاتون رکن پرامیلا جیاپال اور ریپبلکن رکن سٹیو والکنزکی طرف سے پیش کی گئی قرارداد میں بھارتی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی مبصرین اور صحافیوں کو جموںوکشمیر تک رسائی فراہم کرے۔آرگنائزیش آف کشمیر کوئلیشن نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے سلسلے میں لندن میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا۔ کشمیر ی نمائندے بیرسٹر عبدالمجید ترمبو نے اس موقع پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت تنازعہ کشمیر کے قانونی پہلو کو اجاگر کیا۔ سیمینار میں ماہرین تعلیم، صحافیوں، سیاستدانوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔








