استنبول ۔ 9 دسمبر (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم مستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے لئے اس یکساں ہدف کو پالیں گے جو خطے کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے، پورے ایشیا کا امن افغانستان سے وابستہ ہیں، افغانستان کے ساتھ تمام شعبہ جات میں تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی ہماری اولین ترجیح ہے، ہماری کوشش ہے کہ …
وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا”ہارٹ آف ایشیائ“ آٹھویں وزارتی کانفرنس سے خطاب
استنبول ۔ 9 دسمبر (اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم مستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے لئے اس یکساں ہدف کو پالیں گے جو خطے کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے، پورے ایشیا کا امن افغانستان سے وابستہ ہیں، افغانستان کے ساتھ تمام شعبہ جات میں تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی ہماری اولین ترجیح ہے، ہماری کوشش ہے کہ تجارت اور معاشی تعلقات میں اضافہ ہو، عوامی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو بڑھایاجائے اور خطے میں رابطوں کا فروغ ہو، طورخم کراسنگ پوائنٹ کا چوبیس گھنٹے کے لئے کھلے رہنا ہماری سوچ کا عکاس ہے کہ ہم افغانستان میں امن اور ترقی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ پیر کو ”ہارٹ آف ایشیائ“ آٹھویں وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ میں اپنی معروضات کے آغاز سے قبل اس اہم کانفرنس کے دونوں شریک چئیرمین کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں۔ پرتپاک میزبانی اوربہترین انتظامات پر میں خاص طور پر برادر حکومت ترکی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میرے لئے ایک بار پھر استنبول جیسے خوبصورت اور پرکشش شہر آمد بڑی مسرت کا باعث ہے جہاں مشرق اور مغرب کا ملاپ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر حوصلہ افزائی کا باعث ہے کہ استنبول عمل کاآغاز 2011ءمیں ترکی اور افغانستان نے مشترکہ طورپر کیا تھا جو افغانستان کے معاملے پر کثیرالجہتی طریقہ ہائے کار کا کلیدی حصہ بن چکا ہے۔ مختصر مدت میں اس عمل نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور تقویت پائی ہے۔ اس سمت میں آگے بڑھتے ہوئے مجھے اعتماد ہے کہ ہم مستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے لئے اس یکساں ہدف کو پالیں گے جو خطے کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی اہمیت شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے اشعار میں دئیے گئے پیغام سے بھی عیاں ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ ”ایشیاءایک جسم کی مانند ہے جو پانی اور مٹی سے وجود میں آیا اور افغانستان اس جسم میں ایک دل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر افغانستان میں امن ہوگا تو پورے ایشیاءمیں امن ہوگا اور اگر افغانستان میں بدامنی ہوگی تو پورے ایشیاءمیں انتشار ہوگا“۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ آج سوسال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی وقت اور حالات علامہ اقبال کی بصیرت افروزی اوران کے قول کی صداقت کی گواہی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری میں کوئی اور قوم یہ دعوی نہیں کرسکتی کہ تاریخی طورپر وہ افغانستان کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتی ہے جو پاکستان کا ہے، نہ ہی دنیا میں کوئی اور ایسا ملک ہوسکتا ہے جو افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کا پاکستان سے زیادہ متمنی اور خواہاں ہوگا، دونوں ممالک میں جغرافیہ، مشترک عقیدہ ومذہب، ثقافت اور لسانی ہم آہنگی کے مضبوط اور نہ ٹوٹنے والے رشتے ہیں۔ پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا تجارتی و معاشی اوراقتصادی شراکت دار ہے۔ہمیں 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی گذشتہ 40 سال سے زائد عرصہ سے مہمان نوازی کا اعزاز حاصل ہے۔ ہم ان مہاجرین کی حفاظت اور عزت وتکریم سے اپنے گھروں کورضاکارانہ واپسی کے متمنی ہیں۔ 10 لاکھ سے زائد افغان سالانہ پاکستان افغانستان سرحد عبور کرتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ فطری طورپر اتنے قریبی روابط کی موجودگی میں افغانستان اور پاکستان دونوں کے لئے بعض مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں جن میں افغانستان سے بدامنی کا پاکستان میں داخل ہونا، منشیات فروشوں اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان گٹھ جوڑ اور خطے کو باہم جوڑنے کے منصوبہ جات کو عملی شکل دینے کے عمل کا فقدان وغیرہ شامل ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسائل سے قطع نظر پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تمام شعبہ جات میں تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی ہماری اولین ترجیح ہے، ہماری کوشش ہے کہ تجارت اور معاشی تعلقات میں اضافہ ہو، عوامی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو بڑھایاجائے اور خطے میں رابطوں کا فروغ ہو۔ انہوں نے کہا کہ طورخم کراسنگ پوائنٹ کا چوبیس گھنٹے کھلے رہنا ہماری سوچ اور اس واضح مقصدکے حصول کا واضح اظہار ہے کہ ہم افغانستان میں امن اور ترقی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر کی ترقی اور تعمیر نو کے لئے ایک ارب امریکی ڈالر سے زائد کی کمٹمنٹ اہمیت کی حامل ہے۔افغانستان، پاکستان ایکشن پلان برائے امن وبھائی چارہ (اے پی اے پی پی ایس) ایک نہایت مفید پلیٹ فارم ہے جس سے دونوں ممالک باہمی مفاد اور تشویش کا باعث بننے والے تمام معاملات ادارہ جاتی فریم ورک کے اندر حل کرسکتا ہے۔ اے پی اے پی پی ایس کا آئندہ اجلاس کابل میں ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی تناظر میں سات ستمبر 2019ءکو اسلام آباد میں ہم نے تیسرے چین، افغانستان، پاکستان وزراءخارجہ ڈائیلاگ کی میزبانی کی۔ سہہ ملکی فارمیٹ سے ہمارے درمیان روابط کو مزید گہرا بنانے میں مدد ملی۔ چند ہی ماہ میں ہم مشترکہ جونئیر ڈپلومیٹ تربیتی کورس کا انعقاد کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ تربیتی کورس فارن سروس اکیڈمی اسلام آباد میں منعقد ہوا، اس کے علاوہ انڈر 19 کرکٹ ٹونامنٹ منعقد ہوا اور سہ ملکی انسداد دہشت گردی ورکشاپ بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امن ومفاہمت کے حوالے سے ہمیشہ کی طرح پاکستان افغانوں کی قیادت میں ان کے اپنے تجویز کردہ حل کا حامی ہے۔ یہ امر باعث خوشی ہے کہ عالمی برادری نے اس ضمن میں پاکستان کے دیرینہ موقف کوتسلیم کیا ہے۔ ہم نے ہمیشہ زوردیا ہے کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں۔ ہماری نظر میں اس مسئلے کا واحد حل بات چیت کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے استعمال کی سوچ عام افغانوں کے دکھوں کو مزید بڑھانے کے مترادف ہے۔ مسئلے کے پرامن تصفیے کی سوچ کی ہم پرزور حمایت کرتے ہیں اور ہم نے امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات میں سہولت کاری بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پروفیسر کیون کنگ اور پروفیسر ٹیموتھی ویکس کی رہائی کی کوششوں کی بھی حمایت کی اور ہمیں خوشی ہے کہ بالآخر وہ محفوظ ہیں اور اپنے اہل خانہ کے پاس پہنچ چکے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں عارضی تعطل پرسخت تشویش رہی۔ پاکستان صدر ٹرمپ کے افغانستان میں سیاسی تصفیہ کے لئے بیان کا بھرپور خیرمقدم کرتا ہے جس میں طالبان سے مذاکرات کی بحالی بھی شامل ہے۔ مذاکرات کی حالیہ بحالی مثبت پیش رفت ہے جس سے افغانستان اور خطے میں پائیدار امن واستحکام کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن عمل کے نتیجے میں بین الافغان جامع مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ پاکستان تمام فریقین، علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا تاکہ سیاسی تصفیہ ممکن ہو اور تمام افغانوں کے مفادات اور تحفظات کا اطمنان بخش حل میسرآسکے۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ”شرپسندوں“ کے کردار سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا جن کے اپنے مفادات ہیں۔ افغانستان میں سیاسی تصفیہ کے ذریعے وسیع البنیاد عالمی اور علاقائی اتفاق رائے ایک منفرد مثال ہے۔ اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کی توجہ کا بنیادی محور ”امن، شراکت داری، خوشحالی“ ہے جوہماری دانست میں نہایت موزوں موضوع ہے۔ یہ تینوں اجزاءافغانستان میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لئے ناگزیر ہیں۔ یہ امر بھی نہایت ضروری ہے کہ ان تینوں اجزاءکا باہم ایک دوسرے پر انحصار ہے۔ خوشحالی کے بغیر امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا اور خوشحالی شراکت داری کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو افغانستان اور خطے کی خاطر طے کردہ اہداف کے حصول کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن اور توانائی کے منصوبہ جات کے ذریعے عملی رابطوں کو ترجیح بنانے پر بھی ہمیں اپنی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں طریقہ کار، ضابطوں، قوانین اور معاہدات کو سہل بنانا ہوگا تاکہ تجارت اور ٹرانزٹ کے شعبہ جات میں سہولتیں میسرآنے سے اشیاءاور خدمات کی فراہمی آسان ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی بات اس امید کے ساتھ ختم کرنا چاہوں گاکہ افغانستان کے لئے امن اور استحکام کا راستہ متقاضی ہے کہ تعاون اور تعمیری انداز اپنا کر آگے بڑھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مشترکہ اعلامیہ، ورکنگ گائیڈ لائنز اور اعتماد سازی کے سات اقدامات پر عمل درآمد کا پلان سب ہی جامع دستاویزات ہیں۔ یہ شراکت دار ممالک کے عزم کا مظہر ہیں جبکہ ہم اس ضمن میںعالمی تنظیموں کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ ہم انہیں حتمی شکل دینے میں کی جانے والی مشقت ومحنت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ زراعت کے شعبے میں تعاون کے لئے اعتماد سازی کے اقدامات کے ضمن میں پہل کرنے والے ملک کے طورپر پاکستان ریجنل ٹیکنیکل گروپ کے اجلاس کی 2020ءآئندہ سال کی پہلی سہہ ماہی میں میزبانی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئیں آج ہم سب مل کر افغانستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے آگے بڑھیں۔









