سرینگر۔ 13دسمبر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو مسلسل 131 ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ جاری رہا جس کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںخطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میںصورتحال بدستور ابتر ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق دفعہ 144کے تحت نافذ پابندیوں اور انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسز کی معطلی کے باعث کشمیریوںکو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ محاصرے اور پابندیوں کیوجہ سے لوگوں کو غذا، …
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی محاصرہ 131 ویں روز بھی جاری، صورتحال بدستور ابتر

مزید خبریں
سرینگر۔ 13دسمبر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں جمعہ کو مسلسل 131 ویں روز بھی بھارتی فوجی محاصرہ جاری رہا جس کی وجہ سے وادی کشمیر اور جموںخطے کے مسلم اکثریتی علاقوں میںصورتحال بدستور ابتر ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق دفعہ 144کے تحت نافذ پابندیوں اور انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسز کی معطلی کے باعث کشمیریوںکو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ محاصرے اور پابندیوں کیوجہ سے لوگوں کو غذا، زندگی بچانے والی ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی کی سخت قلت درپیش ہے جبکہ بڑھتی ہوئی سردی نے بھی ان کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ دریں اثنا مقبوضہ علاقے کے دور دراز دیہاتوں میں دل کے امراض میں مبتلا لوگوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ کی معطلی لوگوں کی زندگیوں کے زیاں کا سبب بن سکتی ہے ۔ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ”سیو ہارٹ انیشیٹو” کے نام سے ڈاکٹروں پر مشتمل وٹس ایپ گروپ رواں برس پانچ اگست سے معطل ہے۔گروپ کے ایک بانی ڈاکٹر ناصر شمس کا کہنا ہے کہ مذکورہ گروپ ان کے لیے لوگوں کی زندگیاں بچانے کا ایک ذریعہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروپ حقیقت میں ایک چلتا پھرتا ہسپتال تھا جس کے ذریعے سے کشمیر بھر میں دل کے مریضوں کی مدد کی جاتی تھی۔ ڈاکٹر شمس نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ بحال کیا جائے تاکہ وہ اپنے گروپ کو دوبارہ سے فعال کرسکے۔ ادھرادھر امریکی کانگرس کے رکن اسٹیو واٹکنز نے بھارتی حکومت کی جانب سے آئین کی دفعہ 370 جس کے تحت جموںوکشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسٹیو واٹکنز نے کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار بھارتی نژاد امریکی کانگرس کی خاتون رکن پرامیلا جیاپال کی طرف سے امریکی ایوان نمائندگان میں کشمیر کے بارے میں ایک مذمتی قرارداد پیش کرنے کے چند دن بعد کیا ہے۔ انہوں نے ایوان نمائندگان سے اپنے خطاب میں جموں و کشمیر کے عوام کیلئے جمہوریت اور آزادی کی حمایت کی اور مقبوضہ علاقے میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔








