نیویارک ۔ 19 دسمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے مشرقِ وسطی کے لیے خصوصی ایلچی نیکولے میلادینوف نے کہا ہے کہ اسرائیل دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے22 ہزار مکانات کی تعمیر کررہا ہے۔ نیکولے میلادینوف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بتایا ہے کہ دسمبر 2016ء میں قرارداد کی منظوری کے بعد جس میں یہ کہا گیا …
اسرائیل غرب اردن میں 22 ہزار مکانات تعمیر کر رہا ہے، اقوام متحدہ

مزید خبریں
نیویارک ۔ 19 دسمبر (اے پی پی) اقوام متحدہ کے مشرقِ وسطی کے لیے خصوصی ایلچی نیکولے میلادینوف نے کہا ہے کہ اسرائیل دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے22 ہزار مکانات کی تعمیر کررہا ہے۔ نیکولے میلادینوف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بتایا ہے کہ دسمبر 2016ء میں قرارداد کی منظوری کے بعد جس میں یہ کہا گیا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں تعمیر کی جانے والی اسرائیل کی تمام یہودی بستیوں کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے ،اسرائیل نے مزید تقریباً آٹھ ہزار مکانوں کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری کئے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ یہ تعداد ان تمام ممالک اور افراد کے لیے گہری تشویش کا باعث ہونی چاہیے ، جو اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی سلامتی کونسل میں غربِ اردن میں اسرائیل کی یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی ہے اور اس میں کہا ہے کہ ان بستیوںکا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہے کہ ان بستیوں کی تعمیر اور منظوری کا عمل فوری اور مکمل طور پر روکا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہودی بستیاں اسرائیلی قبضے کے خاتمے ، تنازع کے دو ریاستی حل اور ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو بھی منظم انداز میں معدوم کررہی ہیں۔








