بھارت، اتر پردیش میں ہسپتال کے عملہ کی بے حسی، ماں کو دو سالہ بیٹی کی نعش کے ساتھ رات ایمرجنسی شعبہ کے باہر کھلے آسمان تلے گزارنا پڑی

میرٹھ ۔ 05 ستمبر (اے پی پی) بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ہسپتال کے عملہ کی بے حسی کے باعث ایک ماں کو رات اپنی دو سالہ بیٹی کی نعش کے ساتھ ہسپتال کے ایمرجنسی شعبہ کے باہر کھلے آسمان تلے گزارنا پڑی۔ بھارتی اخبار کی رپورت کے مطابق ضلع بانمپت کی رہائشی خاتون عمرانہ اپنی دو سالہ بیمار بیٹی گلناز کو لے کر میرٹھ کے پی …

میرٹھ ۔ 05 ستمبر (اے پی پی) بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ہسپتال کے عملہ کی بے حسی کے باعث ایک ماں کو رات اپنی دو سالہ بیٹی کی نعش کے ساتھ ہسپتال کے ایمرجنسی شعبہ کے باہر کھلے آسمان تلے گزارنا پڑی۔ بھارتی اخبار کی رپورت کے مطابق ضلع بانمپت کی رہائشی خاتون عمرانہ اپنی دو سالہ بیمار بیٹی گلناز کو لے کر میرٹھ کے پی ایل شرما ڈسٹرکٹ ہسپتال آئی جہاں بچی کی حالت خراب ہونے پر ڈاکٹروں نے اسے لالہ لاج پت رائے میڈیکل کالج کے ہسپتال میں لے جانے کا مشورہ دیا ۔ ماں بیٹی کو لے کر دوسرے ہسپتال پہنچی تو ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ عمرانہ نے اپنی بیٹی کی لاش اپنے گاﺅں لے جانے کےلئے ایمبولینس کی فراہمی کےلئے دو گھنٹے تک عملہ کی منت سماجت کی جو بیکار گئی، جس کے بعد غمزدہ ماں ایک ٹیکسی والے کو 200 روپے دے کر اپنی بیٹی کی نعش لے کر واپس ڈسٹرکٹ ہسپتال پہنچی تو یہاں عملہ نے اسے ایمبولینس دینے کےلئے 2500 روپے مانگے جو اس کے پاس نہیں تھے۔ چنانچہ اسے یہ رات اپنی بیٹی کی نعش کے ساتھ ہسپتال کے باہر کھلے آسمان تلے گزارنا پڑی۔ بعد ازاں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میرٹھ نے بتایا کہ انہیں اس واقعہ کا علم نہیں اور وہ تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کو سزا دیںگے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوےدار بھارت میں حالیہ عرصہ کے دوران ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جن سے لوگوں کی حد درجہ کو پہنچی ہوئی بے حسی آشکار ہوتی ہے۔

Leave a Reply