قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی راجہ خرم شہزاد نواز کی اے پی پی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 9 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی راجہ خرم شہزاد نواز نے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افہام و تفہیم کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کررہی ہے، اسلام آباد کے باسیوں کی بالعموم اور اپنے حلقہ کے عوام کی بالخصوص فلاح و بہبود ترجیح ہے، تعلیم، …

اسلام آباد ۔ 9 فروری (اے پی پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی راجہ خرم شہزاد نواز نے کہا ہے کہ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افہام و تفہیم کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کررہی ہے، اسلام آباد کے باسیوں کی بالعموم اور اپنے حلقہ کے عوام کی بالخصوص فلاح و بہبود ترجیح ہے، تعلیم، صحت ، روزگار اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کے قیام اور منصفانہ قانون کرایہ داری کے نفاذ کیلئے مسودہ کمیٹی نے منظور کر لیا ہے جسے جلد قومی اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام میں ایکسپریس وے کیلئے 45 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں، گلبرگ گرین کے ساتھ کورنگ بریج کو تو سیع دی جا رہی اور پی ڈبلیو ڈ ی کے مقا م پر انڈر پاس بنانے جا رہے ہیں جس کے جلد ٹینڈر جاری کر دیئے جائیں گے، ہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے نام پر لوٹے گئے اربوں روپے وصول کر کے متاثرین کو انصاف دلائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی خبر رساں ادارے (اے پی پی) کے دورہ اور پینل انٹرویو کے دوران کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اے پی پی کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا۔ اے پی پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر غواث خان اور ڈائریکٹر مارکیٹنگ شاہد علی بٹ نے راجہ خرم شہزاد نواز کو اے پی پی کے پیشہ وارانہ امور سے متعلق بریفنگ دی اور معزز مہمان کا خیر مقدم کیا۔ اے پی پی کے خبروں کی ترسیل کے نظام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے راجہ خرم نواز نے کہا کہ ترقی کرتے ہوئے اس دور میں میڈیا کا ایک اہم کردار ہے تاہم سوشل میڈیا ایک اہم ٹول کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جو خبروں اور مواد کے تیزی سے پھیلاوکا موثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک منفرد آئینی حیثیت ہے جو کسی صوبے کا حصہ نہیں لیکن ماضی میں اسلام آباد کو وہ حقوق نہیں مل سکے جویہاں کے مقامی باسیوں کا حق تھا۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ ایک سے 15 تک کی سرکاری ملازمتوں پر اسلام آباد کے باسیوں کا حق تھا جبکہ دیگر علاقوں کے لوگوں کیلئے صوبائی اور علاقائی کوٹہ مختص کیا جاتا تھا لیکن ماضی کی حکومتوں نے اس حق کو پامال کیا جس کی وجہ سے مقامی لوگ روزگار کے مواقعوں سے محروم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے شعبہ میں بھی من پسند افراد کو نوکریاں دی گئیں اور مقامی لوگوں کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان تعلیمی اداروں کیلئے ہمارے آباﺅ اجداد نے اپنی زمینیں فراہم کی ہیں لیکن دیہی علاقوں کے تعلیمی اداروں میں وہ سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جو مختلف سیکٹروں میں واقع سکولوں میں فراہم کی جاتی ہیں، ہم ہر شعبہ کے ماہر اساتذہ اور جدید آلات سے تعلیمی اداروں کو لیس کرینگے جہاں طلباءو طالبات کو دیگر علوم کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر اورسائنسی علوم سیکھنے کے یکساں مواقع میسر ہوں۔ راجہ خرم نواز نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے ملازمین کے پلاٹوں کے معاملہ زیر بحث لایا گیا اور اس معاملے پر غور و خوض کے دوران معلوم ہوا کہ الاٹیوں نے زمین کی خریداری کیلئے 43 کروڑ 30 لاکھ روپے اور ترقیاتی اخراجات بھی ادا کئے لیکن انہیں پلاٹ نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ صرف اس پرائیویٹ سوسائٹی میں ساڑھے 7 ارب روپے کی کرپشن سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے معاملہ ایف آئی اے کو بھجوائیں گے۔ راجہ خرم نواز نےکہا کہ اسی طرح دیگر پرائیویٹ سوسائٹیوں میں بھی بہت سے معاملات کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سروس روڈ اور سروس ایریاز سوسائٹیوں نے بنانے ہوتے ہیں لیکن اس کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب سی ڈی اے سے ملکر ان معاملات کو بہتر بنانے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں جس کیلئے علی نواز اعوان کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں۔ سی بی آر سو سائٹی نے کھو کھر ہوٹل کے نز دیک یو ٹر ن کو سگنل فر ی بنا نے کا کام شروع کیا لیکن سی ڈی اے نے انہیں کام سے روک دیا تاہم اس معاملے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے قیام کے بعد سیکٹروں کے باہر صفائی کا کوئی انتظام نہیں اور میئر اسلام آباد نے اس ضمن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا جس کی وجہ سے میٹرو پولیٹن کارپوریشن غیر فعال ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپڑوں کے ایک جوڑے میں آئے لوگ آج ارب پتی کیسے بنے، ماضی میں ان پر نوازشیں کی گئیں اور کسی نے سوسائٹیوں کے نام پر عوام سے لوٹ مار کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور سوسائٹیاں ایک بڑا مافیا بن گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ متاثرین کے ساتھ انصاف ہو اور لوگوں کو ان کی لوٹی ہوئی رقوم واپس ملیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نادرا کے پاس ایک عمارت کے بعد دوسری عمارت کرائے پر لینے کا اختیار نہیں۔ ہماری کوشش ہو گی کہ علاقہ کے عوام کو نادرا کی سہولیات تک رسائی کیلئے ترلائی مرکز میں کوئی جگہ سرکاری عمارت میں فراہم کی جائے جس کیلئے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے باسیوں کیلئے پانی کی فراہمی کا بہت بڑا مسئلہ ہے اور موسم گرما میں یہ مسئلہ شدت ا ختیار کر جاتا ہے۔ ماضی میں غازی بروتھا سے اضافی پانی لانے کی بات کی گئی لیکن اس پر کوئی فزیبلٹی نہیں بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی و اصلاحات اسد عمر سے ملاقات کی ہے اور اس معاملے کو اٹھایا ہے۔ انہوں نے انفراسٹرکچر اورفزیبلٹی کی تیاری کیلئے گزشتہ دنوں واپڈا اور پی ڈبلیو ڈی کی ٹیموں کو بھی خان پور بھجوایا تھا تاکہ خانپور ڈیم سے پانی کی لیکیجز اور چوری کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ غازی بروتھا کی فزیبلٹی اور انفراسٹرکچر کی تیاری کا جائزہ لے رہے ہیں، امید ہے 200 ارب روپے کا یہ منصوبہ جلد پورا کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو قانون کرایہ داری کا مسودہ بھیجا گیا تھا جو اسد عمر کی طرف سے پیش کیا گیا تھا قائمہ کمیٹی نے اسے منظور کر لیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کے قیام کا بل بھی منظور ہو گیا ہے یہ دونوں بل جلد قومی اسمبلی میں پیش کر دیئے جائیں گے جس سے اسلام آباد کا دیرینہ مسئلہ حل ہو گا۔ اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میٹرو بس کے حوالے سے راولپنڈی کی طرح اسلام آباد میں کوئی ادارہ نہیں تھا جو اس کی دیکھ بھال اور انتطامات کا ذمہ دار ہواب اس حوالے سے سی ڈی اے کو ذمہ داری دینے کے حوالے سے کام ہو رہا ہے تاکہ اسلام آباد ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپنے حلقہ میں سی ڈی اے سے برما پل کی منظوری لی جو 35 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہو گا اور اس کیلئے ٹینڈر اور ورک آرڈر جاری ہو چکا ہے۔ اسی طرح گیس انفراسٹرکچر کا ایک منصوبہ بھی تقریباً تکمیل کے مراحل میں ہے اور حلقے کی ہر یونین کونسل میں کام مکمل ہو چکا ہے، بجلی کے منصوبوں پربھی کام جاری ہے، حلقہ کے عوام کو مایوس نہیں کروں گا۔