اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اقتصادی پالیسیاں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی حمایت سے اقتصادی اصلاحات کا پروگرام مروجہ بہترین اقتصادی انتظام و انصرام کی پالیسیوں کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ پیر کو یہاں جاری بیان میں ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ ان پالیسیوں کا ہدف پہلے مرحلے میں استحکام ہے۔ اگلے …
حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، معاشی اعشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے، جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں بیرونی ادائیگیوں کا شعبہ مستحکم ہوا ، مالی خسارے میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ،ترجمان وزارت خزانہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 فروری (اے پی پی) وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی اقتصادی پالیسیاں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی حمایت سے اقتصادی اصلاحات کا پروگرام مروجہ بہترین اقتصادی انتظام و انصرام کی پالیسیوں کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ پیر کو یہاں جاری بیان میں ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ ان پالیسیوں کا ہدف پہلے مرحلے میں استحکام ہے۔ اگلے مراحل میں تیز تر‘ پائیدار اور جامع بڑھوتری اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔ ترجمان نے یہ بیان پریس کے بعض حصوں میں شائع ہونے والی ان خبروں کے ردعمل میں جاری کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وجہ سے معیشت تباہ ہو رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج پہلے سے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ معاشی اعشاریوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں بیرونی ادائیگیوں کا شعبہ مستحکم ہوا ہے اور مالی خسارے میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے کم ٹیکس پاکستان کی معیشت کا بنیادی مسئلہ ہے جب تک اسے درست نہیں کیا جائے گا ملک معاشی خوشحالی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے محصولات میں اضافے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ٹیکس کی بنیاد اور محصولات میں توازن اور مساوات کے ساتھ اضافہ کیا جارہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ معاشی استحکام کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے معاشرے کے کم آمدنی والے طبقات کو تحفظ دینے کے لئے سماجی تحفظ کے پروگرام کے لئے بھاری وسائل مختص کئے گئے ہیں۔ اسی طرح صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لئے زیادہ فنڈز مختص کئے جاچکے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ معاشرے کے کمزور طبقات کو ریلیف کی فراہمی کے لئے توانائی کے شعبے میں بھی زر تلافی فراہم کی جارہی ہے۔








