اسٹیٹ بینک کا ”ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بحرانوں سے نمٹنا”کے عنوان پر سیمنارکا انعقاد

کراچی۔ 15 فروری (اے پی پی) بینک دولت پاکستان نے کراچی میں پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی)کے اشتراک سے ''ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بحرانوں سے نمٹنا ''کے عنوان پر ایک سیمینار منعقد کیا۔سیمینار میں پالیسی سازوں، مالی شعبے کے ماہرین، محققین، حکومتی عہدیداران، کمرشل بینکوں کے سربراہان، ممتاز کاروباری شخصیات اور اہل علم نے شرکت کی۔جاری اعلامیہ کے مطابق خیر مقد می کلمات میں اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر …

کراچی۔ 15 فروری (اے پی پی) بینک دولت پاکستان نے کراچی میں پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی)کے اشتراک سے ”ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بحرانوں سے نمٹنا ”کے عنوان پر ایک سیمینار منعقد کیا۔سیمینار میں پالیسی سازوں، مالی شعبے کے ماہرین، محققین، حکومتی عہدیداران، کمرشل بینکوں کے سربراہان، ممتاز کاروباری شخصیات اور اہل علم نے شرکت کی۔جاری اعلامیہ کے مطابق خیر مقد می کلمات میں اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ سیمینار کے انعقاد کا مقصد دوہرا ہے اول، یہ واضح کرنا کہ اسٹیٹ بینک اپنی مانیٹری، ایکسچینج ریٹ اور مالی استحکام کی پالیسیوں کی تشکیل اور نفاذ کے مینڈیٹ کے علاوہ معاشی مسائل پر تعمیری بحث مباحثے کو فروغ دینے کے لیے کوشاں اور متنوع نقطہ ہائے نظر سننے پر آمادہ ہے۔دوم ،اس امر کو اجاگر کرنا کہ پاکستان منفرد نہیں اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں موجود ہیں جنہیں بحرانوں کا سامنا ہوا ہے اور وہ مشکل تبدیلیوں سے گذری ہیں۔عالمی مالیاتی فنڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب ایتھناسیوس آرونیٹس نے کلیدی خطاب کیا۔ ان کی تقریرکے بعد پینل ڈسکشن ہوا جس میں پی بی سی کے سی ای او احسان ملک، میکرو اکنامک انسائٹس کے سی ای او ثاقب شیرانی اور ڈان اخبار کے معروف صحافی خرم حسین شریک ہوئے۔سیمینار کا اختتام حاضرین کے سوال و جواب کے سیشن پر ہوا۔آرونیٹس نے اپنے خطاب میں ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بحرانوں کی کچھ مشابہتوں کا تذکرہ کیا۔انہوں نے قرض کی بلند سطح، بھاری سرکاری و بیرونی خسارے، غیرلچکدار ایکسچینج ریٹ، مسابقت کے فقدان، بچت اور سرمایہ کاری کی پست سطح اور میعاد اور کرنسی میں عدم مطابقت کے مسائل کی بات کی۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ان مشابہتوں کے باوجود بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کوئی ایسا ماڈل نہیں جو ہر جگہ استعمال کیا جاسکے ۔ اس کے بجائے آئی ایم ایف مقامی استحکام پروگرام تشکیل دینے میں کسی ملک کی مدد کرتے وقت مختلف زاویے اختیار کرتا ہے۔ اس طریقہ عمل میں ملک کے بحران کی جڑوں کی تشخیص ، مختلف معاشی عاملین کی بیلنس شیٹ کے رجحانات اور ان میں باہمی تعلق اور ملک کی مخصوص حرکیات ،جو اصلاحات کی سیاسی معیشت کو متاثر کرتی ہیں، شامل ہیں ۔استحکام کے پروگرام تشکیل دینے کے حوالے سے آرونیٹس نے ملک کی طرف سے پروگراموں کو اپنانے اور محروم طبقات کی معاونت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے دیگر ابھرتے ہوئے ممالک میں بحرانوں سے نمٹنے کے تجربات کا پاکستان کی صورت حال سے موازنہ بھی کیا۔آرونیٹس نے پاکستان میں آئی ایم ایف پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے 2030 کے ایجنڈے کے تحت پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) پر توجہ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاری مالیاتی اصلاحات سے پاکستان کا سرکاری قرضہ نہ صرف پائیدار بنیاد پر مستحکم ہوجائے گا بلکہ ان اہداف کے سلسلے میں اہم فنڈنگ کے حصول کے لیے بنیاد بھی فراہم ہوجائے گی۔پینل ڈسکشن میں احسان ملک نے پاکستان میں موجودہ معاشی حالات اور پالیسیوں کے بارے میں کاروباری طبقے کا نقطہ نظر پیش کیا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مارکیٹ پر مبنی ایکسچینج ریٹ مکینزم اختیار کرنے اور پاکستان میں بہتر ہوتی ہوئی صورت حال کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے مینوفیکچرنگ سیکٹر پر ٹیکس کے زیادہ بوجھ کا ذکر کیا اور ایک قومی ٹیرف پالیسی لانے کی ضرورت پر زور دیا جس میں محاصل پیدا کرنے کے بجائے صنعت کو فروغ دینے کو ترجیح دی جائے۔انہوں نے ملک میں شرح سود کی سطح کے حوالے سے بھی کاروباری طبقے کی تشویش کا ذکر کیا۔ ثاقب شیرانی نے ان مختلف عوامل کا ذکر کیا جن سے ان کے خیال میں اس امر کی وضاحت ہوسکتی ہے کہ آئی ایم ایف کے کئی پروگراموں کے باوجود تاریخی طور پر پاکستان کی معاشی نمو ایک متوازن راستے پر کیوں نہ چل سکی۔ خصوصا انہوں نے ان پروگراموں کی تشکیل کے دوران ابتدائی حالات کی صحیح تفہیم کے فقدان اور منفی فیڈبیک لوپس کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے غیر روایتی پالیسیاں اختیار کرنے کے تصور سے اتفاق کیا اور تجویز دی کہ اگر مخصوص مقداری اہداف کے بجائے ڈھانچہ جاتی حالات پر زیادہ توجہ دی جائے اور پروگرام کی میعاد زیادہ ہو اور وہ زیادہ بیک لوڈیڈ ہوں تو آئی ایم ایف کے پروگراموں کی اثر انگیزی بڑھائی جاسکتی ہے۔ خرم حسین نے بھی پاکستان میں آئی ایم ایف کے پچھلے پروگراموں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان میں سے کوئی بھی معیشت کو پائیدار نمو کے راستے پر نہ ڈال سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پروگراموں کے آغاز کے بعد جلد ہی خارجی عوامل کی بنا پر سرمائے اور رقوم کی دستیابی کی وجہ سے ڈھانچہ جاتی کمزوریاں دور کرنے پر کبھی مناسب توجہ نہ دی گئی۔ خاص طور پاکستان کا ٹیکس بیس کم رہا ہے اور برآمدات میں توسیع اور تنوع نہیں آسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے معاشی استحکام اور نمو کا تعلق کمزور ہوگیا جس کے نتیجے میں پاکستان میں بار بار بوم اینڈ بسٹ کے سائیکل آتے رہے جس کا بوجھ بار بار غریبوں کا برداشت کرنا پڑا ہے۔سیمینار کے آخر میں حاضرین کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن ہوا جن میں زیادہ تر اس بارے میں سوالات کیے گئے کہ پاکستان میں بچت، برآمدات اور سرکاری محاصل میں اضافہ کرکے، زراعت اور مالی نظام کو ترقی دے کر، کاروباری ماحول کو بہتر بنا کر اور رقوم کی آمد میں بہتری لاکر کس طرح استحکام سے نمو کی طرف سفر کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

مزید خبریں