چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کا ”آسٹریلیا میں مسلم، شناخت“ موضوع پر سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ پاکستان کو تعلیم سمیت دیگر شعبوں سے آسٹریلیا میں مقیم مسلم کمیونٹی سے استفادہ کرنا چاہئے، ہمارے نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد ملک کی خدمت اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو مقامی ہوٹل میں ”آسٹریلیا میں مسلم، شناخت“ موضوع پر سیمینار سے …

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی) چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ پاکستان کو تعلیم سمیت دیگر شعبوں سے آسٹریلیا میں مقیم مسلم کمیونٹی سے استفادہ کرنا چاہئے، ہمارے نوجوانوں کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے بعد ملک کی خدمت اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو مقامی ہوٹل میں ”آسٹریلیا میں مسلم، شناخت“ موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ آسٹریلیا میں جو مسلمان کمیونٹی کو مستحکم کرنے اور وہاں پر اپنی ثقافت کو فروغ دینے میں عربوں، ترکوں اور پٹھانوں کا بڑا کردار ہے، اسی وجہ سے وہاں پکارے جانے والے ناموں میں ” خان“ لفظ زیادہ بولا جاتا ہے اور اونٹ بھی کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کو جو چیلنج مشترکہ طور پر درپیش ہیں ان میں شدت پسندی بھی شامل ہے کیونکہ سانحہ نیوزی لینڈ نے اس خطہ پر بھی منفی اثرات مرتب کئے ہیں اور دنیا پر یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ شدت پسند کا کسی مذہب یا فرقہ سے تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تعلیم سمیت دیگر شعبوں سے آسٹریلیا میں مقیم مسلم کمیونٹی سے استفادہ کرنا چاہئے اور بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہمارے نوجوانوں کی اولین ترجیح ملک کی خدمت ہونی چاہئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ویسٹرن یونیورسٹی پرتھ آسٹریلیا کی ڈائریکٹر مسلم سٹیٹ اینڈ سوسائٹی پروفیسر ثمینہ یاسمین نے کہا کہ آسٹریلیا میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے لیکن نائن الیون کے بعد شناخت کا بحران بڑھا ہے جس کی وجہ سے ان میں شدت پسندانہ رجحانات پروان چڑھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں مسلمانوں کی آمد انیسویں صدی میں شروع ہوئی، شروع میں مسلمانوں کی آمد بہت کم تھی لیکن پہلے جنگ عظیم کے بعد ترکش مسلمان آئے پھر لبنان جنگ کے بعد وہاں سے مسلمان آئے جو آج سب سے بڑی تعداد میں ہیں۔ بعد ازاں زیادہ تر مہاجرین کی صورت میں آئے جن کی تعداد 90ءکی دہائی میں بڑھی، عراقی، ایرانی اور صومالیہ سے مسلمان آئے جو آج شناخت کے بحران سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2016ءکی مردم شماری کے مطابق آسٹریلیا میں مسلمانوں کی تعداد 604200 ہے جو کل آبادی کا 2.6 فیصد ہیں۔تقریب سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔