آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات ،ایل او سی کے ساتھ مقیم افراد کی حالت زار سے آگاہ کیا ، انہیں مظفرآباد آنے کی دعوت دی

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے پیر کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ مقیم640,000 افراد کی حالت زار سے آگاہ کیا اور انہیں مظفرآباد آنے کی دعوت دی۔ پیر کو یہاں جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے دوران صدر نے …

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے پیر کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کی، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ مقیم640,000 افراد کی حالت زار سے آگاہ کیا اور انہیں مظفرآباد آنے کی دعوت دی۔ پیر کو یہاں جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے دوران صدر نے انہیں آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں مہاجرین کے کیمپوں میں مقیم 40 ہزار مہاجرین / داخلی طور پر بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کی حالت سے بھی آگاہ کیا۔ صدر آزاد جموں و کشمیر نے سکریٹری جنرل کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعہ کو حل کرنے کے پر زور دینے اور اپنے اسر رسوخ استعمال کرتے ہوئے ثالثی کی حیثیت سے اپنے کردار ادا کرنے کی پیش کش پر شکریہ ادا کیا۔ سردار مسعود احمد خان نے انتونیو گتریس کا ہندوستان اور پاکستان کے مابین خاص طور پر لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو کم کرنے اور بیان بازی روکنے کا مطالبہ کرنے پر بھی شکریہ ادا کیا۔ آزاد جموں وکشمیر کے صدر نے خاص طور پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے اظہار تشکر کیا کہ انہوں نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر (آئی او جے کے) کے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری اور بنیادی حقوق کی بحالی پر زور دیا ہے جیسا کہ آزاد جموں و کشمیر کے بسنے والوں کو بنیادی حقوقحاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقوام کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا اثر رسوخ، سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے بھارت کو ہٹ دھرمی سے روکے ۔ اقوام متحدہ کا کوئی ایک رکن اپنی ہٹ دھرمی سے پوری تنظیم کو یرغمال نہیں بنا سکتا۔ سردار مسعود احمد خان نے انتونیو گتریس کو بھارت کی طرف سے آزاد جموں و کشمیر میں ایل او سی کے ساتھ مسلسل شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کی وجہ سے شہریوں کو شدید خطرات اور تشویش لاحق ہے کیونکہ بھارت مسلسل بلا اشتعال فائرنگ سے ان آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو یہ تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے دفتر کی طرف سے اقوام متحدہ کے ادارے یو این کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان (ایم او جی آئی پی)کی رپورٹ پیش کرکے تمام رکن ممالک میں تقسیم کی جائے۔ جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لئے سلامتی کونسل میں کشمیر کے بارے میں بات چیت لازمی ہے۔ اس اعلی فورم پر خاموشی جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ غلط بیانی اور نا انصافی ہو گی جو محاصرے میں ہیں اور آئے روز قتل و غارت گری اور بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں۔ بھارت کی انتہا پسند حکمران جماعت اپنے جرائم کی پردہ پوشی کے لئے دنیا کو کشمیر پر خاموش رکھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو بتایا کہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کے حق میں اظہار خیال کیا ہے اور اسے جاری رکھنا چاہئے۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر نے کہا کہ قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر اقوام متحدہ بین الاقوامی حقوقکا علم بردارہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو ایک بین الاقوامی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے ، جسے انسانیت کو جنگ کی تباہی سے بچانے اور بیرونی تسلط اور میں رہنے والے لوگوں کو آزادی دلانے کے لئے اپنا قائدانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس تناظر میں ، صدر آزاد کشمیر نے ماضی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگربھارتی قیادت کے ساتھ تفصیلی گفتگو کرنے پر سکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن اور مفاہمت تاریخی اعتبار سے نا گزیر ہے کیونکہ جنگ انسانیت کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی۔ اور خطے میں پائیدار امن کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے ہی ممکن ہو گا۔