بھارت نے چھ ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ،عالمی قوانین کی نفی کرتے ہوئے وادی کا بلیک آﺅٹ کر رکھا ہے ،وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور کی برطانوی وفد سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 18 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ بھارت نے چھ ماہ سے زائد عرصہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ اور تمام عالمی قوانین کی کھلی نفی کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کا مکمل بلیک آﺅٹ کر رکھا ہے،چھ ماہ میں ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے مقبوضہ کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل …

اسلام آباد ۔ 18 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ بھارت نے چھ ماہ سے زائد عرصہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ اور تمام عالمی قوانین کی کھلی نفی کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کا مکمل بلیک آﺅٹ کر رکھا ہے،چھ ماہ میں ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے مقبوضہ کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل کیا گیا جبکہ حالات پر پردہ ڈالنے کےلئے وادی میں غیر جانبدار میڈیا اور مبصرین کا داخلہ بند کر رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں ایک برطانوی وفد جس کی قیادت ہائی ویکمب کے میئر کونسلر مزمل حسین کر رہے تھے، سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق سمیت خطے کی مجموعی سیکورٹی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ بھارتی افواج نہتے کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہیں اور چھ ماہ میں ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے مقبوضہ کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے،بھارت نے مقبوضہ کشمیرکے حالات پر پردہ ڈالنے کےلئے وادی میں غیر جانبدار میڈیا اور مبصرین کا داخلہ بند کر رکھا ہے۔انھوں نے کہا کہ بھارت نے 80 لاکھ کشمیریوں کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بند کر رکھا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں سمیت انسانی حقوق کے تمام عالمی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔علی امین خان گنڈاپور نے کہا کہ گزشتہ 70 سالوں میں مقبوضہ وادی میں ہزاروں افراد کو شہید کر دیا گیا جبکہ وہاں اجتماعی قبروں کی موجودگی کا اعتراف خود انسانی حقوق کے ادارے کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ظالمانہ ہتھکنڈوں کے تحت ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو پیلٹ گن کے ناجائز استعمال کے ذریعے زخمی اور عمر بھر کےلئے نابینا کر دیا ہے۔ وفد کے ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے ضمن میں وفد کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کا تعلق ایک انتہاءپسند ہندو جماعت سے ہے اور حالیہ شہریت بل سے مودی کا ہندو فاشسٹ ایجنڈا بے نقاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے انتہاءپسند ایجنڈے سے نہ صرف مسلمان بلکہ بھارت کی دیگر اقلیتوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری تین نسلوں سے اپنے حق خود ارادیت کا انتظار کر رہے ہیں اور حق خودارایت کے حصول کےلئے پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ پرعزم انداز سے کھڑا ہے۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ اور یورپی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو کشمیریوں کا حق خودارادیت دلوانے کےلئے متحرک انداز میں کام کرنا ہو گا تاکہ ان کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق انھیں حق خودارادیت دلوایا جا سکے۔ وفد میں سٹیو بیکر، سوئی ہائنرڈ، فلپ ہائنرڈ، کونسلر لیسلی کلارک، کونسلر مارٹن کلارک، کونسلر ضیاءاحمد اور کونسلر ظفر اقبال شامل تھے۔