اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ کا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہلی میں مسلم مخالف تشدد پراظہار تشویش

جنیوا۔ 28 فروری (اے پی پی)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ نے چھ ماہ سے جابرانہ محاصرہ کی زد میں آئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور نئی دہلی میں بڑھتے ہوئے مسلم مخالف تشدد کو بھی تشویشناک قرار دیا ہے جہاں پرمتنازعہ شہریت ایکٹ کے خلاف پرامن احتجاج کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انسانی …

جنیوا۔ 28 فروری (اے پی پی)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی سربراہ نے چھ ماہ سے جابرانہ محاصرہ کی زد میں آئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور نئی دہلی میں بڑھتے ہوئے مسلم مخالف تشدد کو بھی تشویشناک قرار دیا ہے جہاں پرمتنازعہ شہریت ایکٹ کے خلاف پرامن احتجاج کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بیچلیٹ نے بھارتی رہنماو¿ں سے اپیل کی کہ وہ تشدد کی روک تھام کے لئے اقدامات کریں۔انہوں نے 47 اراکین پر مشتمل جنیوا میں قائم کونسل کو بتایا کہ زیادہ تر وسیع پیمانے پر بھارت میں شہریت بارے ترمیمی قانون جو دسمبر میں اپنایا گیا تھا کے خلاف زیادہ تر وسیع پیمانے پراحتجاج بھی تشویش کا باعث ہے۔بیچلیٹ نے مزید کہا کہ بہت بڑی تعداد میں بھارتیوں اور تمام جماعتوں کے افراد نے ایکٹ کی مخالفت کی ہے ، اور سیکولرازم کی ملک کی طویل روایت کی حمایت میں پر امن انداز میں اپنے احتجج کااظہار کیا ہے۔ہائی کمشنر نے ہندو گروہوں کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف حملوں کی صورت میں پولیس بے حسی اور ہندووئں کے خلاف کارروائی نہ کئے جانے کو افسوسناک قراردیا ۔ انہوں نے پولیس کی طرف سے پرامن مظاہرین کے خلاف حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ فرقہ وارانہ حملوں میں اتوار 23 فروری سے 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیںلہذا میں بھارت کے میں تمام سیاسی رہنماو¿ں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ تشدد کو روکیں۔”، بچیلیٹ نے اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کیاکہ مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی فورسز کے ذریعہ طاقت کے زیادہ استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کو دور کرنے کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ کچھ سیاسی رہنماو¿ں کو رہا کیا گیا ہے ، اور کچھ معاملات میں عام زندگی معمول پر آسکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی مبینہ طور پر 800 افراد نظربند ہیں ، جن میں سیاسی رہنما اور کارکن شامل ہیں۔ہائی کمشنر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھاتی فووج کی بڑی تعداد میں مسلسل موجودگی سے اسکولز ، کاروبار اور روزگار متاثرہوئے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بھارتی حکومت نےبھارتی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد موبائل اور انٹرنیٹ خدمات کو جزوی طور پر بحال کردیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکام مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے استعمال پر ضرورت سے زیادہ پابندیاں عائد کرتے رہتے ہیں۔