اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت پاور چائنہ نے 20 ترجیحی عملدرآمد والے منصوبوں میں بجلی اور انفراسٹرکچر کے 8 منصوبے مکمل کر لئے ہیں جن میں پورٹ قاسم ، دادو ونڈ فارم، سچل ونڈ فار، پی کے ایم تیز رفتار، لاہوراورنج لائن، ساہیوال کول پاور پلانٹ، کروٹ پن بجلی کا منصوبہ، تھر بلاک ٹو جیسے منصوبے شامل ہیں …
سی پیک کے تحت پاور چائنہ نے بجلی اور انفراسٹرکچر کے 8 منصوبے مکمل کر لئے

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کے تحت پاور چائنہ نے 20 ترجیحی عملدرآمد والے منصوبوں میں بجلی اور انفراسٹرکچر کے 8 منصوبے مکمل کر لئے ہیں جن میں پورٹ قاسم ، دادو ونڈ فارم، سچل ونڈ فار، پی کے ایم تیز رفتار، لاہوراورنج لائن، ساہیوال کول پاور پلانٹ، کروٹ پن بجلی کا منصوبہ، تھر بلاک ٹو جیسے منصوبے شامل ہیں میں سرمایہ کاری اور تعمیر میں حصہ لیا۔ پاور چائنہ کی طرف سے جاری اعداد وشمار کے مطابق اب تک چین نے 10 ہزار سے زیادہ مقامی افراد کو تربیت اور ملازمت فراہم کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاور چائنہ پاکستان نے دیگر مقامی کمپنیوں اور دنیا کی سرکردہ بجلی بنانے والے کمپنیوں کے ساتھ مل کر7ہزار 302 میگاواٹ کی صلاحیت کے حامل بجلی کے متعدد منصوبے مکمل کئے ہیں جن میں پاکستان کے سب سے بڑے دو پہلے سے چلنے والے بجلی گھر پورٹ قاسم اور ساہیوال کول پاور سٹیشن شامل ہیں اور ان کی صلاحیت 1320 میگاواٹ ہے۔ پاور چائنہ نے حویلی بہادر شاہ میں ای پی سی کا 1230 میگاواٹ گیس سے چلنے والے سائیکل اور سٹیشن بھی مکمل کیا جو پاکستان میں سب سے بڑا اور دنیا کاسب سے مؤثر چلنے والا کمبائینڈ سائیکل پاور پلانٹ ہے۔ پن بجلی سیکٹر میں پاور چائینہ نے تربیلا ہائیڈرو پاور سٹیشن 1410 میگاواٹ کے چوتھے مرحلے میں توسیع کے تعمیراتی کا سر انجام دیئے جو اب تک پاکستان میں نصب سب سے بڑا پاور سٹیشن (4880 میگاواٹ) ہے۔ متبادل توانائی کے شعبے میں پاور چائنہ نے ای پی سی کے ساتھ مل کر صوبہ سندھ میں 350 میگاواٹ کے حامل 9 ونڈ سٹیشن تعمیر کئے ہیں۔ ان تمام منصوبوں نے پاکستان میں بجلی کے بحران پر قابو پایا گیا ہے۔








