اسلام آباد ۔ 19 مارچ (اے پی پی) پاکستان نے بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم کی مذمت کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وباءکو مدنظر رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں 228 دنوں سے جاری لاک ڈاﺅن ختم کرے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ کشمیریوں …
پاکستان کی بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم کی مذمت ،ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کی ہفتہ وار بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 مارچ (اے پی پی) پاکستان نے بھارتی فورسز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم کی مذمت کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی وباءکو مدنظر رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں 228 دنوں سے جاری لاک ڈاﺅن ختم کرے۔ جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے مقبوضہ کشمیر میں بیگناہ کشمیریوں پر مظالم کی مذمت کی اور کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے کیسز کی رپورٹس کے حوالہ سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاﺅن فوراً ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ترجمان نے بیرون ممالک تمام پاکستانی کمیونیٹیز پر بھی زور دیا ہے کہ وہ مقامی اتھارٹی کی ایڈوائزری کے مطابق اپنی اور دیگر لوگوں کی حفاظت کیلئے غیر ضروری سفر اور سماجی رابطوں سے پرہیز کریں۔ معمول کے مطابق بریفنگ کورونا وائرس کی روک تھام کی کوششوں کے سلسلے میں رپورٹرز کے بغیر منعقد ہوئی جبکہ سوال و جواب کا سلسلہ ای میل کے ذریعے جاری رکھا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ اس مشکل وقت میں عوامی آگاہی اور سیفٹی کیلئے میڈیا کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس چیلنج پر صرف اجتماعی کوششوں سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ کورونا وائرس تیزی سی پھیل رہا ہے جبکہ حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز شہریوں کے تحفظ کیلئے تمام میکنزم اور سسٹم کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دفتر خارجہ نے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے مختار ناموں کی تصدیق کے سوا تمام قونصلر سروسز معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دستاویزات کی تصدیق اب صرف کوریئر کمپنیوںکے ذریعے ہو گی۔ قونصلر سروسز تین اپریل تک معطل رہے گی۔ ترجمان نے کہا کہ وزارت خارجہ امور نے خصوصی سیکرٹری کی نگرانی میں کورونا وائرس سے متعلق تعاون کی غرض سے کرائسز مینجمنٹ یونٹ بھی قائم کر دیا ہے۔ پاک چین دوستی کے حوالہ سے ترجمان نے کہا کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے حالیہ دورہ چین کا مقصد اس مشکل وقت اپنے آہنی دوست ملک چین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا تھا۔ دونوں ملکوں نے سٹریٹجک پارٹنرز شپ کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاک۔افغان تعلقات کے حوالہ سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ امن و یکجہتی کیلئے افغانستان۔پاکستان ایکشن پلان (اے پی اے پی پی ایس) کے اگلے اجلاس کیلئے تاریخ کا تعین تاحال نہیں کیا گیا۔ ترجمان نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان امریکہ۔طالبان امن معاہدہ پر عملدرآمد کا خواہاں ہے جس سے انٹرا افغان مذاکرات کا جلد آغاز ہو گا۔ پاکستان نے ہمیشہ افغان حکومت اور عوام کی قیادت میں امن عمل کی حمایت کی ہے، ہم توقع رکھتے ہیں کہ دوحہ امن معاہدہ سے افغانستان میں پائیدار قیام امن کیلئے بین الافغان مذاکرات جلد شروع ہوں گے۔ ترجمان نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے پاکستانی زائرین کی واپسی سے قبل سرحد پر مطلوبہ انفراسٹرکچر کا بندوبست کیا گیا تھا۔ بیرون ملک پاکستانی مشنز کی جانب سے ویزا سروس معطل کرنے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ فی الحال بیرون ملک کسی بھی پاکستانی مشن میں ویزا سروسز معطل نہیں کی گئیں، تمام مشنز اوورسیز پاکستانیوں کو ضروری قونصلر سروسز فراہم کر رہے ہیں۔ ملکی معیشت اور سی پیک پر کورونا وائرس کے اثرات کے حوالہ سے ترجمان نے کہا کہ سی پیک طویل المدتی منصوبوں پر مشتمل ہے اور اس کی مکمل تکمیل کیلئے کئی سال درکار ہیں، ہمیں مکمل اعتماد ہے کہ سی پیک کے تمام منصوبے بروقت مکمل ہوں گے جبکہ کورونا وائرس کے قلیل المدتی اثرات پر قابو پا لیا جائے گا۔ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے چین سے امداد طلب کرنے کے حوالے سے سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور چین ہر مشکل وقت میں ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بانہ کھڑے رہتے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا حالیہ دورہ چین اس کی واضح مثال ہے۔ اٹلی میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس وقت اٹلی میں ایک لاکھ 50 ہزار کے قریب پاکستانی شہری مقیم ہیں، ان میں زیادہ تر اٹلی کے شمالی علاقہ لمبارڈے میں رہتے ہیں۔ روم میں ہمارا سفارتخانہ اور میلان میں قونصلیٹ جنرل پاکستانی برادری سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ سفارتخانے اور قونصلیٹ جنرل نے پاکستانی برادری کو انفارمیشن اور سروسز کی فراہمی کے لئے ہیلپ لائنز بھی قائم کر رکھی ہیں۔








