اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کرونا وبا کے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے اقوام عالم کو مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی ، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک جوپہلے ہی قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اس وقت درپیش عالمی تناظر میں ان کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اپنے جرمن ہم منصب ہیکو ماس سے ٹیلیفون پر بات چیت ہمیں ایران کی صورت حال پر تشویش ہے،

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کرونا وبا کے چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے اقوام عالم کو مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی ، پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک جوپہلے ہی قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اس وقت درپیش عالمی تناظر میں ان کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کو اس عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کیلئے استعمال میں لا سکے۔شاہ محمود قریشی ہفتہ کو اپنے جرمن ہم منصب ہیکو ماس سے ٹیلیفون پر بات چیت کر رہے تھے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے جرمن ہم منصب سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور جرمنی میں کرونا وائرس کے باعث ہونیوالے کثیر جانی و مالی نقصان پر اظہار تعزیت کی۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے جرمن ہم منصب کو کرونا وبا سے نمٹنے کیلئے، پاکستان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرونا وبا اس وقت پوری دنیا کیلئے بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے، اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے اقوام عالم کو مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کرونا وائرس پوری انسانیت کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ایران میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، ایران میں کرونا وائرس سے متاثرہ اشخاص اور اس وائرس کے سبب ہونیوالی اموات کی تعداد خطے میں سب سے زیادہ ہے، اس صورت حال کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ ایران پر عائد معاشی پابندیوں کو فی الفور اٹھایا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس آفت کا مقابلہ کر سکیں۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اپنے جرمن ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک جو قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اس وقت درپیش عالمی تناظر میں ان کو قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کو اس عالمی وبا کا مقابلہ کرنے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔وزیر خارجہ نے اپنے جرمن ہم منصب کو، کرونا وبا کے تناظر میں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں 8 ماہ سے جاری مسلسل کرفیو اور ہندوستان کی جانب سے انسانی حقوق پے در پے خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔بھارت کی جانب سے مسلسل کرفیو کے باعث ، غذا اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم اپنے محدود ذرائع کے ساتھ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔جرمن وزیر خارجہ نے کہا کہ جرمنی میں اس وقت 20 ہزار سے زیادہ افراد کرونا انفیکشن سے متاثر ہو چکے ہیں اور اب تک 68 افراد لقمہ ء اجل بن چکے ہیں،ہمیں ایران کی صورت حال پر تشویش ہے۔جرمن وزیر خارجہ نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو یقین دلایا کہ وہ قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف اور ایران پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کا معاملہ اگلے ہفتے منعقد ہونے والی جی 7 وزرائے خارجہ کانفرنس اور یورپین یونین فارن منسٹرز کانفرنس میں اٹھائیں گے۔دونوں وزرائے خارجہ نے اس صورت حال پر مشاورتی سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔








