اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تمام تر سیاسی اختلافات اور مفادات قرنطینہ میں ڈال کر قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے،ہمیں ایک قوم بن کر دنیا کو پیغام دینا ہے کہ ہم ہر خطرے سے نمٹ …
موجودہ حالات میں عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے،حکومت صوبوں کو ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے،ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، تمام تر سیاسی اختلافات اور مفادات قرنطینہ میں ڈال کر قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے،ہمیں ایک قوم بن کر دنیا کو پیغام دینا ہے کہ ہم ہر خطرے سے نمٹ سکتے ہیں، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب میڈیا سے اشتراک عمل کے پہلو پر زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، آبادی کے لحاظ سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے پنجاب کیلئے چیلنج بھی بڑا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار تمام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، عوام کے تحفظ کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کے لیے پْر عزم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نیکورونا وائرس کے حوالے سے موثر میڈیا حکمت عملی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات ڈاکٹر فردوس عا شق اعوان نے کورونا کے چیلنج سے نمبرد آزما ہونے کے لیے میڈیا آگاہی مہم اور اطلاعات کی بروقت اور درست فراہمی کے لیے موثر حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان کے وزراء اطلاعات کو ویڈیو لنک کے ذریعے یکجا کرنے کا اقدام اٹھایا۔ اجلاس میں سندھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ ، خیبر پختونخوا کے وزیراطلاعات اجمل وزیر خان، بلوچستان کے وزیر اطلاعات لیاقت شاہوانی اور گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات شمس میر شریک ہوئے۔معاون خصوصی اطلاعات و نشریات نے کہا کہ کورونا وائرس کے خطرات کو کم کرنے کے لئے حکومت صوبوں کو ہر ممکن وسائل فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کے اجلاس میں بھی ان اقدامات کا جائزہ لیا گیا اورموجودہ حالات میں عوام کے جان و مال کا تحفظ کے لئے اہم فیصلے کئے گئے جن پر عملدرآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی طرف سے یقین دلاتی ہوں کہ موجودہ حالات میں ہم سب متحد ہیں اورہمیں ایک قوم بن کر دنیا کو پیغام دینا ہے کہ ہم ہر خطرے سے نمٹ سکتے ہیں۔ معاون خصوصی اطلاعات و نشریات نے کہا کہ میڈیا کو بروقت اور درست معلومات کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں اورموثر میڈیا حکمت عملی سے متعلق اجلاس کا مقصد بھی درست اعداد و شمار اور اقدامات سے متعلق معلومات میڈیا کے ذریعے عوام الناس تک پہنچانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی جعلی خبروں کا تدارک کر رہے ہیں جو اس طرح کے اقدامات سے ہی ممکن ہو گا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سوشل میڈیا پر کورونا وائرس سے متعلق جھوٹی خبروں کا تدارک بہت ضروری ہے اور ہمیں وباء کو شکست دینے تک سیاسی اختلافات اور مفادات کوبھولنا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں عوام کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم اس وباء سے نمٹ لیں گے تو سیاست بھی ہو جائے گی۔ معاون خصوصی نے عوام الناس پر زور دیا کہ غیر ضروری گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں جو گاہے بگاہے میڈیا کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے فیصلے کا اختیار صرف وزیراعظم عمران خان کے پاس ہے، سماجی میل جول میں کمی سے وباء سے نمٹاجا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان لاک ڈائون کے حامی نہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ آئسولیشن سے متعلق سماجی ذمہ داریاں پوری نہ ہوں، وزیر اعظم نے میڈیا اورعوام سے احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب کوئی پہرے دار بٹھا کر بند کرنا نہیں بلکہ سیلف آئسولیشن کے ذریعے سماجی میل جول کم کرکے خود بچنے اور دوسروں کو بچانے کا احساس پیدا کرنا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ ہماری معیشت اور معاشرے میںنچلی سطح پر اتنی سکت نہیں کہ وہ اتنے بڑے جھٹکے برداشت کر سکے ، مزدور اور محنت کش دیہاڑی دار طبقات اس طرح کے اقدامات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات ناصرحسین شاہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں میڈیا کو بھی سپورٹ چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کے حوالے سے قومی حکمت عملی ترتیب دینے میں وفاق کا ہر اول دستے کا کردار ہے، کورونا کے تناظر میں ابلاغ کے نظام کو موثر بنانے میں ہم معاون خصوصی اطلاعات و نشریات کی کاوشوں کو سراہتے ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں ، وائرس پر قابو پانے کی تمام مشترکہ کاوشوں کے فروغ کے حامی ہیں۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس اقدام سے میڈیا کو بروقت اور درست معلومات کی فراہمی اور سوشل میڈیا پر چلنے والی جعلی خبروں کا تدارک ممکن ہوگا۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات اجمل وزیر خان نے کہا کہ ہم اس قسم کے چیلنجز سے نمٹنے کے پر عزم ہیں، وباء کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے ، سوشل میڈیا پر ہمارا فوکس ہے، معلومات ویڈیو ز اور انفوگرافکس کے ذریعے شیئر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ضمن میں تمام خبریں محکمہ اطلاعات کے ذریعے چلائی جائیں گی تاکہ بروقت معلومات میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچ سکے۔ اجمل وزیر نے کہا کہ صوبے میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 23 ہے، دو اموات ہو چکی ہیں اور مزید دو نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈی آئی خان میں تفتان سے آئے زائرین کے لئے دو قرنطینہ مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات شمس میرنے کہا کہ گلگت بلتستان میں سکرینگ کے عمل کو تقویت دینے کے لیے ہیلتھ پروفیشنلز اور پیرامیڈکس کی استعداد کار بڑھانے کے ضرورت ہے۔ بلوچستان اور پنجاب کے صوبائی وزارت اطلاعات و نشریات کے نمائندوں نے بھی ویڈیو کانفرنس میں شرکت کی۔ وزرائے اطلاعات و نشریات نے میڈیا کے سوالات کے بھی جواب دیئے اور کہا کہ موجودہ حالات میں یہ ویڈیو رابطہ درست معلومات کی فراہمی کا مربوط اور موئثرذریعہ ثابت ہو گا۔ تمام وزرائے اطلاعات نے محدود وسائل اور مشکل صورتحال کے باوجود حکومت بلوچستان کے بروقت اقدامات اور کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔اجلاس میں اہم فیصلے بھی کئے گئے۔ فیصلہ کیا گیا ایک واٹس ایپ گروپ تشکیل دیا جائے گا جس میں تمام صوبوں کے وزراء اطلاعات کورونا کے پیش نظر تمام انتظامی امور اور اقدامات کے متعلق انفارمیشن کا تبادلہ کریں گے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے میکنزم قائم کیا جائے گا تاکہ عوام کو افراتفری سے محفوظ اور کورونا وائرس سے متعلق جھوٹی خبروں کا تدارک کیا جاسکے۔ فیصلہ کیا گیا کہ سینٹر نیوز پورٹل قائم کیا جائے گا تاکہ موثر انداز سے عوام کو معلومات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پی آئی ڈی میں ہیلپ لائن قائم کردی گئی ہے جس کے ذریعے وفاق ، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی اور اْن کے اہل خانہ کورونا کے مفت ٹیسٹ کیلئے رابطہ کرسکتے ہیں۔ پی آئی ڈی علاج معالجہ کے لیے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرے گا، تمام صوبائی حکومتوں کو بھی اس ضمن میں آن بورڈ لیں گے۔








