اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی)صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہاہے کہ حکومت اورعوامکو مل کر کروناکا مقابلہ کرنا ہے ،قومیں مشکلات اورمصائب کا مردانہ وارمقابلہ کرنے سے ہی بڑی قوم بنتی ہیں، پاکستانی قوم نے مسلط کردہ جنگوں، سیلاب، اوردہشت گردی کا مردانہ وار اور یکجہتی سے مقابلہ کیا ہے ،مجھے پورا یقین ہے کہ پاکستانی قوم ایمان ، اتحاد اورنظم وضبط سے کامل یکجہتی کے ساتھ کرونا …
حکومت اورعوام کو مل کر کروناکا مقابلہ کرنا ہے،صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 مارچ (اے پی پی)صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہاہے کہ حکومت اورعوامکو مل کر کروناکا مقابلہ کرنا ہے ،قومیں مشکلات اورمصائب کا مردانہ وارمقابلہ کرنے سے ہی بڑی قوم بنتی ہیں، پاکستانی قوم نے مسلط کردہ جنگوں، سیلاب، اوردہشت گردی کا مردانہ وار اور یکجہتی سے مقابلہ کیا ہے ،مجھے پورا یقین ہے کہ پاکستانی قوم ایمان ، اتحاد اورنظم وضبط سے کامل یکجہتی کے ساتھ کرونا کے وباء کا مقابلہ کرے گی اوراسے شکست فاش دے گی، پاکستانی بہادرقوم ہیں اوریہ قوم بہت کچھ کرسکتی ہے۔ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ فیس بک پرعوام کے ساتھ براہ راست رابطے کے دوران شہریوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ کرونا وائرس سے متاثرہ ممالک سے جو تجربات سیکھے گئے ہیں ، ان کے مطابق میل جول اور غیر ضروری نقل وحمل کو محدود کیا جائے تو اس وباء سے موثر طریقے سے نمٹا جاسکتا ہے، شہریوں کو ایک دوسرے سے مناسب فاصلے پررہنے کی ضرورت ہے، اسی طرح وباء کے دنوں میں چہرے کو ہاتھوں سے چھونے سے گریز کرناچاہیے۔ صدرمملکت نے کہاکہ کرونا وائرس سے نمٹنے اوراسے محدودکرنے میں ہاتھوں کو صابن سے درست طریقے سے دن میں بارباردھونا اشد ضروری ہے، شہری غیرضروری طورپرگھروں سے باہر جانے سے گریزکریں، گھر کا جو فرد ضرورت کے وقت گھر سے باہر نکل رہاہوں اسے ضروری احتیاطی تدابیر اختیارکرنا چاہئیے، ایسے افراد باہرجاتے ہوئے جو ماسک استعمال کررہے ہیں گھر واپس آتے ہی اسے مناسب طریقے سے تلف کرنا چاہئیے۔ صدرمملکت نے کہاکہ سعودی عرب، ایران ، عراق اورمشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں مساجد میں فرض نمازوں کاسلسلہ روک دیا گیاہے، میری مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام سے گفتگو ہورہی ہے، نبی کریمۖ کی حدیث کے مطابق بیماراورصحت مند افراد کے مابین میل جول کی ممانعت کی گئی ہے، وباء کے تناظر میں ،میں نے خود جمعہ کی بجائے نمازظہر گھر میں ادا کی ہے۔صدر نے کہاکہ جامع الازہر کے علماء سے ان کا رابطہ ہواہے جبکہ امام کعبہ سے بھی رابطہ کیا جارہاہے تاکہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ان کی رائے حاصل کی جاسکے۔ صدرمملکت نے کہاکہ دعاوں اورعبادات کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیراختیارکرنا سنت نبوی ۖ ہے۔ایک شہری کے سوال کاجواب دیتے ہوئے صدرمملکت نے کہاکہ ہر ایک شہری کو صحت کی سہولیات کی فراہمی صرف ہمارا نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک کا مسئلہ بھی ہے، ہمارے ہسپتال اورسہولیات ناکافی ہیں، اس صورتحال کے تناظر میں حکومت اپنا کرداراداکررہی ہے لیکن شہریوں کو اپنا کرداربھی ذمہ داری سے اداکرنا ہوگا، کروناکا حکومت اورعوام نے مل کرمقابلہ کرنا ہے یہ ایسی جنگ ہے جو ہمارے گھروں سے لڑی جارہی ہے اوراس وباء کو صرف اسی صورت میں شکست دی جاسکتی ہے جب ہم سب ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حصے کا کرداراداکرے۔ صدرمملکت نے کہاکہ یہ بات خوش آئند ہے کہ سیاستدانوں نے باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اس وباء کا حکومت کے ساتھ مل کر مقابلہ کرنے کا عزم ظاہرکیا ہے، اسی طرح پاکستان کے ٹی وی چینلز اورمیڈیا بھی عوامی آگہی کے حوالے سے اپنا اہم کردار اداکررہے ہیں۔صدرمملکت نے کرونا کے خلاف جنگ میں بالخصوص نوجوانوں کے موثرکردارکی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان اس مرحلے میں رضاکارانہ طورپرکلیدی کرداراداکرسکتے ہیں، تمام سیاسی، مذہبی اورسماجی جماعتیں جن کے نوجوانوں کے ونگز ہیں انہیں اس ضمن میں اپنا کرداراداکرنا چاہیے، نوجوان رضاکار کرونا کے خلاف جنگ میں احتیاطی تدابیر اور وباء کے حوالہ سے سماجی دوری کے قواعد پرعمل پیراہوکر مقامی کمیونٹیزمیں موثرطریقے سے اپناکرداراداکرسکتے ہیں کیونکہ حکومت اکیلا کچھ نہیں کرسکتی اورنہ ہی ایک ایک گھر میں پہنچ سکتی ہیں۔ صدرمملکت نے کہاکہ قومیں مشکلات اورمصائب کا مردانہ وارمقابلہ کرنے سے ہی بڑی قوم بنتی ہیں، پاکستانی قوم نے مسلط کردہ جنگوں، سیلاب، اوردہشت گردی کا مردانہ وار اوریکجہتی سے مقابلہ کیا ہے اوران جنگوں میں پاکستانی قوم سرخرو نکلی ہیں مجھے پورا یقین ہے کہ پاکستانی قوم اس آزمائش کا ایمان ، اتحاد اورنظم وضبط سے کامل یکجہتی کے ساتھ مقابلہ کرے گی اوراسے شکست فاش دے گی، پاکستانی بہادرقوم ہے اوریہ قوم بہت کچھ کرسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی مدد کی جائے اور یہ مدد اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب ہم اپنے شہروں ، قصبوں ، دیہات اورگلی کوچوں میں احتیاطی تدابیرپر موثرطریقے سے عمل کرے، وباء کی صورتحال میں ڈسپلن کا مظاہرہ کرے، ہریونین کونسل کی سطح پر نمائندہ کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے یہ کمیٹیاں نوجوان رضاکاروں کی تعاون سے کمیونٹی کے ضرورت مند اورمستحق افراد تک رسائی کو یقینی بنائے، اراکین قومی اورصوبائی اسمبلیوں کو بھی اس ضمن میں اپنا کرداراداکرنا چاہئیے۔ایک سوال پرصدرمملکت نے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج کرونا کے خلاف جنگ میں پوری طرح شامل ہیں، کل میری آرمی چیف اوردیگر حکام سے بات چیت ہوئی تھی، صدرنے کہاکہ حکومت نے وباء سے نمٹنے کیلئے طبی سازوسامان کی درآمد پر ٹیکس اورڈیوٹی میں چھوٹ دی ہے، کراچی میں ادوایات سازی کے تیارکنندگان کے ساتھ ایک کانفرنس بھی کی جائیگی، ملک میں ماسک اورادوایات کی پیداوارکا عمل بھی جاری ہے ، تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کرونا کا اب تک علاج دریافت نہیں ہواہے صرف علامات کا علاج کیا جارہاہے۔ لاک ڈاون سے متعلق سوال پرانہوں نے کہاکہ کرفیو اورلاک ڈاون سے یومیہ اجرت پرکام کرنے والے مزدور شدید متاثرہوسکتے ہیں، موجودہ صورتحال میں مخیر حضرات اورشہریوں کو ان اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے جو یومیہ مزدوروں اورمستحقین کو امدادفراہم کررہے ہیں، پاکستان میں خیرات، صدقات اورعطیات کا جذبہ زیادہ ہے۔ایک اورشہری کے سوال پرانہوں نے کہاکہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے پاکستانی سفارت خانے اورمشنز اپنا کرداراداکررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان کو اشیاء کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔








