وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی مالدیب کے وزیر خارجہ عبداللہ شاہد سے ٹیلی فونک گفتگو

اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ پاکستان، مالدیپ کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ، وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے مالدیپ کی طرف سے کئے گئے موثر اقدامات قابل تعریف ہیں ،توقع ہے مالدیپ جلد اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بات مالدیپ کے وزیر خارجہ …

اسلام آباد ۔ 23 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ پاکستان، مالدیپ کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ، وبا کے پھیلاو¿ کو روکنے کیلئے مالدیپ کی طرف سے کئے گئے موثر اقدامات قابل تعریف ہیں ،توقع ہے مالدیپ جلد اس وبا پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بات مالدیپ کے وزیر خارجہ عبداللہ شاہد سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔بات چیت میں کرونا عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے موثر لائحہ عمل اپنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ اگرچہ بھارت، پاکستان میں سارک سمٹ کے انعقاد میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے بھارت کی درخواست پر سارک ویڈیو کانفرنس میں شمولیت اختیار کی کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک عالمی وبا ہے جس سے نمٹنے کیلئے ہمیں مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایران کرونا وبا سے بری طرح متاثر ہو چکا ہے ہزاروں افراد اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں ، ایران کو معاشی پابندیوں کی وجہ سے اس وبا پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان معاشی پابندیوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس عالمی وبا کے پھیلاو¿ سے جی 77 ترقی پذیر ممالک کو بہت سے معاشی مسائل کا سامنا ہے، ہم نے یورپی یونین سے درخواست کی ہے کہ قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل کو اس وبا سے نمٹنے اور لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے یہ بتاتے ہوئے مسرت ہو رہی ہے کہ پاکستان میں مالدیپ کے 22 زیر تربیت طلباء صحت مند ہیں اور ہم ان کا پوری طرح خیال رکھ رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے مالدیپ کے وزیر خارجہ سے مالدیپ میں پھنسے ہوئے چار پاکستانیوں کی معاونت کی درخواست کی تاکہ انہیں پاکستان واپس لایا جا سکے۔ وزیر خارجہ نے مالدیپ کے وزیر خارجہ کو مقبوضہ جموں کشمیر میں گذشتہ آٹھ ماہ سے جاری کرفیو اور اس کرونا وبا کے پیش نظر نہتے کشمیریوں کو درپیش شدید خطرات سے بھی آگاہ کیا ۔کرونا کے عالمی چیلنج سے نمٹنے کیلئے مالدیپ کی مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے کی تجویز کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان، سارک ممالک کی وزرائے صحت ویڈیو کانفرنس کے انعقاد کا متمنی ہے تاکہ کرونا وبا سے نبرد آزما ہونے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپناءجائے ۔وزیر خارجہ نے، مالدیپ کے دولت مشترکہ میں دوبارہ شامل ہونے پر، مالدیپ کے وزیر خارجہ کو مبارکباد دی بھی دی اور مالدیپ کے وزیر خارجہ کی دعوت قبول کرتے ہوئے حالات معمول پر آنے کے بعد جلد مالدیپ کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا ۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس وبا سے نمٹنے کیلئے مشاورتی سلسلے کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔