وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کی پریس بریفنگ

اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اگر ہم نے احتیاطی تدابیر کو مدنظر نہ رکھا تو صورتحال مزید بدترین ہو سکتی ہے، عید کی نماز میں وہی تمام تدابیر اپنائیں جو رمضان المبارک میں تراویح اور مساجد میں اپنائی گئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار نہوں نے پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا …

اسلام آباد ۔ 22 مئی (اے پی پی) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ اگر ہم نے احتیاطی تدابیر کو مدنظر نہ رکھا تو صورتحال مزید بدترین ہو سکتی ہے، عید کی نماز میں وہی تمام تدابیر اپنائیں جو رمضان المبارک میں تراویح اور مساجد میں اپنائی گئی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار نہوں نے پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 50 اموات ہوئی ہیں، اتنی اموات 24 گھنٹوں میں اب تک سامنے نہیں آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم 24 گھنٹوں کے کیسز اور اموات کو سامنے رکھیں تو صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا، لاک ڈاﺅن میں نرمی اس لئے کی گئی کہ لوگ آسانی سے احتیاط کرتے ہوئے عید کی شاپنگ کر سکیں لیکن گذشتہ ہفتوں میں مشاہدہ انتہائی غیر تسلی بخش رہا۔ انہوں نے کہا کہ دکانوں، ٹرانسپورٹ اور شہریوں کیلئے ایس او پیز سامنے رکھے گئے لیکن ان پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو روکنے کا بنیادی نقطہ سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنا ہے۔ شاپنگ اور پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالہ سے ایس او پیز میں ماسک کا استعمال ضروری قرار دیا گیا ہے، کسی بھی پرہجوم جگہ یا پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک کا استعمال اب ضروری ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کریں کہ نماز مساجد میں ادا کرنے کی بجائے گھروں میں ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لاک ڈاﺅن سے متاثرہ لوگوں کو جانتے ہیں تو ان کی دل کھول کر مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عید مختلف ہے، آپ نے ایک دوسرے سے گلے نہیں ملنا، فاصلہ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو عید کی مبارک دینی ہے، گلے ملنا انفکیشن کے پھیلاﺅ کا موجب بن سکتا ہے اور وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

مزید خبریں