اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں اور کاشتکاروں کے ساتھ مل کر ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے آپریشن کر رہی ہے' نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر اسلام آباد میں قائم کردیا گیا ہے جس میں این ڈی ایم اے' وزارت قومی غذائی تحفظ اور اینٹمالوجسٹ شامل ہیں' ٹڈی دل سے ہونے والا …
وفاقی حکومت صوبوں اور کاشتکاروں کے ساتھ مل کر ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے آپریشن کر رہی ہے، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں اور کاشتکاروں کے ساتھ مل کر ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے آپریشن کر رہی ہے’ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر اسلام آباد میں قائم کردیا گیا ہے جس میں این ڈی ایم اے’ وزارت قومی غذائی تحفظ اور اینٹمالوجسٹ شامل ہیں’ ٹڈی دل سے ہونے والا نقصان پاکستان اور ملک کے عوام کا ہے’ وفاق اور صوبائی حکومتوں’ کاشتکاروں اور شہریوں کی کوآرڈینیشن اور تعاون کے بغیر اس آفت سے نہیں نمٹا جاسکتا’ ٹڈی دل کے خطرے سے نمٹنے کے لئے حکومت کو آئندہ سال کے بجٹ میں 20 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دیں گے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں ٹڈی دل کے حملے پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا کہ ٹڈی دل صحرائی وباء ہے۔ گزشتہ سال اس سے ہمیں جتنے نقصان کا اندیشہ تھا اتنا نہیں ہوا مگر رواں سال گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ نظر آرہا ہے۔ ہم نے صوبوں سے نقصانات کا تخمینہ مانگا ہے۔ سب سے زیادہ ٹڈی دل بلوچستان میں ہے۔ بلوچستان کے 33 اضلاع میں ٹڈی دل موجود ہے۔ گزشتہ روز وہاں کافی بڑا آپریشن ہوا۔ 8600 ہیکٹر زمین پر آپریشن ہوا۔ بلوچستان میں 166 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ ملک بھر میں 1125 سے زائد ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ غیر کاشت زدہ علاقوں میں فضائی آپریشن کے ذریعے سپرے کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر قائم کردیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ ندیم افضل’ وزارت خوراک و زراعت سمیت متعلقہ ادارے اس میں موجود ہیں۔ صوبے پورے طرح رابطہ میں ہیں۔ پاک فوج کے آٹھ ہزار افسر اور جوان کام کر رہے ہیں۔ چین نے سپرے کے لئے ادویات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک جبوتی’ ایتھوپیا اور ایریٹیریا سے ٹڈی دل چلتی ہے اور 90 میل فی دن کے حساب سے چلتی ہے۔ اس کی تعداد اربوں اور کھربوں میں ہوتی ہے۔ ایک ٹڈی سے 1100 ٹڈیاں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روم میں قائم ایف اے او جیسا عالمی ادارہ اس کی رپورٹنگ کرتا ہے۔ ہمارے پاس دس سے گیارہ ایئر کرافٹس ہیں۔ سپرے کے لئے ہیلی کاپٹرز کو تیار کیا گیا ہے۔ سندھ میں عمر کوٹ’ اسلام کوٹ’ خیرپور’ سکھر اور گھوٹکی میں سروے کیا گیا ہے۔ ٹڈی دل کے پی کے میں شمالی جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں افغانستان سے داخل ہوا ہے۔اب ایران سے ٹڈی دل کے ایک اور حملے کی توقع ہے۔ ہم اس کے لئے پیشگی تیاری کر رہے ہیں۔ صحرائی علاقے میں میلاتھون اور فصلوں پر لیمڈا سپرے کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں نے ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے بڑی محنت کی ہے۔ پنجاب میں رحیم یار خان اور بہاولپور میں بھارت کی طرف سے ٹڈی دل داخل ہوئی۔ کپاس’ آموں کے باغات کا نقصان ہوا۔ یہ سارا نقصان پاکستان کے عوام اور ملک کا ہے۔ وفاق صوبوں کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کر رہاہے۔ آپس میں کوآرڈینیشن اور کاشتکاروں کے بغیر اس آفت سے نہیں نکلا جاسکتا۔ اس کے خلاف آدھی رات سے صبح تک آپریشن کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل کے نئے حملے کا ہمیشں سب سے زیادہ خطرہ اب ایران کی طرف سے ہے۔ این ڈی ایم اے’ وفاقی حکومت 30 اینٹمالوجسٹ کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ہم 100 نئے اینٹمالوجسٹ بھرتی کریں گے اور آئندہ سال کے لئے ٹڈی دل سے نمٹنے کے لئے 20 ارب روپے کا بجٹ مختص کرائیں گے۔








