اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی)صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں کے دوران جتنے بھی نام نہاد انتخابات ہوئے وہ سب جعلی تھے، جن میں دہلی سرکار نے دھاندلی کرتے ہوئے ہمیشہ کٹھ پتلی حکومتیں بنائیں جبکہ آزادکشمیر میں جمہوری ادارے مستحکم ہیں اور یہاں جمہوری قدریں انتہائی توانا ہیں اور لوگوں کو تمام بنیادی آزادیاں …
مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں کے دوران جتنے بھی نام نہاد انتخابات ہوئے وہ سب جعلی تھے، صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان کا نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی)صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں کے دوران جتنے بھی نام نہاد انتخابات ہوئے وہ سب جعلی تھے، جن میں دہلی سرکار نے دھاندلی کرتے ہوئے ہمیشہ کٹھ پتلی حکومتیں بنائیں جبکہ آزادکشمیر میں جمہوری ادارے مستحکم ہیں اور یہاں جمہوری قدریں انتہائی توانا ہیں اور لوگوں کو تمام بنیادی آزادیاں میسر ہیں اور یہاں انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کی جاتی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ایک پاکستانی نجی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ صدر آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی وفادار سیاسی کلاس پیدا کی اور اس کی شروعات 1950 میں شیخ عبداللہ سے کی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں 75نشستیں مختص کی گئی تھیں اور ان ساری نشستوں کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے۔ بعد ازاں مختلف انتخابات میں جو بھی نمائندے منتخب ہوتے رہے وہ سب ہند سرکار کے منظور نظر اور کٹھ پتلی تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ان جعلی انتخابات کا ڈھونگ 2018تک رچائے رکھا لیکن پھر انہوں نے 2018 میں محبوبہ مفتی کی حکومت کو فارغ کر دیا اور نام نہاد جمہوری بساط کو لپیٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو تھوڑا بہت پردہ رہ گیا تھا اسے پانچ اگست2019کے اقدامات کے ذریعے چاک کر دیا اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے دو یونین ٹریٹریز میں منقسم کر دیا، جنہیں دہلی کے براہ راست ماتحت بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں سے مشورہ کرنا تو درکنار اپنے حواریوں اور حلیفوں سے پوچھے بغیر اٹھایا اور کشمیر کو ایک نو آبادیات میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کاسرے سے جمہوری کریکٹر ہی ختم کر دیا گیا، جبکہ جموں وکشمیر جسے دہلی سرکار کے براہ راست کنٹرول میں کیا گیا ہے۔ بعد میں یہاں نام نہاد اسمبلی قائم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یہ ہندوستانی اقدامات دراصل کشمیریوں سے ا±ن کی شہریت، زمین اور روزگار چھیننے کے لئے اٹھائے گئے ہیں، نئے ڈومیسائل قانون کے تحت اب کشمیریوں کو اپنی شہریت ثابت کرنا پڑ رہی ہے اور ا±ن کے کاروبار زمینوں اور ملازمتوں پر ڈاکہ زنی کی گئی ہے الغرض وہاں فسطائیت کا دور دورہ ہے۔ لداخ پر چین اور بھارت کے درمیان چپقلش پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ لداخ پر ہندوستان کی سفارتی تنہائی نمایاں ہو گئی ہے، اگرچہ امریکہ اس کا قریبی حلیف ہے لیکن اس نے بے دلی سے چین بھارت کے درمیان اس مسئلے پر صرف ثالثی کی پیشکش کی، جسے چین نے ٹھکرا دیا۔ یہ پیشکش بالکل ایسے ہی تھی جیسے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان کوئی مسئلہ پیدا ہو تو چین یہ پیشکش کرے کہ وہ ثالثی کے لئے تیار ہے تو یقینی طور پر امریکہ اسے مسترد کر دے گا۔ صدر نے کہا کہ بھارت کے حق میں یورپ، آسٹریلیا اور جاپان جیسے حلیفوں کی طرف سے بھی کوئی آواز بلند نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ BRIکے تحت پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو روکنے کے لئے جو چار رکنی اتحاد بنا ہوا ہے جس میں امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور ہندوستان شامل ہیں اس نے بھی اس کی کوئی حمایت نہیں کی۔ صدر نے پوچھے گے ایک سوال کہ”اگر ہندوستان اور چین کے درمیان باضابطہ جنگ چھڑ گئی تو ہندوستان کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں“ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے گزشتہ سال روس سے اکہتر بلین ڈالر کا اسلحہ خریدا اور بھارت اس وقت دفاع پر خرچ کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اس وقت648بلین ڈالر کے ساتھ امریکہ پہلے، 261بلین ڈالر کے ساتھ چین دوسرے اور 71بلین ڈالر کے ساتھ بھارت تیسرے بڑے دفاعی بجٹ والا ملک ہے۔ صدر نے کہا کہ جنگیں مشینوں اور اسلحے سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ جذبوں کے ساتھ لڑی جاتی ہیں، اور اس کے لئے ایک مضبوط قوت ارادی اور اخلاقی جوازیت کا ہونا ضروری ہوتا ہے جس سے بھارت ہاری ہے۔ صدر نے کہا کہ اس وقت ہندوستان کے اندر تمام اقلیتیں جس میں دلت، سکھ، عیسائی اور مسلمان شامل ہیں ان پر مودی سرکار اور آر ایس ایس نے دھاوا بول رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اس وقت اپنے تمام پڑوسی ممالک سے کشیدگی چل رہی ہے، پہلے وہ صرف پاکستان کو اپنی متعصبیت کا نشانہ بنا رہا تھا لیکن اب اس کے شر اور تخریب کاری سے بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، نیپال اور چین بھی محفوظ نہیں۔ ہندوستان نے اپنے پورے پڑوس میں شر انگیزی اور خلفشار کا طلاطم برپا کیا ہوا ہے۔ صدر نے کہا کہ کشمیر میں ہندوستانی افواج نے استبداد اور بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ا±س نے ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے عقوبت خانوں میں ڈال دیا ہے۔ خواتین کی آبروریزی روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ پیلٹ گن سے لوگوں کو اندھا اور اپاہج بنایا جا رہا ہے، ساری حریت قیادت پابند سلاسل ہے اور مکمل طور پر کمیونیکیشن بلیک آو¿ٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی بنیادی آزادیوں کو مکمل طور پر سلب کر لیا گیا ہے۔ ایک اور پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا ہندوستان بحیثیت ریاست قائم رہ سکتا ہے صدر نے کہا کہ ہندوستان نے 1947میں اپنے چہرے پر سیکولرزم کا ماسک چڑھایا تھا اور اسی ماسک نے ریاست کی اکائیوں کو باہم باندھے رکھا، حالانکہ مشرقی اور مغربی ہندوستان اور اسی طرح شمالی اور جنوبی ہندوستان میں کوئی مماثلت موجود نہیں لیکن اب ہندوتوا کی وجہ سے ہندوستان کا یہ سیکولرزم بھی دم توڑ چکا ہے اور ان اکائیوں کے آپس میں کھل کر اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی فسطائی قوتیں ہندوستان پر قابض رہیں تو یہ اپنی ہی ریاست کی جڑیں کاٹ کر فنا ہو جائیں گے۔ صدر نے کہا کہ یہ ہندوتوا اور فاشسٹ سوچ نہ صرف غیر ہندوو¿ں کو نشانہ بنا رہی ہے بلکہ یہ ہندو کی لوئر کلاس کو بھی پسماندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں ا±ن کے حقوق سے محروم کر رہی ہے۔ صدر نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ہندوستان ٹکڑے ٹکڑے ہو لیکن اگر وہاں فسطائیت کا یہ دور جاری رہا تو خدشہ ہے کہ ہندوستان کے حصے وکھرے ہونے ا±سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔








