وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا ”تشدد کا شکار افراد سے یکجہتی کے عالمی دن“ کی مناسبت سے بیان

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت تشدد کے غیر انسانی عمل کو مکمل طور پر ختم کرنے کےلئے پرعزم ہے، شہریوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھنا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”تشدد کا شکار افراد …

اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت تشدد کے غیر انسانی عمل کو مکمل طور پر ختم کرنے کےلئے پرعزم ہے، شہریوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھنا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری ریاست کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”تشدد کا شکار افراد سے یکجہتی کے عالمی دن“ کی مناسبت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ شیریں مزاری نے کہا کہ یہ دن پوری دنیا میں ہر سال26 جون کو منایا جاتا ہے کیونکہ مجرمانہ تشدد ایسا گھناو¿نا فعل ہے جس سے ہمارے آئین کے ساتھ ساتھ ہمارے بین الاقوامی وعدوں کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ تشدد کے خلاف یہ عالمی دن ہمیں غیر انسانی برتاو¿ کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشن کے تحت کئے گئے عزم کی یاد دلاتا ہے اور اس کی روشنی میں تشدد کی ہر قسم کے خاتمے کیلئے بلا امتیاز اقدامات کرنے کا پابند بناتا ہے۔ یہ کنونشن دیگر ظالمانہ اقدامات، غیر انسانی و غیر اخلاقی سلوک، سزاو¿ں اور لوگوں کے شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی کنونشن آئی سی سی آر کی بھی توثیق کرتا ہے۔وفاقی نے کہا کہ پاکستان ان تمام بین الاقوامی معاہدوں کا پاسدار ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 14 (2) میں یہ کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو ثبوت حاصل کرنے کی آڑ میں تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا جبکہ آئین کی شق 10 شہریوں کو صوابدیدی گرفتاری اور نظربندی کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ملک میں غیر قانونی حراست، تشدد اور موت کے کچھ واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ شیریں مزاری نے کہا کہ اس ناگوار صورتحال کو ختم کرنے کیلئے انسانی حقوق کی وزارت نے تشدد اور زیر حراست موت (کی روک تھام اور سزا) کے بل 2020ءکا مسودہ تیار کیا ہے جو وفاقی کابینہ سے اصولی منظوری پانے بعد پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے سے قبل وزارت قانون و انصاف کے پاس موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کہا کہ ہم نہ صرف پولیس کی زیادتی کے کلچر سے واقف ہیں بلکہ تشدد اور غیر قانونی قتل وغارت گری کے خاتمہ کےلئے پولیس میں جامع اصلاحات کی ضرورت سے بھی آگاہ ہیں اور اس سلسلہ میں انسانی حقوق کی وزارت نے انسانی حقوق سے متعلق متعدد امور پر پولیس کے ساتھ حساسیت اور بیداری کے کئی سیشنز شروع کر رکھے ہیں جن میں خواتین اور خواجہ سراو¿ں کے حقوق کے احترام پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی وزارت ملک کے کریمنل جسٹس سسٹم میں انسانی حقوق کو توجہ کا مرکز بنانے پر توجہ دیئے ہوئے ہے۔ گزشتہ سال ، ہم نے سزائے موت پانے والے قیدیوں کےلئے رحم کی درخواست کے عمل میں اصلاح کی راہ ہموار کرنے پر کام کیا۔ اسی طرح جنوری 2019ءمیں ہماری وزارت نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کے ذریعے جبری گمشدگیوں کو جرم قرار دینے کےلئے وزارت قانون و انصاف کو مسودہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ قانون سازی اور ثقافتی اصلاحات ایک تدریجی عمل لیکن ہم ان جرائم کے استثنیٰ کے کلچر کو ختم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ وفاقی وزیرنے اس موقع پر عالمی برادری کی توجہ ہندوستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی افواج کی طرف سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ظلم اور ریاستی تشدد کی طرف بھی مبذول کرائی۔ انہوں نے خاص طور پر زیر حراست خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ ہونے والے ظالمانہ سلوک کے حوالہ سے کہا کہ جب سے مودی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو خودمختاری سے محروم کیا ہے کشمیری آبادی منظم تشدد اور ظلم و ستم کی لہر میں ڈوب رہی ہے۔ ہندوستان کا منظم ریاستی تشدد انسانیت کے خلاف جرم ہے اور تمام متعلقہ عالمی قوانین کی رو سے کسی بھی حالت میں اس کا جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے متعدد بین الاقوامی کانفرنسوں میں اس مسئلے کو اٹھایا ہے اور ہندوستان حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور کا مینڈیٹ رکھنے والے 18 فریقوں کیلئے اپیلیں بھی تیار کی ہیں۔ اس موقع پر وزارت انسانی حقوق کی وفاقی سکریٹری محترمہ رابعہ جویری آغا نے بھی افراد کے حقوق خاص طور پر زیادتی کا شکار پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لئے حکومت کے عہد کو دہرایا ہےَ۔ انہوں نے کہا کہ ہم موجودہ قوانین اور اپنے کریمنل جسٹس سسٹم کی خامیوں کو پہچانتے ہیں اور ان پر قابو پانے کےلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی شہری جارج فلائیڈ کی موت کا حالیہ واقعہ جس نے عالمی سطح پر غم و غصہ کو جنم دیا ، تشدد اور حراستی موت کے طریقوں کی زیادہ سے زیادہ آگاہی اور مخالفت کی طرف عالمی تحریک میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

مزید خبریں