اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ کورونا کے معاملے پر ہم سب کو ایک صفحہ پر آنا ہوگا‘ وزیراعظم کی تقریر پر شعلہ بیانی وہ کر رہے تھے جو چینی پر 29 ارب روپے کی سبسڈی لینے میں حصہ دار تھے‘ دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کا کہنے والے ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب …
وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر کا قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2020-21ءاور سینٹ سفارشات پر بحث سمیٹتے ہوئے اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 25 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ کورونا کے معاملے پر ہم سب کو ایک صفحہ پر آنا ہوگا‘ وزیراعظم کی تقریر پر شعلہ بیانی وہ کر رہے تھے جو چینی پر 29 ارب روپے کی سبسڈی لینے میں حصہ دار تھے‘ دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کا کہنے والے ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب چھوڑ کر گئے‘ 200 سے زائد ممالک کورونا کی تباہی سے دوچار ہیں‘ ہماری معیشت کا حجم 300 ارب ڈالر ہے جبکہ دنیا میں کورونا کی وجہ سے 10 سے 12 ہزار ارب ڈالر کی عالمی معیشت بیٹھ رہی ہے حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت اپنے اخراجات کم کئے ہیں‘ سینٹ کی طرف سے آنے والی تجاویز پر غور کیا جارہا ہے‘ قابل عمل تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2020-21ء اور سینٹ سفارشات پر بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت سارا کچھ کورونا پر ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو ماہ پہلے کورونا سے پہلے ہم ٹیکس 17 فیصد سے بڑھا رہے تھے ۔ براہ راست سرمایہ کاری ایک سے دوارب ڈالر ہوگئی ہے۔ برآمدات میں 20فیصد اضافہ ہواہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو دودھ شہد کی نہریں بہانے کا کہہ رہے ہیں یہ ملک کو دیوالیہ چھوڑ کر گئے تھے ۔ 200 سے زائد ممالک کورونا کی تباہی سے دوچار ہیں۔ 10 سے 12 ہزار ارب ڈالر کی عالمی معیشت بیٹھ رہی ہے ‘ ہماری معیشت کا کل حجم 300 ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جن حالات میں معیشت سنبھالی تھی بتادیا۔ ہمارے موجودہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں تمام اہداف آگے بڑھ رہے تھے۔ سٹیٹ بنک کے فارن ریزروز میں پانچ ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا ہے۔ ہمیں موڈیز نے ریٹنگ میں اپ گریڈ کیا۔ کورونا کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت چار سے چھ فیصد سکڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے ہمارے بجٹ خسارے میں بھی اضافہ ہوا،کورونا کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوگا۔ سٹیٹ بنک کا خصوصی کورونا اکاﺅنٹ چلایا جائے گا۔ ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو 12 ہزار روپے ماہوار دیئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ پچاس ارب چھوٹے کاروباروں کے بجلی کے بل دینے کے لئے رکھے گئے۔ ریکارڈ گندم خریداری کی گئی، ایمرجنسی فنڈ کے لئے سو ارب روپیہ رکھا گیا۔ اس سال بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا اور ٹیکسوں میں چھوٹ بھی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صحت کے لئے پچاس ارب روپے کے قریب رکھے ہیں۔ ایچ ای سی کےلئے ہم نے ڈویلپمنٹ کا ریکارڈ بجٹ رکھاہے۔ وفاقی حکومت کسی صوبے کا فنڈ روکنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ اس سال سب سے زیادہ رقوم صوبہ بلوچستان کے لئے رکھی گئی ہیں۔ قرضہ بڑھنے کی وجہ روپے کی قدر کم کیا جانا اور سود کی واپسی ہے۔ حماد اظہر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنے اخراجات کم کئے ۔ پاک افواج سمیت ہر ادارے نے اپنے اخراجات کم کئے ۔ وزیر اعظم کی تقریر کے بعد بڑی شعلہ بیانی کی گئی‘ ہم پر تنقید وہ کررہے ہیں جنہوں نے 29 ارب روپے کی سبسٹدی لی ۔ ان کو بری بات اس لئے لگی کہ حکمران جوابدہ ہیں۔ ان کو لگا پیسے سرے محلے اور لندن فلیٹس کے لئے چلے گئے ۔ ہم بھی کہہ سکتے تھے جعلی رپورٹوں پر باہر چلے گئے ۔ ہم نے نہیں کہا کہ کیسے باہر گئے ۔وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ وباءکی صورتحال میں اپوزیشن سے توقع تھی کہ وہ بجٹ کے دوران احتجاج نہیں کرے گی مگر پھر بھی کیا۔ دنیا میں لاک ڈاﺅن لگانے کے باوجود ہزاروں لوگ روزانہ مرے ۔ کھانے کے لئے امریکہ میں قطاریں لگ گئیں ۔ پہلے لاک ڈاﺅن کیا گیا پھر آہستہ آہستہ کھولا گیا۔ اب ہم سمارٹ لاک ڈاون کی طرف جارہے ہیں۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ سینٹ سے آنے والی تجاویز پر غور کررہے ہیں جو قابل عمل ہوں گی ضرور مانیں گے چینی کی صنعت کا پہلی مرتبہ مکمل آڈٹ کروایا گیا، وزیراعظم نے احتساب اور قانون کی بالادستی کی بات کی۔ کورونا وبا سے نمٹنے کے لئے سب کو ایک ہونا چاہئے۔ ہمیں کورونا کو حقیقت پسندانہ طریقہ سے لینا ہوگا۔








