مشتبہ لائسنس کے حامل پی آئی اے کے 141ہوابازوں کی فہرستیں اور کوائف مراسلہ کے ساتھ پی آئی اے کو بھجوا کر فلائٹ آپریشن سے روکنے کی ہدایت دے دی گئی ہے،وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی)وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ مشتبہ لائسنس کے حامل 262 ہوابازوں میں سے پی آئی اے کے 141ہوابازوں کی فہرستیں اور کوائف مراسلہ کے ساتھ پی آئی اے کو بھجوا کر فلائٹ آپریشن سے روکنے کی ہدایت دے دی گئی ہے، ائیر بلیو کے 9 ، سرین ائیر لائن کے 10 اور دیگر نجی ائیر لائن کے …

اسلام آباد ۔ 26 جون (اے پی پی)وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ مشتبہ لائسنس کے حامل 262 ہوابازوں میں سے پی آئی اے کے 141ہوابازوں کی فہرستیں اور کوائف مراسلہ کے ساتھ پی آئی اے کو بھجوا کر فلائٹ آپریشن سے روکنے کی ہدایت دے دی گئی ہے، ائیر بلیو کے 9 ، سرین ائیر لائن کے 10 اور دیگر نجی ائیر لائن کے مشتبہ لائسنس رکھنے والے ہوابازوں کی فہرستیں مراسلے جاری کرنے کے علاوہ ویب سائٹ پر بھی جاری کر دی گئی ہیں، 28 ہوابازوں کی انکوائری کا تمام ترعمل مکمل ہو چکا جن کے لائسنس منسوخی کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی جبکہ لائسنس اتھارٹی کے 5 سینئر افسران کی معطلی اور محکمانہ انکوائری کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں، جعلی لائسنس کے حامل اور اجراءمیں ملوث افراد کے خلاف فوجداری مقدمات بنانے پر بھی غور کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا- وفاقی وزیر نے کہا کہ کل860 ہوابازوں میں سے 260 مشتبہ لائسنس کے حامل ہوابازوں کی انکوائری کا عمل بلاتفریق شفاف طریقے سے مکمل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام افراد 2018 سے پہلے بھرتی شدہ ہیں، ہم نے پی آئی اے میں ایک بھی نئی بھرتی نہیں کی ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر جعلی ڈگری کے حامل 280 افراد کو پہلے ہی ملازمتوں سے برخاست کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ لائسنس کے حامل 28 ہوابازوں کی انکوائری کے تمام مراحل جن میں شوکاز نوٹس، چارج شیٹ کی تیاری، پرسنل ہیئرنگ کے تمام مراحل شامل ہیں، مکمل کر لئے گئے ہیں اور وہ اعتراف بھی کر چکے ہیں۔ ان کے لائسنس کی منسوخی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں لی جائے گی۔ آئی ٹی کے شعبہ سے بھی لوگ ملوث ہیں ان کے خلاف بھی انکوائری کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو اداروں میں اصلاحات کا مینڈیٹ دیا ہے اسی مینڈیٹ کے تحت ہم نے پی آئی اے کے بزنس پلان اور ایوی ایشن پالیسی میں اصلاحات کیں اور 2021ء اداروں کی بہتری کا سال ہوگا اور 2023ءتک پی آئی اے کے فلیٹ کو 31 جہازوں سے بڑھا کر 45 تک لیکر جائیں گے۔ وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ آج میں پائلٹس پر بات کروں گا، جن پائلٹس کےخلاف انکوائری ہوئی ان کی تعیناتی 2018ء سے پہلے کی ہے، 2018ءکے بعدہم نے کوئی نیا پائلٹ بھرتی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ دور میں سابق چیف جسٹس نے جعلی ڈگریوں کے معاملے پراز خود نوٹس لیا ، پی آئی اے کے مختلف شعبوں میں بھی جعلی ڈگریوں کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہم نے اقتدار میں آنے کے بعد جعلی ڈگری کے حامل 280 ملازمین کو برطرف کیا اور 4 گھوسٹ ہواباز بھی برطرف کئے جو سپریم کورٹ کے جعلی ڈگریوں والے احکامات کے تسلسل میں کیا گیا۔ غلام سرور خان نے کہا کہ یہ تمام بھرتیاں بھی پچھلے ادوار کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ہمارے اقدامات کو منفی سمجھ رہے ہیں لیکن جہاں غلط ہورہا ہے اس کوٹھیک کرنا ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں بزنس پلان مرتب کیا گیا ہے اور اصلاحات کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں 450پائلٹس خدمات انجام دے رہے ہیں، لائسنس کی جانچ پڑتال کا عمل بھی سپریم کورٹ کے احکامات کا تسلسل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشکوک لائسنس والے ہوابازوں کی فہرستیں تمام متعلقہ اداروں کوبھیج دی گئی ہیں، ان کےخلاف ایف آئی اے سے کرمنل انکوائری پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ان سب کے نام اور کوائف ویب سائٹ پر بھی ڈال دیئے گئے ہیں۔ غلام سرورخان نے کہا کہ پی آئی اے کو 141مشکوک لائسنس والے پائلٹس کی فہرست فراہم کر دی ہے اور مراسلہ بھیجا گیا ہے کہ انہیں فلائٹ آپریشن کی اجازت نہیں ہے اور نہ دی جانی چاہئے۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ 34 پائلٹس ایسے ہیں جنہوں نے 8 میں سے کوئی ایک پیپر بھی خود نہیں دیا، 121 پائلٹس کا ایک اور39 پائلٹس کے2 پیپرز بوگس نکلے۔ انہوں نے کہا کہ ایئر بلیو کے 9 ہوابازوں کے لائسنس، سیرین ایئر کے 10 اور باقی ماندہ دیگر نجی ملکی غیر ملکی ائیر لائنوں، چارٹرڈ طیاروں اور ایئر کلبوں میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے میں آئی ٹی کے شعبے میں بھی چھان بین کی جا رہی ہے اس شعبہ کے ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایوی ایشن اورپی آئی اے کے ملوث 5 افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو 3،4 آو¿ٹ سائیڈرز کے نام بھی دیئے گئے ہیں، 28 میں سے 9 پائلٹس نے اعتراف بھی کرلیا ہے۔ وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا کہ جن 28 پائلٹس کے خلاف انکوائری مکمل ہوچکی ہے ان کے لائسنس بھی منسوخ ہوں گے اور ملازمتوں سے بھی برطرف کیا جائے گا، فوجداری مقدمات بنانے پر بھی غور کریں گے، اس اقدام سے پی آئی اے میں پائلٹس کی کمی نہیں ہوگی، امید ہے پالپا بے جا حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے میں صفائی کاعمل ضروری تھا، اس عمل کو جاری و ساری رکھنا ہے۔ غلام سرور خان نے کہا کہ حال ہی میں 4 گھوسٹ پائلٹس کو بھی پی آئی اے سے فارغ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ ماضی میں اداروں میں سیاسی مداخلت سے ادارے تباہ ہوئے، پی آئی اے کی عظمت رفتہ بحال کریں گے اور 1960ءکی پوزیشن پر لائیں گے۔ 2021 پاکستان کے اداروں کی بہتری کا سال ہے، ہمارے بزنس پلان میں شامل ہے کہ 2023 تک پی آئی اے کے فلیٹ کو موجودہ 31 طیاروں سے 45 طیاروں تک لیکر جائیں گے۔ جعلی لائسنس والے 28 پائلٹس کی معطلی کاحتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی، پہلے بھی انکوائری بلاتفریق اور شفاف کی اور اب بھی شفاف انکوائری کی جائے گی۔ وفاقی وزیر ہوا بازی نے کہا کہ جو بھی ملوث ہوا اسے بھگتنا پڑے گا۔

مزید خبریں