اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت جنوب مشرقی ایشیاءمیں اس وقت بھی سب سے کم ہے، پچھلے 46 دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 112 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان میں پٹرول مصنوعات کی قیمت تقریباً 25 فیصد بڑھائی گئی ہے، …
وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت جنوب مشرقی ایشیاءمیں اس وقت بھی سب سے کم ہے، پچھلے 46 دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 112 فیصد اضافہ ہوا، پاکستان میں پٹرول مصنوعات کی قیمت تقریباً 25 فیصد بڑھائی گئی ہے، وزیراعظم کا وژن ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے، ہمارا مقابلہ مافیاز اور ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ ہے، ان کو بھی بے نقاب کریں گے، مسلم لیگ (ن) نے 2015ءمیں مافیاز کو تحفظ دیا، ہم مافیا کو توڑیں گے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کے لئے اوگرا کو مضبوط بنائیں گے، غیر قانونی پمپوں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا، اوگرا کی طرف سے کئے جانے والے جرمانے ناکافی ہیں، 30 دنوں میں تمام آئل ڈپوز کے اعداد و شمار براہ راست دستیاب ہوں گے، آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن وقت کی ضرورت ہے، غیر رجسٹرڈ پٹرول پمپوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے، پاور ڈویژن میں میرا کوئی عمل دخل نہیں، اپنے اثاثوں کی تفصیلات کابینہ میں جمع کروا دی ہیں، وزیراعظم چاہیں تو اسے پبلک کر دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر پٹرولیم عمر ایوب خان نے کہا کہ حقیقت اس وقت یہ ہے کہ عالمی منڈی میں پچھلے 46 دنوں میں پٹرول کی قیمت 112 فیصد زیادہ ہوئی ہے۔ ہم نے پاکستان میں اس کی قیمت میں تقریباً 25 فیصد اضافہ کیا ہے۔ جس وقت قیمتیں کم ہو رہی تھیں اس وقت بھی وزیراعظم کے وژن کے عین مطابق پاکستان کے عوام کو ریلیف دیا گیا اور اب بھی پاکستان کے عوام اور پاکستان کے محنت کشوں کو وزیراعظم تحفظ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تیل پیدا کرنے والا ملک نہیں ہے، اس کے باوجود نہ صرف برصغیر بلکہ ایشیاءمیں ہمارے ہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں سب سے کم ہیں۔ عمر ایوب نے کہا کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس چیز پر یقین رکھتی ہے کہ جو حقائق ہیں وہ سامنے آنے چاہئیں، ہمارا مقابلہ مافیاز اور ذخیرہ اندوزوں کے ساتھ ہے، ان کو بھی بے نقاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا پیغام ہے کہ ان کے نزدیک سب سے پہلے پاکستان کی عوام کی بہبود ہے، وزیراعظم کے دل میں عوام کا فائدہ اور ان کی دیکھ بھال سب سے اولین ترجیح ہے۔ عمر ایوب نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں 2015ءمیں طارق کھوسہ کی سربراہی میں ایک انوسٹی گیشن کمیٹی بنائی گئی لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں اس وقت کے وزیر خزانہ نے طارق کھوسہ کو بلایا اور ان سے کہا گیا کہ آپ اپنی انوسٹی گیشن اسی جگہ پر روک دیں اور اس وقت جو حقائق سامنے آ رہے تھے اس کو روکا گیا۔ اس کے بالکل برعکس وزیراعظم عمران خان کا موازنہ کریں، ان کا موقف یہی ہے کہ آپ مافیاز کی کمر توڑیں اور آخری حد تک جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم انشاءاﷲ مافیاز کو توڑیں گے، ان کے پیچھے پڑیں گے جو عوام کا خون چوسنے پر لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود جنوری کے مقابلے میں پٹرول کی قیمت 17 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 26 روپے ابھی بھی کم ہے۔ پی ڈی ایل کا فنانس بل میں تعین ہے، جی ایس ٹی بھی مقرر ہے۔ گیس کنکشن کے لئے تین لاکھ کا کوٹہ ہے، اس میں اضافہ کیا جائے گا۔ آئل مافیا کے خلاف کارروائی کریں گے۔ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں تیل کی فراہمی کا معاملہ زیر سماعت ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحقیقات روکنے کا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی ہم نے متحرک کیا ہے، قوانین میں بھی تبدیلیاں لائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے اپنا اندرونی نظام اپ گریڈ نہیں کیا، وفاقی حکومت اسے 850 میگاواٹ بجلی دے رہی ہے، اسے اپنی جنریشن پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ نیپرا نے اسے جرمانہ بھی کیا ہے۔ کراچی کے عوام اور صنعت کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے کے الیکٹرک کو 2022-23ءتک 500 کے وی اے کے گرڈ اسٹیشن بنانا ہوں گے۔ فرنس آئل کے لئے بھی گیلپ ٹینڈر ہو چکا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے کہا کہ 18 مئی کو پی ایس او نے 21 ڈالر 7 سینٹ فی بیرل کے حساب سے تیل خریدا، 28 مئی کو یہ بڑھ کر 31 ڈالر 27 سینٹ ہو گیا، 20 جون کو یہ 44 ڈالر اور 54 سینٹ ہو گیا۔ یوں سمجھ لیں کہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں اس کی قیمت میں تقریباً 112 فیصد اضافہ ہوا۔ اس دورانیہ میں ایندھن کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ ہوا، ابھی جو اضافہ کیا گیا ہے اس کو شامل کرنے کے بعد پٹرول کی قیمت 100 روپے ہے۔ 2 کارگوز لنگر انداز ہو رہے ہیں اور ایک دو دن بعد پہنچے گا۔ اس تناظر میں بتاتا چلوں کہ بھارت میں پٹرول کی قیمت 180 روپے فی لٹر، چین میں 137 روپے، بنگلہ دیش میں 174 روپے، انڈونیشیا میں 108 روپے، فلپائن میں 153 روپے اور جاپان میں 196 روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو کمی ہوگی وہ کنزیومر کو منتقل ہوگی، پی ڈی ایل پر کیپ لگا ہوا ہے۔ اسی لئے جیسے جیسے قیمتیں گرتی گئیں ان کا فائدہ عوام کو دیا گیا۔ 28 فروری کو کووڈ کا معاملہ شروع ہونے سے پہلے پٹرول کی قیمت 116 روپے 60 پیسے تھی اور ڈیزل کی قیمت 127.26 روپے تھی۔ یکم جون کو جو آخری کمی ہوئی اس کے مطابق پٹرول کی قیمت 42 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 47 روپے کمی ہو چکی تھی۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت دو گنا بڑھ چکی ہے۔ فروری کے مقابلہ میں پٹرول کی قیمت ابھی بھی 17 روپے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چوبیس گھنٹے میں بار بار ایک سوال پوچھا جا رہا ہے کہ 26 تاریخ کو کیوں قیمت تبدیل کی گئی۔ اس کی وجہ بتاتا چلوں کہ آخری کارگو پرسوں پہنچے گا اور اس وقت ایکسچینج ریٹ مختلف ہوسکتا ہے جس سے 31 سے 32 روپے کا اضافہ ہونا تھا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کیا طریقہ ہو سکتا ہے کہ اس کو کچھ کم کیا جا سکے، ہم نے کہا کہ چونکہ ٹیکسز فکسڈ ہیں، اس لئے اس کو تیس دن کی بجائے پینتیس دن کے اندر طے کیا جائے۔ ان 35 دنوں میں آئل کمپنیوں کو نقصان ہوگا لیکن یہ کم ہوگا۔ ندیم بابر نے کہا کہ پچھلے دو تین ہفتے سے بار بار بات ہو رہی ہے کہ پٹرول کی قلت کا ذمہ دار کون ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ آئل کمپنیوں نے اکیس دن کے تیل کا اسٹاک رکھنا ہے، تقریباً سب کے پاس اکیس دن کا اسٹاک نہیں تھا۔ ہم نے اس چیز کو دیکھتے ہوئے اوگرا سے کہا کہ ان کمپنیوں کو نوٹس دیں، ان کے خلاف ایکشن لیں۔ ہم نے پی ایس او کو کہا کہ چونکہ ان کے اسٹاکس کم ہیں آپ زیادہ امپورٹ کریں تاکہ اس کمی کو پورا کیا جا سکے۔ جون 2019ءکے مقابلے میں پی ایس او کی فروخت میں 15 فیصد کا اضافہ ہوا، ہم نے 78 فیصد سے زیادہ امپورٹ لایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کمپنی اپنے لائسنس کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس کا لائسنس معطل کیا جانا چاہئے، جب تک اوگرا کو مضبوط نہیں کیا جائے گا تاکہ وہ آئل کمپنیوں کے لائسنس معطل کر سکے تو یہ معاملہ پھر پیدا ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایکٹ میں ترمیم بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تقریباً 9 ہزار لیگل رجسٹرڈ پٹرول پمپس ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ کسی نہ کسی آئل کمپنی سے تیل خرید کر فروخت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیڑھ ہزار یا اس سے بھی زیادہ غیر قانونی پٹرول پمپس ہیں جن کا کسی بھی آئل کمپنی سے کوئی معاہدہ نہیں ہے، ان کے خلاف بھی کریک ڈاﺅن ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں بہت بڑھ چکی تھیں، کچھ لوگ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی اسٹوریج کر رہے تھے۔ قانون میں تبدیلی لے کر آئیں گے، قانون سازی بھی کی جائے گی۔ اوگرا نے کچھ نوٹس بھی جاری کئے ہیں، جرمانے بھی کئے ہیں لیکن یہ ناکافی ہیں، اس کو بڑھانا پڑے گا۔ آج اگر ہم ہر آئل کمپنی سے کہتے ہیں کہ جتنے اس کے پمپ رجسٹرڈ ہیں اس کی سیل بتاﺅ تو وہ نہیں بتا رہی۔ ہم ایک ایسا نظام لا رہے ہیں تاکہ روزانہ کا ڈیٹا ہمیں میسر آ سکے تاکہ اوگرا کو معلوم ہو کہ ڈپو میںکتنا تیل موجود ہے اور پمپ نے کتنا فروخت کیا ہے اس کا بھی ڈیٹا لائیو مل سکے۔ اگلے تیس دن میں ہر روز ڈپوز کا لائیو ڈیٹا اپ ڈیٹ کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اگر جون 2019ءکی سیل دیکھیں، تو اس سال جون میں پہلی تاریخ سے 25 تاریخ تک ہماری سیل 33 فیصد زیادہ ہے اور یہ او ایم سیز نے فروخت کیا ہے۔ صارفین اتنا زیادہ استعمال نہیں کر سکتے۔ یقیناً ذخیرہ اندوزی ہو سکتی ہے۔ اوگرا کے قانون میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں۔ غیر قانونی پٹرول پمپوں کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔ یکم مارچ 2016ءکو جی ایس ٹی 71 فیصد پر لے جایا گیا تھا۔ ہم نے جی ایس ٹی کو 17 فیصد پر فکسڈ کیا ہے اور پٹرول پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 30 فیصد ہے۔ اس سے زیادہ اضافہ نہیں ہو سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ قانون کے مطابق اپنے گوشوارے ایف بی آر میں جمع کرواتے ہیں۔ وزیراعظم کے فیصلے کے مطابق کابینہ میں بھی اپنے اثاثوں کی تفصیلات جمع کروائی ہیں۔ وزیراعظم چاہیں تو وہ انہیں پبلک کر دیں۔ ندیم بابر نے کہا کہ یکم جون کو جو پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی تھی، وہی آج بھی ہے۔ 2011ءمیں حکومت کے فیصلے کے مطابق ہر مہینے پی ایس او کے کارگو کے ڈیٹا کی اوگرا تصدیق کرتا ہے اور جس دن کارگو آتا ہے اسی دن کا ایکسچینج ریٹ ملتا ہے۔ وزیراعظم اور وزارت خزانہ کو جو سمری بھجوائی گئی اس میں بھی کہا گیا ہے کہ اعداد و شمار کراس چیک ہوئے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں ندیم بابر نے کہا کہ پاور ڈویژن میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، ایک کمپنی میں ان کے تھوڑے سے شیئرز ہیں اور ایک ذیلی کمیٹی اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جو بھی قصور وار ہوا سامنے آ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے نیٹ ورک میں موجود پٹرول پمپوں کی فہرستیں ہمیں دیں، وہ فہرستیں اوگرا اور ضلعی انتظامیہ کو بھی دی گئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 60 سے 70 غیر رجسٹرڈ پٹرول پمپ سیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ریفائننگ کی گنجائش کم ہے اور اس سے صرف 35 سے 40 فیصد ضرورت پوری ہوتی ہے، باقی تیل ہمیں درآمد کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے تین چار مہینے میں ڈیزل کی طلب 55 فیصد اور پٹرول کی طلب 51 فیصد تک کم ہوئی۔ ریفائنریوں کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ بند ہونے والی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تقریباً تمام ریفائنریاں پرانی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ انہیں اپ گریڈ کیا جائے۔ کورونا کی وجہ سے اس سلسلے میں معاملات تاخیر کا شکار ہوئے ہیں تاہم ستمبر میں ریفائنریوں کے ساتھ یہ طے ہوگا کہ کتنے عرصہ میں وہ اپنی ریفائنریوں کو اپ گریڈ کریں گی۔ اس کے بعد ہمیں تیل کی درآمد اور ملکی پیداوار کا صحیح اندازہ ہو سکے گا۔







