اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) قومی اسمبلی نے وزارت قومی صحت وخدمات کے 4 مطالبات زر کی کثرت رائے سے منظوری دے دی جبکہ اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد کردی گئیں۔ہفتہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر حماد اظہر نے یہ مطالبات زر ایوان میں پیش کئے ان پربحث میں حصہ لیتے ہوئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار چیمہ نے کہا کہ یہ حکومت ریکارڈ پر …
قومی اسمبلی نے وزارت قومی صحت وخدمات کے 4 مطالبات زر کی کثرت رائے سے منظوری دے دی‘ اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 جون (اے پی پی) قومی اسمبلی نے وزارت قومی صحت وخدمات کے 4 مطالبات زر کی کثرت رائے سے منظوری دے دی جبکہ اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد کردی گئیں۔ہفتہ کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر حماد اظہر نے یہ مطالبات زر ایوان میں پیش کئے ان پربحث میں حصہ لیتے ہوئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نثار چیمہ نے کہا کہ یہ حکومت ریکارڈ پر ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ گزشتہ روز پیٹرول کی ریکارڈ قیمت بڑھائی گئی۔ اس بار انتخابات میں عوام ان کو ریکارڈ عبرت کا نشان بنا دے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کو پتہ ہی نہیں کہ کیا کرنا ہے۔ تفتان میں لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا گیا۔ کیا حکومت نے اپنی زمہ داری پوری کی۔ سپین اور دیگر ممالک سے آئے لوگوں کو ان کے آبائی علاقوں میں بھیج دیا گیا۔ لاک ڈاﺅن پر پالیسی دیکھ لیں جب کیسز کم تھے تو لاک ڈاﺅن‘ زیادہ ہوئے تو لاک ڈاون ختم کردیا گیا۔ پمز اور پولی کلینک میں مریضوں کے لواحقین خوار ہو جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ لاجز کی ڈسپنسری میں آکسیجن تک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک حکومتی خاتون رکن کا کورونا کی وجہ سے سانس رکا تو ڈسپنسری سے آکسیجن نہیں ملی۔ بلڈ پریشر چیک کرنے کے لئے عملہ ڈسپنسری میں موجود نہیں ہوتا۔ ایک وزیر نے کرپشن کی تو ان کو ایک وزارت سے ہٹا کر پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اہم عہدوں کے لئے لوگوں کو امپورٹ کر کے لایا جا رہا ہے۔ یہ ڈبلیو ایچ او سے آئے ہیں وہیں چلے جائیں گے۔ پاکستان ڈینٹل کونسل کو اس حکومت نے تباہ کر دیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ جو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں قابل افسوس ہے۔ اس وباءکے دوران اس اقدام سے ایسا لگتا ہے کہ ان کو اس وبا ءکا احساس نہیں ۔ راتوں رات پٹرولیم مصنوعات کو بڑھایا گیا اور یہ عوام پر بم کی طرح گرا ہے۔ یہ اضافہ ناقابل قبول ہے ۔ ماضی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے پر شرم کرو کا نعرہ لگانے والوں کو شرم آنی چاہیے ۔ انہوں نے تو عوام کا تیل نکال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا ذمہ دار وفاق ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ وبا پر ہمیں ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس وباءکے دوران ہسپتالوں کو ٹیک اوور کرنا زیادتی ہو گی۔ ہمیں کورونا پر نیشنل پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی 6 سفارشات تھیں ہم ان کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔ ٹیسٹنگ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو ایک بیج پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں تمام ذمہ داری کورونا پر ڈالنا درست نہیں ۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ عوام پر رات کے وقت وار کرنے کے مترادف ہے۔ اگر صحت ہے تو امید ہے اگر صحت نہیں تو کچھ نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر درشن نے کہا کہ وزیر اعظم سے درخواست کروں گا کہ سمندر سے تیل نکالیں، عوام کا تیل نہ نکالیں۔ لاک ڈاو¿ن ختم کرکے عوام کو کورونا میں دھکیل دیا گیا ہے۔ کرونا سے بچاو¿ کی ادویات یا تو غائب کردی گئیں یا پھر مہنگی کر دی گئیں۔ تین روپے کا ماسک 35 روپے میں کر دیا گیا ہے۔ کرپشن کے نام پر احتساب صرف اپوزیشن کا کیا گیا۔ رانا ثناءاللہ کے لئے قسمیں کھاکر کہا گیا کہ ثبوت ہیں، لیکن کچھ نہیں دکھایا۔ اپوزیشن کے تمام رہنماو¿ں کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ چین سے اتنے جہاز سامان لے کر آئے وہ سامان کہاں گیا۔ ڈاکٹرز کو حفاظتی کٹس نہیں مل رہیں، میڈیکل عملہ غیر محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے ہمارے ہزار اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن سندھ میں پیپلز پارٹی کام کرنا چاہتی ہے لیکن وفاق رکاوٹیں ڈالتا رہا ہے۔ کورونا کی روک تھام کے لئے ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے مطابق پلاننگ کی جائے۔ آگے ڈینگی بھی آئے گا تو پھر دیکھ لیجئے گا کیا حال ہوتا ہے۔ تعلیم اور صحت کے لئے بجٹ میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں میں بھی عوام کو سہولیات نہیں مل رہی۔ پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ اس کم بجٹ پر ہمارا صحت کا نظام کیسے کام کرے گا ۔ ہمارے ملک میں اگر کورونا کے مریض کو پلازمہ چاہیے تو وہ بلیک میں مل رہا ہے ۔ ملک میں سرجیکل ماسک اس قیمت کا ہونا چاہیے کہ لوگ اسے آسانی سے خرید سکیں ۔ کورونا کا ٹیسٹ دس ہزار روپے میں ہو رہا ہے، عام شخص اس کو کیسے افورڈ کرے ۔ ہماری کورونا کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت 50 ہزار سے زیادہ ہونی چاہیے۔ طبی عملے اور سیکورٹی اہلکاروں کو پی پی ایز فراہم کریں ۔ کورونا کے لئے اپ اسلام آباد میں ایمرجنسی ہسپتال بنا رہے تھے اس کا کیا بنا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے اس مافیا کو فائدہ ہوا جو عمران خان کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں ۔ جو کورونا کی ادویات مارکیٹ سے غائب ہیں انہیں دستیاب بنانے حکومت اقدامات کرے ۔ عوام کا اعتماد عمران خان سے ختم ہو چکا ہے ۔ مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ پٹرول کی قیمت بڑھا دی گئی ہے صحت کی بات کر لیں تو پورا صحت کا نظام خراب ہے۔ صحت کے لیے بہت ہی تھوڑا بجٹ رکھا گیا۔ ایک سال میں 7.8 ملین بچے ملک میں پیدا ہو رہے ہیں۔ ایک تہائی بچے وہ ہیں جن کو پہلے سال کسی قسم کی وکسین نہیں لگ رہی ۔ پولیو کی نئی اقسام آ رہی ہیں۔ ان بیماریوں کا مقابلہ اتنے کم بجٹ سے کیسے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر کو اس لئے فارغ کیا گیا کیونکہ ادویات کی قیمتیں بڑھیں۔ اس سے متعلق کوئی انکوائری سامنے نہیں آئی۔ مولانا صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ چمن ہسپتال میں گیا تو خواتین مریض زمین پر بیٹھی ہوئی تھی، وہاں کوئی سہولت نہیں۔ علی محمد خان کو دعوت دیتا ہوں کہ چمن ہسپتال کی چل کر حالت دیکھیں۔ ان ہسپتالوں کے لیے فنڈز بڑھائے جائیں۔ رکن قومی اسمبلی زہرہ ودود فاطمی نے کہا کہ صحت اور تعلیم بنیادی ضروریات ہیں۔








