اسلام آباد ۔ 28 جون (اے پی پی) رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے جاری کھاتوں کے خسارہ (کرنٹ اکاﺅنٹ) میں 74 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں جولائی تا مئی 2019-20ءکے دوران کرنٹ اکاﺅنٹ خارہ 3.3 ارب ڈالر تک کم ہو گیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا …
حکومت کے موثر اقدامات کے نتجیہ میںرواں مالی سال کے دوران پاکستان کے جاری کھاتوں کے خسارہ میں 74 فیصد کی نمایاں کمی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 28 جون (اے پی پی) رواں مالی سال کے دوران پاکستان کے جاری کھاتوں کے خسارہ (کرنٹ اکاﺅنٹ) میں 74 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں جولائی تا مئی 2019-20ءکے دوران کرنٹ اکاﺅنٹ خارہ 3.3 ارب ڈالر تک کم ہو گیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا مئی 2018-19ءکے دوران جاری کھاتوں کا ملکی خسارہ 12.5 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ میں 9.2 ارب ڈالر یعنی 74 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ مرکزی بینک نے رپورٹ میں کہا ہے کہ حکومت کے غیر ضرورتی درآمدات کی حوصلہ شکنی اور انتظامی اقدامات کے نتجیہ میں خسارہ کم ہوا ہے۔ ایس بی پی نے مزید کہا ہے کہ جاری کھاتوں کے ملکی خسارہ میں کمی کا بنیادی سبب تجارتی خسارہ میں ہونے والی کمی بھی ہے۔ درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران 19 فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ ایس بی پی کے مطابق مئی 2020ءکے دوران کرنٹ اکاوئنٹ 13 ملین ڈالر سر پلس رہا ہے جبکہ اپریل 2020ءمیں 530 ملین کا خسارہ تھا اور مئی 2019ءکے دوران حسابات جاریہ کا ملکی خسارہ ایک ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔







