اسلام آباد۔ 2 جولائی(اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے جمعرات کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کی جس میں قانون سازی اور دیگر پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بابر اعوان نے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کو احسن انداز سے چلانے پر سپیکر قومی اسمبلی کو مبارکباد پیش کی۔ سپیکر نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ نے بجٹ اجلاس کے …
مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کی سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات، قانون سازی اور دیگر پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچا مگر حکومت نے ٹیکس فری بجٹ دیا، ، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 2 جولائی(اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے جمعرات کو سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کی جس میں قانون سازی اور دیگر پارلیمانی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بابر اعوان نے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان کو احسن انداز سے چلانے پر سپیکر قومی اسمبلی کو مبارکباد پیش کی۔ سپیکر نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ نے بجٹ اجلاس کے دوران جس نظم و نسق کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعریف ہے۔ سپیکر نے کہا کہ موجودہ حالات میں اراکین کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں بحث میں حصہ غیر معمولی ہے، اراکین کو بجٹ بحث میں زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کیا گیا، حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی جانب سے کھل کر اپنا نقطہ نظر پیش کیا گیا۔ اسد قیصر نے کہا کہ کورونا وباء کے باعث پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ پر عمومی بحث کیلئے 40گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا تھا، بجٹ بحث 57 گھنٹے 9 منٹ کرائی گئی، اپوزیشن نے 29 گھنٹے 14 منٹ اور حکومت نے 27 گھنٹے 55 منٹ بحث کی، اپوزیشن کو اپنے مقررہ وقت سے 10 گھنٹے 49 منٹ جبکہ حکومت کو 6 گھنٹے 20 منٹ اضافی وقت ملا، بجٹ اجلاس میں 208 ارکان نے حصہ لیا، حکومت کے 107 اور اپوزیشن کے 101 ارکان اجلاس میں شامل ہوئے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے ٹیکس فری بجٹ پیش کرنا خوش آئند ہے، پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچا مگر حکومت نے ٹیکس فری بجٹ دیا، بجٹ اجلاس میں حکومت کے مقابلہ میں اپوزیشن کو زیادہ وقت دیا گیا۔ ملاقات میں 8 جولائی کو شروع ہونے والے اجلاس کے ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ بابر اعوان نے کہا کہ موجودہ حکومت پارلیمان کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، بجٹ سیشن کے دوران اراکین کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز حکومت کو آئندہ بجٹ بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔







