اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم آکسفیم نے وزیر اعظم عمران خان کی انسانی زندگی کے تحفظ اوراس کی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کی کوششوں میں توازن پیدا کرنے کی مہم کا حصہ بنتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بھوک کے مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ وہ کورونا وائرس کی نسبت زیادہ لوگوں کی جان لے سکتے ہیں۔ دنیا کے ممالک کی …
موجودہ حکومت کی سمارٹ لاک ڈاﺅن کی بصیرت افروز سوچ اور دانشمندانہ اقدام سے پاکستان کو بڑی حد تک وائرس کے پھیلاﺅ سے بچانے میں مدد ملی اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں شدید معاشی مسائل کا مقابلہ میں صورتحال بہتر رہی ، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم آکسفیم کی رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 جولائی (اے پی پی) بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم آکسفیم نے وزیر اعظم عمران خان کی انسانی زندگی کے تحفظ اوراس کی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کی کوششوں میں توازن پیدا کرنے کی مہم کا حصہ بنتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بھوک کے مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ وہ کورونا وائرس کی نسبت زیادہ لوگوں کی جان لے سکتے ہیں۔ دنیا کے ممالک کی اکثریت انفرادی طور پر کووڈ 19 کی وباءپر قابو پانے کے اقدامات کر رہی ہے۔ عدم مساوات اور نا انصافی کی وجہ سے غربت کا خاتمہ کے لئے دنیا کے 90 ممالک میں کام کرنے والی 20 این جی اوز کی کنفیڈریشن آکسفیم کے مطابق کورونا وائرس سے پیدا شدہ بھوک کے مسائل کی وجہ سے رواں سال کے اختتام تک 12 ہزار افراد یومیہ بھوک کی وجہ سے مر سکتے ہیں اور یہ تعداد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ مارچ میں کورونا وباءکے پھیلاﺅ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈاﺅن کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”بھوک کا وائرس“ ایک اور بڑا خطرہ ہے۔ وزیراعظم عمران عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی پالیسی اختیار کی تاکہ زندگی اور زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری سامان کی دستیابی میں توازن پیدا کیا جا سکے۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن میں لوگوں کو اپنی روزی روٹی کمانے کے مواقع مل سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، ان کے سماجی تحفظ کی ضرورت ہے، اس لئے انہیں کام کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ بھوک کے بحران کو ختم کرنے کے لئے حکومتوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے ادارہ نے کہا کہ عالمی تضادات، موسمیاتی تبدیلی، عدم مساوات اور غذائی عدم تحفظ کے مسائل سے پہلے سے دوچار لاکھوں افراد کے لئے کووڈ 19 کی وباءآخری تنکا ثابت ہو گی جس سے ان کی زندگی کو خطرات ہو سکتے ہیں۔ آکسفیم نے کہا کہ بھوک کا شکار غذا پیدا کرنے والے لاکھوں کارکن بھی بن سکتے ہیں، امریکہ میں کام کرنے والی نیوز ایجنسی بلوم برگ نے بھی سمارٹ لاک ڈاﺅن کے وژن کو دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ویکسی نیشن کا انتظار کرتے کروڑوں کے لئے ایک امید قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمارٹ لاک ڈاﺅن کے دوران لوگوں کو کام کرنے کی اجازت سے وہ نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی متوازن سوچ کی دنیاکی حکومتوں، معروف سائنسدانوں، اداروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا نے بھرپور حمایت کی ہے۔ ڈیلی میل کے مطابق نوبل انعام یافتہ سائنسدان مشائل لیوٹ نے مئی میں خبردار کیا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاﺅن کی وجہ سے زیادہ اموات ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افراتفری میں لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے کے فیصلہ کی بجائے لوگوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لئے بہتر اقدامات کی ضرورت ہے۔ جے پی مورگن میں کہا گیا ہے کہ وباءکے پھیلاﺅ کو روکنے میں لاک ڈاﺅن کی پالیسی ناکام ہے اور اس سے لاکھوں لوگوں کی زندگی مشکلات کا شکار ہوئی ہے۔ آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت، جنوبی افریقہ اور برازیل سمیت متوسط آمدنی والے دیگر کئی ممالک بھوک کے شکار ہو سکتے ہیں کیونکہ ان ممالک میں غربت کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے پہلے ہی لوگوں کو زندگی بسر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے حتیٰ کہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں بھی صورتحال مختلف ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے اندازے کے مطابق رواں سال کے اختتام تک بھوک کے مسائل کے شکار افراد کی تعداد 270 ملین سے بڑھ جائے گی جن کو وباءکی وجہ سے بھوک کے مسائل کا سامنا ہو گا اور 2019ءکے بعد بھوک کے شکار افراد میں 82 فیصد اضافہ ہو گا۔ رپورٹ میں یمن، جمہوریہ کانگو، افغانستان، وینزویلا، مغربی افریقہ، ایتھوپیا، سوڈان، جنوبی سوڈان، شام اور ہیٹی کو بھوک کے نئے مراکز قرار دیا جا سکتا ہے۔ عوام کے لئے بہتر ریلیف پیکج کے فیصلہ کے تحت موجودہ حکومت نے ملک بھر میں مالی معاونت کا پروگرام شروع کیا تاکہ 12 ملین افراد کی معاونت کی جا سکے جن کا روزگار متاثر ہوا یا چھوٹے کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت نے بھاری مراعات کے پیکج کے تحت تعمیرات کی صنعت کو کام کرنے کی اجازت دی تاکہ معاشی سرگرمیوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ اس سے جڑی 40 دیگر صنعتوں کو بھی بحال کیا جا سکے تاہم اس حوالے سے کووڈ 19 سے تحفظ کے اقدامات پر عملدرآمد کویقینی بنانے کی سخت ہدایات بھی کی گئیں۔ حکومت کے لئے وباءکے پھیلاﺅ کو روکنا ایک بڑا مسئلہ تھا تاہم حکومت کی سمارٹ لاک ڈاﺅن کی بصیرت افروز سوچ اور دانشمندانہ اقدام سے پاکستان کو بڑی حد تک وائرس کے پھیلاﺅ سے بچانے میں مدد ملی اور دنیا کے دیگر کئی ممالک میں شدید معاشی مسائل کا مقابلہ میں صورتحال بہتر رہی۔ آکسفیم نے کہا ہے کہ بھارت کی حکومت کی جانب سے اچانک 21 روز کے لاک ڈاﺅن کے فیصلہ سے انتہائی مشکل حالات اور غربت کی لکیر کے آس پاس زندگی بسر کرنے والے لاکھوں افراد یکدم متاثر ہوئے اور ایک رات میں 40 ملین افراد بے روزگار ہو گئے۔ ایک برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز نے آکسفیم کے چیف ایگزیکٹو جی پی ڈینی سر سکندا راجھا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے لاک ڈاﺅن سے وائرس سے زیادہ نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد بھوک اور غربت کا شکار بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں اقوام متحدہ کی کووڈ 19 اپیل کے جواب میں فنڈنگ کریں تاکہ عالمی سطح پر وائرس کے پھیلاﺅ کے تضادات کے خاتمہ اور وباءسے نمٹا جا سکے۔ اپنی تجاویز میں آکسفیم نے پائیدار اور موثر فوڈ سسٹم تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈونر حکومتیں یو این کووڈ 19 کی انسانی ہمدردی کی اپیل پر فنڈز فراہم کریں تاکہ وبا اور بھوک سے زیادہ متاثر معاشروں کی مدد کی جا سکے۔ وزیراعظم عمران خان کی طرح آکسفیم نے بھی عالمی برادری پر زور دیا کہ کم اور متوسط آمدن والے ممالک سمیت نجی قرض حاصل کرنے والوں کے لئے قرضے معاف کئے جائیں اور اس میں تمام پرائیویٹ، باہمی اور کثیر الجہتی قرضوں کی معافی شامل ہونی چاہیے۔ قرضوں کی معافی کی سہولت سے غریب اور کم آمدنی والے ممالک کو ایک کھرب ڈالر کا فائدہ ہو گا اور اس رقم سے وہ معاشی امداد کے پیکج فراہم کر سکیں گے جس سے چھوٹے کاروباروں کی بحالی اور غریب طبقات کے سماجی تحفظ کے اقدامات میں مدد ملے گی۔ مزید برآں قرضوں کی معافی سے غریب اور ترقی پذیر ممالک غریب عوام کو گزر بسر کے لئے کیش گرانٹ دے سکیں گے۔ عالمی جنگ بندی کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی درخواست کی حمایت کرتے ہوئے آکسفیم نے تمام ممالک اور فریقین پر زور دیا کہ جنگ، لڑائی اور اسلحہ کی فروخت فوری طور پر بند کی جائے اور انسانی ہمدردی کے تحت امداد کو لوگوں تک پہنچنے دیا جائے اور عالمی امن و امان کے قیام کی کاوشوں کو کامیاب بنایا جائے۔








