اسلام آباد ۔ 11 اگست (اے پی پی) کورونا وائرس کی وبا ابھی بھی ملک سے ختم نہیں ہوئی، اس مہلک وبائی مرض کو شکست دینے کے لیے احتیاط لازمی ہے، اس بیماری پر قابو پانے پر حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر تعاون پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ منگل کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، …
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر کی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 اگست (اے پی پی) کورونا وائرس کی وبا ابھی بھی ملک سے ختم نہیں ہوئی، اس مہلک وبائی مرض کو شکست دینے کے لیے احتیاط لازمی ہے، اس بیماری پر قابو پانے پر حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے پر تعاون پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ منگل کو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات اسد عمر نے کہا کہ حکومت نے دو دن پہلے معیشیت کی بحالی کے لیے بند سیکٹرز کو کھولنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ملک سے اس مہلک وبائی مرض کا خاتمہ ہو چکا ہے بلکہ یہ ابھی موجود ہے اور ہمیں اس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون کے وسط میں امپیریل کالج کی ایک سٹڈی بہت مشہور ہوئی جس میں دل دہلا دینے والے انکشافات کیے گئے کہ پاکستان میں اس بیماری سے بہت سے افراد اپنی جانوں کی بازی ہاریں گے لیکن حکومت اور این سی او سی کے بروقت اقدامات سے اس بیماری کی وجہ سے ہونے والی اموات اس رپورٹ کا عشر عشیر بھی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بیماری کے خلاف وفاق، صوبوں اور فوج نے جس طرح سے مل کر کام کیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل میں ٹی ٹی کیو پالیسی کا جامع منصوبہ بنایا گیس جس کے تحت قومی، صوبائی، ضلع اور تحصیل کی سطح پر ٹیمیں بنائیں گئی اس وقت ملک بھر میں ساڑھے دس ہزار سے زائد لوگ ٹی ٹی کیو پالیسی کے تحت اس بیماری کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ جس کی بدولت تقریباً گیارہ لاکھ کانٹیکٹس ٹریس کیے گئے۔اس وقت ملک میں کووڈ۔19کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 85 ہزار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان اس ٹی ٹی کیو پالیسی کے تحت 48 فیصد ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 38 فیصد مثبت آئے۔ اسد عمر نے مزید کہا کہ یہ حکومت اور این سی او سی کی کامیابی ہے کہ سمارٹ لاک ڈاو¿ن کے تحت پورے ملک کو بند نہیں کیا گیا بلکہ ان جگہوں کو بند کیا گیا ہے جہاں پر اس وبا کے پھیلنے کے زیادہ امکانات تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں ملک کے دیگر شہروں میں 700 سے 800 جگہوں پر ایک وقت میں سمارٹ لاک ڈاﺅن لگائے گئے اس وقت بھی 20 اضلاع میں 85 سمارٹ لاک ڈاو¿ن ہیں اب حکومت این سی او سی کے تعاون سے مائیکرو سمارٹ لاک ڈاو¿ن کی طرف جارہی ہے کہ جس بلاک یا گھر میں کورونا کا مریض ہو گا اس کو لاک ڈاو¿ن کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں اس بیماری کے وار جاری ہیں اور ان کا تناسب پاکستان کے مقابلے میں زیادہ ہے اور اس بیماری سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بھی پاکستان سے زیادہ ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو دن میں سیاحتی مقامات پر لوگوں کے رش کو دیکھتے ہوئے صوبائی چیف سیکرٹریز کو ہدایات کی گئی ہیں کہ سیاحتی مقامات پر اس بیماری کے حوالے سے قائم کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے کیونکہ اگر اس پر کنٹرول نہ کیا گیا تو اس بیماری کا پھیلاو¿ پھر سے بڑھ سکتا ہے۔ وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ جب یہ بیماری پھیلی تو برآمدات میں 40 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی اسی طرح سے ریوینیو میں بھی 40 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اس لئے تمام سیکٹرز کو کھولنے میں اس عام آدمی کا خیال رکھا گیا جس کا گزر بسر مزدوری کر کے ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی اس بیماری کے خلاف بنائی گئی حکمت عملی کو دوسرے ممالک میں بھی سراہا جا رہا ہے لہذا انہوں نے قوم سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ احتیاط کریں اور ماسک کے استعمال کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلوں کو یقینی بنائیں تا کہ جو فتح اس بیماری کے خلاف حاصل کی ہے وہ شکست میں تبدیل نہ ہو۔








