اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ پاکستان کے عوام کی فلاح بہبود اورترقی حکومتی اصلاحات کے پروگرام کا اہم مقصد اورہدف ہے، ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل جاری ہے، سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اورمسابقتی کمیشن آزادانہ طورپرکام کررہے ہیں ، اصلاحات کے پروگرام کا ایک اورعنصرادارہ جاتی اصلاحات کے عمل میں نجی شعبہ کوشامل کرناہے، ملکی تاریخ …
وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کا کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز کے زیراہتمام ویبینارسے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 اگست (اے پی پی)وزیراعظم کے مشیربرائے خزانہ ومحصولات ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ پاکستان کے عوام کی فلاح بہبود اورترقی حکومتی اصلاحات کے پروگرام کا اہم مقصد اورہدف ہے، ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل جاری ہے، سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اورمسابقتی کمیشن آزادانہ طورپرکام کررہے ہیں ، اصلاحات کے پروگرام کا ایک اورعنصرادارہ جاتی اصلاحات کے عمل میں نجی شعبہ کوشامل کرناہے، ملکی تاریخ میں یہ منفرد موقع ہے کہ ایک ایسا لیڈر موجود ہے جو میرٹ پرکام کررہا ہے۔ یہ بات انہوں نے کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز کے زیراہتمام ”حقیقت پسندانہ اصلاحات کے ذریعہ اقتصادی استحکام“ کے موضوع پر ویبینارسے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ جب موجودہ حکومت آئی تواندرونی بیرونی خسارہ زیادہ تھا، برآمدات میں اضافہ پچھلے پانچ سال منفی میں تھا، ڈالر کی مصنوعی قدرکیلئے ڈالراستعمال کئے گئے۔کرنٹ اکاونٹ خسارہ20 ارب ڈالرتھا۔ مالی خسارہ بھی زیادہ تھا۔ موجودہ حکومت نے مشکل فیصلے کئے۔ اصلاحات کے پروگرام کی حمایت کیلئے بین الاقوامی برادری اورعالمی مالیاتی اداروں جیسے آئی ایم ایف سے معاونت حاصل کی گئی، ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اورکثیرالجہتی ودوطرفہ انتظامات کے تحت اضافی بجٹ معاونت حاصل کی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ مشکل فیصلے کئے گئے جن میں مارکیٹ کی حقیقی صورتحال کی بنیاد پرڈالرکی قدرکے تعین کا فیصلہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہاکہ تاریخی طور پر پاکستان برآمدات میں اضافہ کرنے میں ناکام رہاہے، حکومت نے درآمدات کی آزادانہ بہاﺅ کی بجائے برآمدات میں اضافہ کرنے پراپنی توجہ مبذول کی اس کیلئے تاجر اورکاروباری برادری کیلئے ترغیبات دی گئیں جن میں آسان قرضوں ، ری فنڈز کی ادائیگی، گیس اوربجلی کی مد میں زرتلافی کی فراہمی جیسے اقدامات شامل تھے تاکہ ہمارے برآمد کنندگان اپنی مصنوعات کیلئے نئی منڈیاں تلاش کرسکے۔ مشیرخزانہ نے کہاکہ حکومتی اخراجات میں کمی ایک اوربڑا فیصلہ تھا،کابینہ کی تنخواہوں میں کمی کی گئی، ایوان صدر اوروزیراعظم ہاوس وآفس کے اخراجات میں کمی کی گئی، اسی طرح دفاعی اخراجات کو منجمدکیاگیا، پوری سول حکومت کے بجٹ میں کمی گئی۔ پورے سال میں کسی بھی وزارت کواضافی ضمنی گرانٹ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اخراجات کے بہترانتظام وانصرام کے بہت اچھے نتائج دیکھنے میں آئے۔کورونا وائرس کی وبا سے پہلے محصولات میں اضافہ کی شرح 17 فیصد تک ریکارڈکی گئی۔ پہلی بارپرائمری بیلنس جوپہلے منفی میں جاتا تھا وہ سرپلس میں گیا، موجودہ حکومت نے ماضی میں لئے گئے قرضوں پر5 ہزار ارب روپے کاسود اداکیا۔درآمدات کی حوصلہ شکنی اوربرآمدات کی حوصلہ افزائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے دوسالوں میں حسابات جاریہ کاخسارہ 20 ارب ڈالرسے کم کرکے3 ارب ڈالر کی سطح پرلانے میں کامیابی حاصل کی۔ نان ٹیکس ریونیومیں اضافہ پرتوجہ دی گئی،1.1 ٹریلین کے ہدف کے مقابلے میں 1.5 ٹریلین روپے نان ٹیکس محصولات کی مدمیں حاصل کئے گئے۔مشیرخزانہ نے کہاکہ کورونا وائرس کی وبا سے پہلے آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے اصلاحات کے پروگرام کوبڑی کامیابی قراردیا تھا ، بلوم برگ نے پاکستان کی سٹاک مارکیٹ کو دنیا کی تیزی سے بہترترقی کرتی ہوئی ٹاپ مارکیٹوں کی فہرست میں شامل کیا۔ عالمی بینک نے کاروبارمیں آسانیوں کے ضمن میں پاکستان کی درجہ بندی میں اضافہ کیا۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے معاشرے کے غریب اورمحروم طبقات کیلئے احساس پروگرام کے بجٹ کو آئی ایم ایف پروگرام کے باوجود دوگنا کردیا گیا، اس پروگرام کے ذریعہ حکومت نے ایک کروڑ60 لاکھ خاندانوں تک رسائی حاصل کی اورانہیں معاونت فراہم کی گئی۔ مشیرخزانہ نے کہاکہ حکومت ملک میں ایک ایساماحول بنانے میں کامیاب ہوگئی جہاں لوگ کاروباراورسرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔سٹاک مارکیٹ ترقی کررہی ہے، دیگرمعاشی اشاریے بھی بہترتھے۔کورونا وائرس نے جہاں دنیاءبھرکی جی ڈی پی کومتاثرکیا ہے وہیں ان کے اثرات پاکستان پربھی پڑے ہیں جس کی وجہ سے حکومت کی اقتصادی محاذ پر حاصل کردہ کامیابیوں پراثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ محدودوسائل کے باوجود پاکستان نے کورونا وائرس کی وبا کی وجہ کاروباراورمحروم وغریب طبقات کیلئے معاونت فراہم کی اس کیلئے 1240 ارب روپے کاپروگرام تیارکیاگیا۔ اس کا مقصد ضرورت مند لوگوں کوکیش امدادکی فراہمی تھی،10 کروڑ لوگوں کی مدد کی گئی، کاروبار بالخصوص چھوٹے اوردرمیانہ درجہ کے کاروبارکیلئے کیش کے مسئلہ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی، انہیںقرضوں کی موخرادائیگیوں کی سہولت فراہم کی گئی، کاروباراورشہریوں کو گیس اوربجلی کے بلوں میں سہولت دی گئی، روزگارسکیم کے تحت 30 لاکھ ملازمین کے روزگارکوتحفظ فراہم کیاگیا،1.2 ملین کاروباری اداروں کوبند ہونے سے بچایا گیا۔ بجٹ میں 20 ہزارآئٹمزپرزیروڈیوٹی کی سہولت دی گئی، کامیاب جوان پروگرام کے دائرہ کارمیں توسیع کی گئی، آنے والے سالوں میں اس پروگرام کا بجٹ 100 ارب روپے تک بڑھا دیاجائے گا، حکومت نے تعمیرات کی صنعت کیلئے تاریخی مراعات دی، چھوٹے مکانات کی تعمیرکرنے والوں کو ٹیکس میں 90 فیصد کی رعایت دی گئی ہے، نیا پاکستان ہاوسنگ منصوبہ کیلئے 30 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی تاکہ ملک میں اقتصادی سرگرمیاں فروغ پاسکے۔ یہ غیرمعمولی اقدامات ہیں جوحکومت نے کوروناوائرس کے اثرات کو کم کرنے کیلئے کی ہیں۔اس حکومت کا محورپاکستان کے عوام ہیں، دوسالوں میں ایک کروڑخاندانوں کوکیش امدادفراہم کی گئی، ضم شدہ قبائلی علاقوں کی ترقی کیلئے 192 ارب روپے کے فنڈزمختص کئے گئے ہیں، یوٹیلٹی سٹورز پر5 ضروری اشیاء کی کم قیمت پرفراہمی کیلئے 50 ارب روپے کے فنڈز رکھے گئے ۔19 اشیاءخوراک کی فراہمی کیلئے 15 ارب روپے مختص کئے گئے،72 فیصد بجلی اورگیس کے 90 فیصد صارفین کوبجلی آسان نرخوں پرفراہم کی جارہی ہے، زرعی شعبہ کی 100 فیصد ٹیوب ویلوں سبسڈائز نرخوں پربجلی فراہم کی جارہی ہے،کھادوں پرسبسڈی کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ یہ سارے اقدامات وبا کے اثرات کوکم کرنے کی کوششیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ نیا مالی سال شروع ہوچکاہے، بحالی کا اچھاآغاز ہواہے ، جولائی میں برآمدات میں 6 فیصد اضافہ ہوا، سیمنٹ کی کھپت میں 33 فیصداضافہ ہوا، سیمنٹ کی برآمدات میں اضافہ کی شرح 66 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پٹرول اور ڈیزل کی فروخت میں 15 فیصد، کھادوں کی فروخت میں 22 فیصد اضافہ ہوا، موٹربائیکس کی فروخت میں 31 فیصد اضافہ ہوا، ٹریکٹروں کی فروخت میں 17 فیصد اضافہ ہوا،کاروں کی فروخت میں اضافہ ہوا، جولائی میں ترسیلات زرمیں تاریخی اضافہ ہواہے، ایف بی آر نے جولائی میں 300 ارب روپے کی محصولات اکھٹا کیں، جو ہدف سے 23 فیصد اورگزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے، عالمی ریٹنگ اداروں نے پاکستان کی معاشی پیش منظرکومستحکم قراردیا ہے، غیرملکی سرمایہ کاری میں 88 فیصد اضافہ ہوا۔انہوںنے کہاکہ مراعات اورترغیبات کی درست تشکیل اصلاحات کے پروگرام کا ایک اہم عنصر ہے۔ شرح سودمیں کمی کی گئی ہے تاکہ لوگ زیادہ قرضے حاصل کرکے کاروبارکرسکیں، بجٹ میں نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، سبسڈیز کوحق داروں تک پہنچانے کیلئے اصلاحات کی جارہی ہے،ادارہ جاتی اصلاحات کا عمل جاری ہے، سٹیٹ بینک، ایس ای سی پی اورمسابقتی کمیشن آزادانہ طورپرکام کررہے ہیں۔ پی ایس ڈی پی میں وزارتوں کو اپنے پراجیکٹس کی آزادی دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ اصلاحات کے پروگرام کا ایک اورعنصرادارہ جاتی اصلاحات کے عمل میں نجی شعبہ کوشامل کرناہے، نجکاری کی فہرست اور، پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کو وسعت دی گئی ہے۔بجلی ،ائیرلائنز، سٹیل وغیرہ میں اصلاحات کرائی جارہی ہے، چیلنجز موجود ہیں ایسے ایریازبھی ہیں جہاں بہتری کی گنجائش ہیں۔ ملکی تاریخ میں یہ منفرد موقع ہے کہ ایک ایسا لیڈر موجود ہے جو میرٹ پرکام کررہاہے۔ پاکستان کے عوام کی فلاح بہبود اورترقی حکومتی اصلاحات کے پروگرام کا اہم مقصد اورہدف ہے۔








