اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) پاکستان نے 1992ءمیں ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو منہدم کرنے کے ذمہ دار مجرموں کو عدالت کی جانب سے بری کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوتوا سے متاثرہ بھارتی عدلیہ بری طرح سے انصاف کی فراہمی میں ناکام ہو گئی ہے، عالمی برادری، اقوام متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیمیں انتہا پسند ہندوتوا حکومت سے بھارت میں …
بھارتی عدلیہ کی جانب سے ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو منہدم کرنے کے ذمہ دار مجرموں کی شرمناک بریت پر پاکستان کی شدید مذمت ، ترجمان دفتر خارجہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 30 ستمبر (اے پی پی) پاکستان نے 1992ءمیں ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو منہدم کرنے کے ذمہ دار مجرموں کو عدالت کی جانب سے بری کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوتوا سے متاثرہ بھارتی عدلیہ بری طرح سے انصاف کی فراہمی میں ناکام ہو گئی ہے، عالمی برادری، اقوام متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیمیں انتہا پسند ہندوتوا حکومت سے بھارت میں اسلامی ثقافتی ورثہ کے تحفظ اور ہندوستان میں اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارتی عدلیہ کی جانب سے ایودھیا میں صدیوں پرانی بابری مسجد کو منہدم کرنے کے ذمہ دار مجرموں کی شرمناک بریت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس مجرمانہ فعل کا فیصلہ کرنے میں تقریباً تین دہائیاں لگیں جسے ٹی وی چینلز پر براہ راست ٹیلیویژن پر دکھایا گیا تھا۔ بھارتی عدلیہ کا فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوتوا سے متاثرہ ہندوستانی عدلیہ بری طرح سے انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ مسجد کے انہدام کے نتیجے میں بی جے پی کی زیرقیادت فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجہ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اگر نام نہاد بڑی”جمہوریت “ میں تھوڑی بھی انصاف ہوتی تو سرعام مجرمانہ فعل پر فخر کرنے والے آزاد نہیں ہو سکتے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہا پسند بی جے پی۔آر ایس ایس حکومت کے زیر اثر انتہا پسند نظام عدل کی عکاس ہے جس میں انتہا پسندی ”ہندوتوا“ نظریہ انصاف اور بین الاقوامی اصولوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل گذشتہ سال ہندوستانی سپریم کورٹ کے جانبدارانہ فیصلے کے تحت بابری مسجد کے احاطے کو رام مندر کی تعمیر کے لئے انتہائی ہندو جماعتوں کے حوالے کرکے ایک غلط مثال قائم کی گئی تھی۔ ترجمان نے کہا کہ بی جے پی،ار ایس ایس مشترکہ گٹھ جوڑ سے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی قابل مذمت اقدامات، ہندوستان کی تیزی سے ہندو راشٹر جن تبدیل کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری قرار دیا گیا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کا مسلم مخالف ایجنڈا سب سے زیادہ ہندوستانی غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں نظر آتا ہے جو مسلسل فوجی محاصرے میں ہے اور بی جے پی مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لئے اپنی مذموم پالیسیاں نافذ کرتی رہتی ہے۔ترجمان نے کہا کہ آر ایس ایس۔بی جے پی حکومت اور سنگھ پریوار منظم انداز میں ہندوستان میں مساجد کی مسلسل بے حرمتی اور انہدام کے ذمہ دار ہیں۔حتی کہ کوویڈ 19 وبائی بیماری کے دوران بھی ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملے جاری رہے۔ ایودھیا کے جانبدارانہ فیصلے کے بعد ہندو انتہا پسند بی جے پی، آر ایس ایس کی سرپرستی میں اب متھورا میں واقع کرشنا مندر کے ساتھ شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ کرشنا مندرکو پوری 13.37 ایکڑ اراضی کی ملکیت دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری ، اقوام متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتہا پسند ہندوتوا حکومت سے ہندوستان میں اسلامی ثقافتی ورثہ کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔








