(ن) لیگ کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو سے ہٹ کر نوٹ کو عزت دو میں بدل گیا، ، بیرسٹر شہزاد اکبر کا بیان

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مریم صفدر نے الیکشن کمیشن اور قانونی پابندیوں کے باوجود حلقہ این اے 120 میں 2017ءکے ضمنی انتخاب میں تاریخی دھاندلی کرتے ہوئے سرکاری خزانے سے اڑھائی ارب روپے خرچ کئے، (ن) لیگ کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو سے ہٹ کر نوٹ کو عزت دو میں بدل گیا، آل شریف کا …

اسلام آباد۔14اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ مریم صفدر نے الیکشن کمیشن اور قانونی پابندیوں کے باوجود حلقہ این اے 120 میں 2017ءکے ضمنی انتخاب میں تاریخی دھاندلی کرتے ہوئے سرکاری خزانے سے اڑھائی ارب روپے خرچ کئے، (ن) لیگ کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو سے ہٹ کر نوٹ کو عزت دو میں بدل گیا، آل شریف کا وطیرہ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ وہ اپنی دولت اور اقتدار کے بل بوتے پر ہمیشہ سے نظام کو اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں جس کی ایک مثال مریم نواز کی ہے جس نے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایات کو پس پشت ڈال کر حلقہ این اے 120 جسے (ن) لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے میں سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ہونے والے ضمنی الیکشن میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام غیر قانونی طور پر شروع کرائے۔ بدھ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے جاتی عمرہ میں مریم نواز کرتی اور اس پر عملدرآمد ایم پی اے ماجد ظہور کے دفتر واقع صفاں والا چوک اور بلال یسین کے دفتر واقع موہنی روڑ پر کیا جاتا ، تمام سرکاری افسران کو وہاں حاضری کے لئے مجبور کیا جاتا تھا اور نہایت ڈھٹائی سے غیر قانونی کاموں کی ہدایات جاری کی جاتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے میاں نواز شریف کو 28 جولائی 2017ءکو کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر نا اہل قرار دیا تھا جس کے بعد انکی طرف سے حلقہ این اے 120 کی خالی کردہ نشست پر ضمنی الیکشن ہونا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یکم اگست 2017ءکو ضمنی الیکشن کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مذکورہ حلقہ میں کسی قسم کے ترقیاتی کاموں پر مکمل پابندی لگا دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یکم اگست 2017ءسے 17 ستمبر 2017ءیعنی حلقہ میں ضمنی الیکشن کے دن تک صرف 48 دنوں میں تقریباً تین ارب کی خطیر رقم سے 59 ترقیاتی سکیمیں غیر قانونی طور پر بغیر کسی قاعدے قانون کو خاطر میں لاتے ہوئے اپنے منظور نظر ٹھیکیداروں سے شروع کی گئیں۔ ٹینڈر اشتہارات 26 اکتوبر 2017 کو اخبارات میں جاری کئے گئے اور ٹھیکہ جات 5دسمبر 2017ءکو الاٹ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سب سے قابل غور نقطہ یہ ہے کہ محکمہ فنانس نے متعلقہ ترقیاتی کاموں کے فنڈز 25 جنوری 2018ءکو جاری کئے تھے حالانکہ تمام ترقیاتی کام عرصہ پانچ ماہ قبل ہی شروع کرا دیئے گئے تھے، یہاں تمام حقائق و واقعات سے واضح ہے کہ فائلوں کا پیٹ بھرنے کے لئے بعد میں انتہائی چالاکی اور جعلسازی سے بوگس ٹینڈرز جاری کرکے اپنے من پسند تقریباً 39 ٹھیکیداروں میں بندر بانٹ کی گئی۔ دراصل ان ترقیاتی سکیموں کی مد میں اپنے خاص لوگوں میں پیسہ تقسیم کیا گیا اور الیکشن کو رگ کیا گیا۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ ووٹرز کو خریدنے اور نوٹ کو عزت دو کے بیانیہ کی کہانی صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ پکچر ابھی باقی ہے کہ مصداق حلقہ این اے 120 میں ہی شہنشاہ معظم جناب میاں محمد نواز شریف کے نام سے وزیراعظم پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام برائے حلقہ این اے 120 کے تحت 17 ترقیاتی سکیمیں جن میں سے ذیادہ تر الیکشن کمیش آف پاکستان کی طرف سے عائد پابندی کے دوران فنڈز جاری کئے گئے جن کی مالیت تقریباً 500ملین روپے ہے۔اس کے علاوہ تقریباً 500ملین روپے اور بھی ہیں جن کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں ہونے والی اس دھاندلی کے خلاف متعلقہ اداروں اور الیکشن کمیشن کو ریفرینس بھیجے جائیں گے۔ اس واردات سے ایک دفعہ پھر ثابت ہوتا ہے کہ شریف خاندان ملکی خزانے اور وسائل کو اپنے ذاتی مفادات کے لئے بے دریغ استعمال کرنے میں مہارت رکھتا ہے بلکہ سرکاری افسران کو بھی اپنے ذاتی ملازم کی حیثیت سے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ گ±ڈ گورننس کی دعویدار سابق انتظامیہ میں اس وقت کے ڈی سی لاہور نے اینٹی ڈیٹیڈ منظوری اور ادائیگی کروا کے نہ صرف غیر قانونی کام کیا بلکہ ڈی سی ، کمشنر اور ڈی جی ایل ڈی اے نے زر خرید غلامان کی طرح ہر غیر قانونی زبانی حکم کی تعمیل کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام ٹیپا سے کرائے گئے جو کہ ٹریفک انجئنرنگ و پلاننگ ایجنسی ہے جو مطلوبہ ترقیاتی کام کرانے کی مجاز نہ تھی۔ ٹیپا ایل ڈی اے کا ذیلی ادارہ ہے نہ کہ میونسپل سروسز کی تعمیر و مرمت کا۔بہر حال متعلقہ ادارے اس لاقانونیت اور سرکاری خزانے کو ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا سخت نوٹس لے کر اپنی کاروائی کا آغاز کریں اور ووٹ کی حقیقی عزت بحال کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابھی ایک پہلو ہے۔ اس بات کا متعین ہونا ابھی باقی ہے کہ آیا جو ڈھائی ارب روپے سرکاری خزانے سے نکلوائے گئے ہیں ان میں سے کتنے پیسے خرچ کئے گئے اور کتنے جیبوں میں ڈالے گئے؟ مزید یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ ایک ایک اسکیم کے فنڈز دو دو مرتبہ نکلوائے گئے۔مزید برآں الیکشن کے دوران غیر قانونی ترقیاتی کاموں کے دستاویزی اور تحریری ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں۔ سرکاری پیسے کے ناجائز استعمال اور خ±ردب±رد پر قانونی کاروائی کے لئے متعلقہ اداروں کو ریفرینس بھیجے جارہے ہیں۔