پاکستان، افغان امن عمل سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی مخلصانہ، مصالحانہ کاوشیں بروئے کار لا رہا ہے،شاہ محمود قریشی کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی کی کامیابی کا انحصار، معاشی استحکام کے ساتھ وابستہ ہے، ہم نے معاشی روابط کے فروغ کیلئے ’معاشی سفارت کاری‘ کا آغاز کیا جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں، پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ …

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی کی کامیابی کا انحصار، معاشی استحکام کے ساتھ وابستہ ہے، ہم نے معاشی روابط کے فروغ کیلئے ’معاشی سفارت کاری‘ کا آغاز کیا جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں، پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت تمام عالمی فورمز پر موثر انداز میں اجاگر کیا، پاکستان، افغان امن عمل سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی مخلصانہ، مصالحانہ کاوشیں بروئے کار لا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نےنیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں زیر تربیت سول و عسکری افسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات اور چیلنجز پر مفصل روشنی ڈالی۔انہوں نے خارجہ پالیسی کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے،وژن ایف او کے تحت اٹھائے گئے اقدامات سے بھی شرکا کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کی کامیابی کا انحصار، معاشی استحکام کے ساتھ وابستہ ہے، ہم نے معاشی روابط کے فروغ کیلئے’معاشی سفارت کاری‘ کا آغاز کیا جس کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے شرکاءکو آگاہ کیا کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت تمام عالمی فورمز پر موثر انداز میں اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغان امن عمل سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی مخلصانہ، مصالحانہ کاوشیں بروئے کار لا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج خطے میں قیام امن کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو عالمی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے۔ وزیر خارجہ نے خطاب کے بعد زیر تربیت افسران کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے مفصل اور تسلی بخش جوابات بھی دیئے۔