پاکستان اقوام متحدہ کے قیام امن مشن میں سالہا سال سے مسلسل سب سے بڑا اور موثر کردار اداکرنے والا ملک رہا ہے، آئی ایس پی آر

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اقوام متحدہ کے قیام امن مشن میں سالہا سال سے مسلسل سب سے بڑا اور موثر کردارادا کرنے والا ملک رہا ہے جہاں اس کے فوجی دستون نے شورش زدہ معاشروں میں حالات معمول پر لانے، امن و امان کو برقرار رکھنے اور انتخابات کی نگرانی کے ذریعے سیاسی اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنایا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی …

اسلام آباد۔24اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اقوام متحدہ کے قیام امن مشن میں سالہا سال سے مسلسل سب سے بڑا اور موثر کردارادا کرنے والا ملک رہا ہے جہاں اس کے فوجی دستون نے شورش زدہ معاشروں میں حالات معمول پر لانے، امن و امان کو برقرار رکھنے اور انتخابات کی نگرانی کے ذریعے سیاسی اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنایا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے امن کار فوجی دستوں کو عالمی سطح پر عالمی رہنماوں اور اقوام متحدہ کی قیادت کی طرف سے بھر پور سراہا گیا ہے۔ پاکستانی امن فوج نے اقوام متحدہ کے ساتھ خدمات انجام دینے کی ایک طویل اور منفرد تاریخ رقم کی ہے جس کا اعتراف اقوام متحدہ کے سیکر ٹری جنرل انتونیو گوئتریس اور عالمی رہنماوں کی طرف سے کیا گیاہے۔ پاکستان نے دنیا کے تقریبا ً تمام براعظموں کے 28 ممالک اوراقوام متحدہ کے 46 مشنوں میں 2 لاکھ فوجی اہلکاروں کے ذریعے قیام امن میں اپنا موثر کردار ادا کیا ہے۔ دنیا کے کل کے لئے اپنے آج کی قربانی دینے کے جذبے کے ساتھ ، اقوام متحدہ کی نگرانی میں شورش زدہ خطوں میں انسانیت کی مدد کرنے اور امن کو بحال کرنے کے نیک مقصد کے لئے 158 پاکستانی امن فوجیوں نے 24 افسران سمیت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بین الاقوامی سطح پر امن و سلامتی کو فروغ دینے کے لئے اقوام متحدہ کے ساتھ ہماری وابستگی کی جڑیں بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وژن سے وابستہ ہیں، جو اقوام متحدہ کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے دنیا کی اقوام میں امن و خوشحالی کے فروغ کے لئے پاکستان کے عزم کو مستحکم کرتی ہیں۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پاکستان نے 30 ستمبر 1947 کو اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی جس سے ایک ایسے روشن دور کا آغاز ہوا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ کے قیام امن آپریشن کے لئے ہمارے تعاون کا آغاز 1960 میں ہوا جب پاکستان نے کانگو میں اقوام متحدہ کے آپریشنز کے لئے اپنا پہلا دستہ تعینات کیا۔ اس پیش قدمی کے بعد گزشتہ 60 سالوں میں دنیا بھر میںاقوام متحدہ کے مشن تکمیل میں پاکستان سب سے بڑا معاون رہا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے مظاہر کا کوئی ہم پلہ نہیں ہے۔ اس وقت ، پاکستان کے امن فوجی کانگو ، وسطی افریقی جمہوریہ ، جنوبی سوڈان ، دارفور ، صومالیہ ، مغربی صحارا ، مالے اور قبرص میں تعینات ہیں جہاں وہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے سرشارامدادی کارروائیوں، پائیدار امن واستحکام کے فروغ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ ایک محفوظ اور پرامن دنیا کی تشکیل یقینی بنائی جاسکے۔ سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کی ملکی مانگ کے باوجود پاکستان کی متنوع قیام امن مشنوں میں مسلسل شرکت اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کی تکمیل کے لئے ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے عظیم اقدامات بالخصوص قیام امن کے اسٹریٹجک جائزہ ، امن کاری کی صلاحیت کی تیاری کے نظام کے ذریعے فورس جنریشن اور سکریٹری جنرل اور اقدام برائے امن (4 اے پی) کی کوششوں کو بھرپور سراہتا ہے اور حمایت کرتا ہے۔ پسماندہ معاشروں کے مسائل کے حل کے لئے ، پاکستان نے صنفی برابری اور امن مشنوں میں خواتین کی نمائندگی پر توجہ مرکوز کی ہے۔ پاکستان سلامتی مشنوں میں خواتین کی ٹیمیں تعینات کرنے والا پہلا ملک ہے۔ اس وقت اس مقصد کے تحت 47 خواتین آفیسرز کو یو این مشن کانگو اور کار 8 میں تعینات کیا گیا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے ادارہ جات اور بین الاقوامی قیام امن مشنوں کے تربیتی اداروں میں دوست ممالک کو شامل کرنے کے لئے ایک وسیع تر بیرونی رسائی پروگرام بنایا ہے۔ دو طرفہ سرگرمیوں میں 5 ممالک میں 19 تربیت کار تبادلہ کے پروگرام، 7 بین الاقوامی تربیتی اداروں کے اشتراک کار سے مرکز برائے بین الاقوامی امن و استحکام کی تنظیم سازی، اقوام متحدہ کی خواتین کے ساتھ نسٹ، یو این او سی ایچ اے، یو این ایچ سی آر اور یو این آئی ٹی ایس کے پروگرام شامل ہیں۔